تحریر: رامین بلوچ

دل مراد بلوچ کا مضمون "الفاظ سے پرے” میری نظروں سے گزرا۔ میں فوراً پڑھنے بیٹھ گیا۔ڈیجیٹل دنیا ہے، اسکرین پر پڑھنے میں وہ لطف نہیں ملتا جو کسی فزیکل میگزین یا ہارڈ کاپی میں پڑھنے سے ملتا ہے۔ بہرحال، ہم سب اس ڈیجیٹلائزیشن کا حصہ ہیں اور ہم روزانہ اسکرین پر ٹرولنگ کرتے ہوئے ہیں۔ اب تو اسکرین کی عادت ہو گئی ہے۔ کتابوں کی جو نیچرل نکوٹین ہے، اس سے قدرے کم سہی، یہ اگرچہ مصنوعی ہے لیکن اب قلم سے لکھنے کے بجائے کی بورڈ کی عادت ہو چکی ہے۔کاغذ اور قلم کی جگہ اسکرین اور کی بورڈ نے لے لی ہے۔ قلم سے لکھنے میں اب انگلیوں میں لرزش اور ناتوانی اس حد تک آ گئی ہے کہ جب بھی میں قلم سے کینوس پر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو ایک عجیب ارتعاشی بےترتیبی پیدا ہو جاتا ہے۔ نہ تو سیدھی لائن میں لکھا جا سکتا ہے اور اگر لکھ بھی لیا جائے تو ممکن ہے کہ لکھنے والے کے علاوہ کوئی اور نہ پڑھ سکے۔ "لکھے موسیٰ، پڑھے عیسیٰ” والی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ کی بورڈ پر لکھنے میں کم از کم اٹھارہ سال کی مشق ہو چکی ہے۔
اب آتے ہیں دلمراد بلوچ کی مضمون "الفاظ سے پرے” پر، جو محض خیالات کا بہاؤ نہیں بلکہ ایک فکری اضطراب کی سنجیدہ اور پیچیدہ تمثیل ہے، جس میں وجود، تاریخ اور شعور کے باہمی تعلق کو ایک تنقیدی زاویے سے دیکھا گیا ہے۔
یہ تحریر اپنے جوہر میں عہدِ حاضر کے اس فکری بحران کی عکاسی کرتی ہے جس میں "حال” کو اس شدت سے مرکزیت دی جا رہی ہے کہ "ماضی” محض ایک واہمہ یا بیانیہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ لکھاری نے نہایت باریک بینی سے اس رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ کس طرح تاریخ کے تسلسل کو توڑ کر ایک مصنوعی "اب” تخلیق کیا جا رہا ہے، جہاں ہر شے کی ابتدا بھی حال میں ہے اور انتہا بھی حال میں۔
یہاں ہیگل کے نظریۂ تاریخ کی طرف اشارہ دراصل ایک بڑے فکری بیانیے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ہیگل کے نزدیک تاریخ ایک معقول اور جدلیاتی عمل ہے جو تضادات کے ذریعے ارتقا پذیر ہوتا ہے مگر زیرِ نظر مضمون اس جدلیاتی تسلسل کے انقطاع پر سوال اٹھاتی ہے، گویا یہ دعویٰ کیا جا رہا ہو کہ تاریخ کی یہ معقولیت اب ایک فریب بن چکی ہے۔اسی طرح نطشے کا حوالہ "حقائق نہیں ہوتے، صرف تاویلات ہوتی ہیں” تحریر کے مرکزی استدلال کو مزید گہرا کرتا ہے۔ لکھاری اس نکتے کو محض دہراتا نہیں بلکہ اسے عصرِ حاضر کے فکری جبر سے جوڑ دیتا ہے، جہاں تاویل کو اس مہارت سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ خود "حقیقت” کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں قاری نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ ایک طرح کے فکری انقیاد میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔
تحریر کا سب سے مضبوط پہلو اس کا اسلوب ہے، جو بیانیہ کم اور مکالمہ زیادہ محسوس ہوتا ہے، جس میں خیالات خود اپنے خلاف صف آرا ہیں۔ تاہم، یہی اسلوب بعض مقامات پر ابہام کو بھی جنم دیتا ہے، جہاں قاری کو یہ تعین کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ لکھاری کسی واضح مؤقف کی طرف بڑھ رہا ہے یا محض اضطراب کی کیفیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
