
بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کلی کاریز سور میں عید الفطر کی چاند رات ایک واقعہ پیش آیا، جہاں اہل خانہ کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متاثرہ خاندان نے انصاف کی فراہمی کے لیے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق واقعہ رات تقریباً تین بجے پیش آیا، جب ایف سی اہلکار مبینہ طور پر بغیر کسی پیشگی اطلاع یا قانونی جواز کے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے محمد عامر ولد دل مراد کو زبردستی گھر سے باہر نکالا اور بعد ازاں فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران نہ کوئی سرچ وارنٹ دکھایا گیا، نہ ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کے ثبوت پیش کیے گئے۔ ان کے مطابق خوشی کے موقع پر اس طرح گھر میں گھس کر ایک نوجوان کو قتل کرنا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
مقتول کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شدید دکھ اور کرب کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو انتہائی مشکلات اور محنت سے پالا، مگر چند لمحوں میں ان کا بیٹا ان سے چھین لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور انہیں خوف ہے کہ ایسے واقعات کسی کے ساتھ بھی پیش آ سکتے ہیں۔
اہل خانہ کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ایف سی اہلکار لاش کو اپنے ہمراہ لے گئے، جسے تقریباً 12 گھنٹے بعد واپس کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دوران ان سے ایک اسٹامپ پیپر پر زبردستی دستخط کروائے گئے، جسے پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مزید یہ کہ علاقے کے چند غیر تعلیم یافتہ معتبرین سے بھی بغیر متن بتائے دستخط لیے گئے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ اگر اس دستاویز میں ان کے خلاف کوئی بیان درج کیا گیا ہے تو وہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو غیر قانونی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
دوسری جانب اس واقعے پر تاحال فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔
علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور اگر کسی اہلکار کو قصوروار پایا جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
متاثرہ خاندان نے واضح کیا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کریں گے اور اس واقعے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آواز بلند کرتے رہیں۔
