کولواہ: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ڈاکٹر زریپ بلوچ اغوا کے بعد قتل

بلوچستان کے علاقے کولواہ میں نوجوان ڈاکٹر زریپ بلوچ کو پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ مسلح گروہ کے ہاتھوں اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ڈاکٹر زریپ بلوچ کو گزشتہ شام اپنی دکان سے اغوا کیا گیا، اور شام 7 بجے ان کی لاش برآمد ہوئی۔

بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر زریپ بلوچ کولواہ کے علاقے ریکچائی کے رہائشی تھے اور محمد یعقوب کے بیٹے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 21 مئی کو بھی اسی علاقے سے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ساجد بلوچ ولد مستری ناصر نامی شخص کو رات کے وقت اغوا کیا تھا، اور صبح ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

کولواہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں متعدد افراد کو پاکستانی فوج اور ان کے حمایت یافتہ عناصر کے ہاتھوں ہلاک کیا جا چکا ہے، جو علاقے میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

خاران شہر میں بلوچ آزادی پسندوں کا کنٹرول، شدید جھڑپیں جاری

جمعرات جنوری 15 , 2026
خاران: علاقائی ذرائع کے مطابق سینکڑوں بلوچ آزادی پسند موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں خاران شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آزادی پسندوں نے شہر کے مختلف علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور متعدد سرکاری دفاتر اور پولیس تھانوں پر […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