علمی سطح پر یہ مضمون اس خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر تاریخ کو محض "بیانیہ” قرار دے کر رد کر دیا جائے تو نہ صرف مشترکہ شعور کی جڑیں کمزور پڑتی ہیں بلکہ حال کی تفہیم بھی سطحی ہو جاتی ہے کیونکہ حال، ماضی کے بغیر، محض ایک معلق لمحہ بن جاتا ہے جس کی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے اور نہ کوئی سمت۔یہ مضمون ہمیں ہر پہلو اور زاویے سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا ہم واقعی تاریخ کے تسلسل میں زندہ ہیں یا محض ایک ایسے "اب” میں قید ہو چکے ہیں جو خود کو ہی ابتدا اور انتہا قرار دیتا ہے۔
"الفاظ سے پرے” ایک ایسا مضمون ہے جو گہرائی سے پڑھنے کا متقاضی ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے الہامی اسلوب کا معترف ہوئے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں، کیونکہ ہر اگلا جملہ پہلے جملے کے بغیر نامکمل اور ادھورا محسوس ہوتا ہے۔پوری تحریر کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ لکھاری انتہائی بے ساختگی سے نہ صرف الفاظ کے ذریعے استدلال قائم کر رہا ہے بلکہ الفاظ اور جملوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اُس "علمی جبر” کو بے نقاب کر رہا ہے جو عصرِ حاضر میں "حقیقت” کے نام پر مسلط کیا جا رہا ہے۔
ابتدا ہی سے کالم ایک شدید تنقیدی زاویہ اختیار کرتا ہے، جہاں لکھاری اس رجحان پر ضرب لگاتا ہے کہ کس طرح بعض اہلِ دانش اپنے بیانیے کو "خدائی صداقت” کے درجے پر فائز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تحریر کا مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ جب اظہار، اظہار نہیں رہتا بلکہ "حکم” بن جاتا ہے تو قاری کی حیثیت ایک فعال فاعل سے گھٹ کر محض ایک منفعل مفعول میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں "مشعل فوکالٹ” کے نظریۂ "طاقت و علم” کی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ علم کبھی غیر جانب دار نہیں ہوتا بلکہ طاقت کے ڈھانچوں کے اندر تشکیل پاتا ہے اور انہی کی بقا کو یقینی بناتا ہے۔لکھاری نے بڑی مہارت سے اس "بیانیاتی جبر” کو واضح کیا ہے، جہاں الفاظ کو اس طرح برتا جاتا ہے کہ وہ سوال کو جنم دینے کے بجائے اسے ختم کر دیں۔ اس تناظر میں یہ کالم محض تنقید نہیں بلکہ تنقید پر تنقید کا نمونہ بن جاتا ہے، کیونکہ یہ اُن فکری ساختوں کو چیلنج کرتا ہے جو خود کو ناقابلِ سوال بنا چکی ہیں۔
اس تحریر میں "ابتدا” اور "عدم” کے تصورات کو جس انداز میں برتا گیا ہے، وہ نہ صرف مابعد الطبیعیاتی بحث کو چھیڑتا ہے بلکہ قاری کو ایک وجودی مخمصے میں بھی ڈال دیتا ہے۔ یہاں مرزا غالب کا شعر ایک اہم intertext کے طور پر سامنے آتا ہے، مگر لکھاری اس کلاسیکی تصور کو الٹ کر پیش کرتا ہے، جہاں "عدم” کو تخلیقی قوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، گویا "کن” کی تمثیل کو انسانی دعووں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہو۔ یہ اس امر کی علامت ہے کہ جدید بیانیے کس طرح الوہیت کے استعارے مستعار لے کر اپنی قطعیت کو مضبوط کرتے ہیں۔اسی طرح فرانز فینن کا حوالہ کالم کو ایک نوآبادیاتی تناظر فراہم کرتا ہے، جہاں تاریخ سے بیگانگی کو محض فکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ فینن کے مطابق جب محکوم اقوام کو اُن کے تاریخی تسلسل سے کاٹ دیا جائے تو اُن کی مزاحمتی قوت مضمحل ہو جاتی ہے۔ دل مراد بلوچ اسی نکتے کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ باور کراتے ہیں کہ "ہر نسل کو ابتدا ثابت کرنے” کا بیانیہ دراصل تسلسل کے انہدام کا ایک خطرناک ہتھکنڈہ ہے۔
