جنیوا: اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں ڈاکٹر نسیم بلوچ کا خطاب، پاکستان پر جی ایس پی پلس نظرثانی کا مطالبہ

جنیوا میں اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک اہم سائیڈ ایونٹ منعقد ہوا، جس میں عالمی سطح پر پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور انسانی حقوق کی پابندیوں کا جائزہ لیا گیا۔

یہ تقریب 25 مارچ 2026 کو “پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس: انسانی حقوق کی مشروطیت، معاہداتی ذمہ داریاں اور احتساب” کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ ایونٹ کا اہتمام ایکشن فار ایجوکیشن، سوشل اینڈ فیملی ایمپاورمنٹ (AESFE) نے کیا جبکہ CAP Liberté de Conscience اور Global Human Rights Defence شریک منتظمین میں شامل تھے۔

تقریب میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن Barbara Bonte، بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ، برطانوی نژاد پاکستانی سیاسی رہنما ذلفی بخاری سمیت مختلف بین الاقوامی شخصیات، سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے ماہرین نے شرکت کی۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ کا خطاب

اپنے خطاب میں ڈاکٹر نسیم بلوچ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مظالم اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ یورپی یونین جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر فوری نظرثانی کرے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے عوام کے لیے انسانی حقوق کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں، تشدد اور سیاسی آوازوں کو دبانے جیسے اقدامات جاری ہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں افراد لاپتہ کیے جا چکے ہیں جن میں سیاسی کارکن، طلبہ، صحافی اور عام شہری شامل ہیں۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے دعویٰ کیا کہ 2025 میں جبری گمشدگیوں کے 1355 جبکہ ماورائے عدالت قتل کے 229 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ رواں سال مارچ تک بھی متعدد ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے “مارو اور پھینکو” پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی لاپتہ افراد بعد میں مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں ملتے ہیں۔

انسانی حقوق اور جی ایس پی پلس

مقررین نے زور دیا کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو حاصل تجارتی مراعات انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسانی حقوق کی شرائط پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو اس پروگرام کی افادیت پر سوال اٹھتا ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے عالمی برادری، خصوصاً یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی انسانی حقوق کی صورتحال کا شفاف اور سنجیدہ جائزہ لے اور اس عمل میں آزاد تنظیموں، سول سوسائٹی اور متاثرہ خاندانوں کو شامل کیا جائے۔

سیاسی صورتحال پر اظہار خیال

خطاب میں پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کو قانون کی حکمرانی کے لیے تشویش ناک قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کسی ایک حکومت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل ریاستی پالیسی کا حصہ رہی ہیں، اور وقت کے ساتھ اس کے اثرات ملک کے دیگر حصوں تک بھی پھیل رہے ہیں۔

اختتامی پیغام

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر نسیم بلوچ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے عوام کی آواز بنے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کسی رعایت کے نہیں بلکہ انصاف، آزادی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حق خود ارادیت کے طالب ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی معاہدے کبھی بھی انسانی حقوق کو نظرانداز کرنے کا ذریعہ نہیں بننے چاہئیں، اور اگر جی ایس پی پلس کی شرائط کا کوئی حقیقی مطلب ہے تو اسے عملی طور پر نافذ کیا جانا چاہیے

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پاکستان بلوچستان میں بنگال طرز کی ریاستی کارروائیاں دہرا رہا ہے۔ رحیم بلوچ ایڈووکیٹ

جمعرات مارچ 26 , 2026
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بنگلہ دیش یومِ نسل کشی کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں وہی ریاستی طرزِ عمل دہرا رہا ہے جو 1971 میں […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