کالم کا اسلوب اگرچہ بلند آہنگ، استعاراتی اور بعض اوقات ثقیل معلوم ہوتا ہے، مگر یہی اس کی جمالیاتی قوت بھی ہے۔ یہ اسلوب قاری کو محض مطالعہ نہیں کرواتا بلکہ اسے ایک فکری کشمکش میں مبتلا کرتا ہے۔ تاہم، بعض مقامات پر یہی اسلوب معنی کی ترسیل میں رکاوٹ بھی بن جاتا ہے، جہاں ابہام شدت اختیار کر لیتا ہے اور استدلال جذباتی شدت کے نیچے دب جاتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کالم عصرِ حاضر کے اُس فکری بحران کی نشاندہی کرتا ہے جہاں "حقیقت” کو بیانیے کے ذریعے ازسرِ نو تشکیل دیا جا رہا ہے اور اس تشکیل میں طاقت، علم اور زبان کا گٹھ جوڑ نمایاں ہے۔ دل مراد بلوچ کی یہ تحریر ایک انتباہ ہے کہ اگر سوال کرنے کی روایت دم توڑ دے تو علم، علم نہیں رہتا بلکہ ایک مقدس جبر میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ آیا ہم تاریخ کے تسلسل کا حصہ ہیں یا محض کسی مسلط کردہ "ابتدا” کے اسیر۔
مضمون اپنے اسلوب، استعاروں اور فکری تہہ داری کے اعتبار سے معاصر نثری تنقید کا ایک قابلِ توجہ نمونہ ہے، جہاں تحریر اظہاریہ سے بڑھ کر ایک تہذیبی اور شعوری بحران کا نوحہ بن کر ابھرتی ہے۔ اس میں بالخصوص جو تمثیلات سامنے آتی ہیں، منٹو کے افسانوی استعارے سے لے کر "طیارے کے پائلٹ” کی فرضی صورتِ حال تک، وہ محض ادبی آرائش نہیں بلکہ ایک فکری تشویش کی علامت ہیں۔
منٹو کے افسانے "ٹوبہ ٹیک سنگھ” کا حوالہ یہاں نہایت بامعنی انداز میں برتا گیا ہے۔ منٹو کے ہاں پاگل پن دراصل تقسیم کے سیاسی و تہذیبی جنون کا استعارہ تھا مگر دل مراد بلوچ اس استعارے کو ایک نئے تناظر میں منتقل کرتے ہیں، جہاں "حکم” حقیقت کا تعین کرتا ہے۔ یوں "ٹوبہ ٹیک سنگھ” کی لا مکانی ایک ایسے فکری خلا میں بدل جاتی ہے جہاں ماضی اور حال دونوں اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں اور صرف وہی معتبر ٹھہرتا ہے جسے "صادر” کیا جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مضمون مشعل فوکالٹ کے تصورِ طاقت و علم کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہے، مگر محض تکرار کے طور پر نہیں بلکہ ایک تخلیقی توسیع کے طور پر۔ یہاں طاقت نہ صرف علم کو تشکیل دیتی ہے بلکہ وجود (being) کی تعریف بھی اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ "پائلٹ” کی تمثیل اسی طاقت کی انتہائی صورت ہے، جہاں اختیار اس حد تک مطلق ہو جاتا ہے کہ حقیقت، تاریخ اور حتیٰ کہ وجودِ انسانی بھی اس کے اعلان کا محتاج بن جاتا ہے۔
کالم کا مرکزی استدلال دراصل "نفی” کے فلسفے کے گرد گھومتا ہے، مگر یہ نفی محض مابعد الطبیعیاتی نہیں بلکہ تہذیبی اور سیاسی ہے۔ یہ وہ نفی ہے جو تاریخ کے تسلسل کو منقطع کر کے ہر نئی نسل کو ایک "مصنوعی ابتدا” میں قید کر دیتی ہے۔ اس تناظر میں فرانز فینن کی فکر کی بازگشت نمایاں ہے، جہاں وہ خبردار کرتے ہیں کہ محکوم اقوام کو اگر ان کے تاریخی شعور سے کاٹ دیا جائے تو ان کی مزاحمت کی بنیادیں ہی منہدم ہو جاتی ہیں۔یہ کالم اپنی شدتِ اظہار اور استعاراتی کثافت کے باعث ایک خاص وقار رکھتا ہے۔ "پائلٹ” کی مثال، "نفی کی چھری” اور "بلاغت کا آلۂ انکار” جیسے پیکر نہ صرف قاری کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتے بلکہ اسی شدت کے باعث بعض مقامات پر مضمون خطی استدلال (linear argument) سے ہٹ کر ایک جذباتی و علامتی بہاؤ میں داخل ہو جاتی ہے، جہاں معنی کی تعیین قاری پر چھوڑ دی جاتی ہے۔
کالم ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے اگر ماضی، تاریخ اور اجزائے ترکیبی سب نفی کر دیے جائیں تو "میں” اور "ہم” کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ یہ سوال محض وجودی نہیں بلکہ مشترکہ شناخت کا سوال ہے۔ یہاں تحریر ہمیں اس نکتے پر لا کھڑا کرتی ہے کہ شناخت، تسلسل کے بغیر ممکن نہیں اور تسلسل کی نفی دراصل خودی کی نفی ہے۔مجموعی طور پر، مضمون بیانیاتی جبر، تعبیراتی آمریت اور تاریخی انقطاع کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے۔ یہ محض تنقید نہیں بلکہ ایک تنبیہ ہے کہ اگر ہم نے "ابتدا” کو ہر بار ازسرِ نو خلق کرنے والوں کے حوالے کر دیا تو نہ ماضی بچے گا، نہ حال معتبر رہے گا اور نہ ہی مستقبل کوئی معنی رکھے گا۔
مضمون میں مصنف نے منٹو کا روپ لے کر خطی استدلال کے بجائے منٹو کے مسند پر جگہ پالیتا ہے۔ منٹو جس طرح افسانوی دنیا میں ایک خالق کا کردار ادا کرتا ہے، بالکل اسی طرح مضمون نگار مروجہ بیانیات سے بغاوت کرتے ہوئے "الفاظ سے پرے” ایک ایسی بلیک ہول اور بگ بینگ کی تھیوری پیش کرتا ہے جو الفاظ سے پرے کائنات کو خلق کرتی ہے۔
منٹو ادبی دنیا میں صرف افسانہ نگار کے طور پر نہیں بلکہ انسانی شعور کے ایک حساس نگراں کے طور پر مامور ہے۔ اس کی تحریریں، اس کے کردار اور اس کے جملے سب ایک گہرے فلسفیانہ اور اخلاقی سوال کے اردگرد گھومتے ہیں۔
منٹو نے انسانی دکھ کو کبھی کسی معاشرتی درجہ بندی یا سیاسی طاقت کے کھیل کی صورت میں محسوس نہیں کیا۔ وہ اسے اشرافیہ کے بناوٹی سیاست دان کی طرح نہیں دیکھتا، بلکہ ہر انسان کے اندر موجود خاموش درد، ہر رنجیدہ دل اور ہر چھپی ہوئی امید کی حسیت کے ساتھ جڑتا ہے۔ اس کے لیے انسان وہی ہے جو اپنے اندر ایک مکمل دنیا چھپائے ہوئے ہے، جس میں خواہشات، خوف اور تخلیقی کرب کی بارش ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے کہا:
"ایک جائز خواہش کو مارنا سب سے بڑی موت ہے، انسان کو مارنا کچھ نہیں؛ اس کی فطرت کو ہلاک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔”یہ جملہ حقیقت میں انسانی وجود اور تخلیق فن کی بنیاد پر فلسفیانہ بم کی مانند اثر رکھتا ہے۔ منٹو کے نزدیک، خواہش انسان کی تخلیقی روح کا نچوڑ ہے؛ یہی خواہش اسے زندگی کے رنگ، کرب اور جمالیات کے حسین تضاد سے جوڑتی ہے۔ جب یہ خواہش ختم کر دی جاتی ہے تو انسان کے وجود کا وہ حصہ ختم ہو جاتا ہے جو اسے مکمل، حساس اور تخلیقی بناتا ہے۔
منٹو کی تحریروں میں فلسفہ اور فکشن اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ ہر کردار، ہر منظر اور ہر تشبیہ انسانی شعور کے مختلف گوشوں کو چھوتی ہے۔ اس کی تحریریں، نہ صرف کہانی ہے بلکہ آئینہ ہے جو قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کی تحریر وں میں درد اور جمالیات کی یکجہتی ایک نازک مگر طاقتور توازن پیدا کرتی ہے، جو صرف تجربے اور حساس مشاہدے سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
"الفاظ سے پرے” کا اختتامی حصہ اپنی فکری شدت، جمالیاتی رمزیت اور وجودی کرب کے اظہار کے اعتبار سے ایک خاص معنویت رکھتا ہے۔ یہاں تحریر محض تنقید یا استدلال کے دائرے میں مقید نہیں رہتی بلکہ ایک ایسے داخلی مکالمے میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں مایوسی، امید اور شعور باہم ایک پیچیدہ رقص میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔جوش ملیح آبادی کے شعر کا حوالہ "خدا تو سینکڑوں ملتے ہیں، پیغمبر نہیں ملتا”مضمون نگار کے فکری افق کو ایک نئی جہت عطا کرتا ہے۔ یہ شعر محض مذہبی استعارہ نہیں بلکہ اس عہد کے فکری انتشار کی علامت ہے، جہاں دعوے بہت ہیں مگر رہنمائی مفقود ہے، آوازیں بے شمار ہیں مگر صداقت کی وہ وحدت ناپید ہے جو سمت کا تعین کر سکے۔ مضمون میں یہ شعر ایک علامتی کسوٹی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کہ موجودہ بیانیاتی فضا میں "خدائی دعوے” تو عام ہو چکے ہیں، مگر "پیغمبرانہ بصیرت” یعنی رہنمائی، حکمت اور اخلاقی جرات کمیاب ہے۔
اسی تسلسل میں مایوسی اور امید کا جو جدلیاتی تعلق مصنف نے قائم کیا ہے، وہ نہایت قابلِ غور ہے۔ یہاں مایوسی کو محض نفی یا شکست کے طور پر نہیں بلکہ ایک تخلیقی امکان کے طور پر دیکھا گیا ہے،گویا یہ فریڈرک نیطشے کے اس تصور سے ہم آہنگ ہے جہاں زوال ہی نئی تخلیق کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ مصنف کے نزدیک یہ "وجودی کرب” دراصل ایک ایسی داخلی کشمکش ہے جس سے گزر کر ہی کوئی حقیقی امید جنم لے سکتی ہے۔ یہ امید سطحی تسلی نہیں بلکہ ایک گہری شعوری بیداری کا نتیجہ ہے۔مرزا غالب کے شعر”بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، نہ سمجھے خدا کرے کوئی”کا حوالہ اس تحریر کے داخلی انتشار اور فکری پیچیدگی کو مزید واضح کرتا ہے۔ "جنوں” دراصل تخلیقی اضطراب کی علامت ہے، جو مضمون نگار نے اسی اضطراب کو عہد کے فکری بحران سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔
اگرچہ عہدِ حاضر میں تاریخ، تسلسل اور اجزائے ترکیبی کی نفی ایک فیشن بن چکی ہے، مگر اسی نفی کے بطن میں ایک نئی ترکیب کا امکان بھی پوشیدہ ہے۔ یہ وہی تصور ہے جسے جدلیاتی انداز میں سمجھا جا سکتا ہے کہ انکار، اگر محض انکار نہ رہے بلکہ شعوری سطح پر ایک نئی تشکیل کی طرف بڑھے تو وہ تخریب کے بجائے تعمیر کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کالم کا اسلوب اپنی شدت، استعاراتی کثافت اور فکری بوجھ کے باعث عام قاری کے لیے قدرے دشوار ہو سکتا ہے۔ بعض مقامات پر تحریر اس قدر علامتی ہو جاتی ہے کہ مفہوم تک رسائی ایک فکری مشقت کا تقاضا کرتی ہے۔ مگر یہی اس کی ادبی قوت بھی ہے، کیونکہ یہ قاری کو محض پڑھنے نہیں دیتی بلکہ اسے سوچنے، رکنے اور خود سے سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
مجموعی طور پر، یہ تحریر تاریخ کی حرکت اور تضاد کی تصادم سے جنمے روشن حال میں انکار، نفی اور خود ساختہ قطعیت کے اندھیرے میں امید کی اُس لرزاں کرن کو تلاش کرتی ہے جو شاید ابھی پوری طرح روشن نہ ہو مگر اپنی موجودگی سے یہ یقین ضرور دلاتی ہے کہ اندھیرا حتمی نہیں۔
