
تحریر: این کیو بلوچ
بلوچستان کے علاقے خاران کی سرزمین ایک بار پھر آزادی کی جدوجہد کی ایک عظیم داستان کی گواہ بنی ہے۔ 15 جنوری 2026 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے قابض فوج کے خلاف ایک منظم، دلیرانہ اور تاریخی معرکہ انجام دیا، جس میں بلوچ فرزندوں نے دشمن پر شدید اور مہلک کاری ضربیں لگائیں۔ اس تاریخی معرکے میں سرمچار نہ صرف کئی گھنٹوں تک شہر کو اپنے کنٹرول میں رکھتے رہے بلکہ سخت سیکیورٹی حصار کے باوجود دشمن کے سینکڑوں ہتھیار اپنے قبضے میں لے کر اسے شدید جانی نقصان سے دوچار کیا۔ یہ معرکہ بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں ایک اہم باب ہے، جس میں بلوچ جنگجوؤں نے قربانیاں دے کر ثابت کیا کہ قابض پاکستانی فوج کو اس کے مراکز میں شکست دینا ممکن ہے۔
اس معرکے کا آغاز دوپہر ڈھائی بجے کے قریب ہوا۔ سرمچاروں کی ایک ٹیم نے خاران شہر کے سٹی پولیس تھانے پر حملہ کر کے اسے مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا۔ تھانے میں موجود تمام اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا، سرکاری اسلحہ اور عسکری سامان ضبط کر لیا گیا، اور قید میں رکھے گئے درجنوں بلوچ قیدیوں کو رہا کر کے انہیں آزادی کا پروانہ عطا کیا گیا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد تھانے کی مرکزی عمارت، ریکارڈ اور پولیس کی گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔
اسی معرکے کے دوران بلوچ سرمچاروں کے دوسرے دستے نے شہر کے مرکزی بازار میں داخل ہو کر نیشنل بینک، میزان بینک، الحبیب بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا اور ضلع خاران میں دشمن کے اقتصادی نظام کو شدید دھچکا پہنچایا۔
خاران شہر کے بازار میں ڈیتھ اسکواڈز کے کارندوں پر بھی حملے کیے گئے، جس سے دشمن کے خفیہ نیٹ ورک کو نقصان پہنچا۔ بلوچ سرمچاروں کی حفاظت کے لیے قربان یونٹ (یہ یونٹ ہمیشہ فرنٹ لائن میں لڑتا ہے) کے بہادر جنگجوؤں نے ریڈ زون میں ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ جب دشمن کی مدد کے لیے فوجی قافلہ پہنچا تو اس پر جدید ہتھیاروں سے شدید حملہ کیا گیا۔ تین فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں، فوج کے 15 اہلکار ہلاک ہوئے اور سرمچاروں نے ان کا اسلحہ قبضے میں لے لیا۔
اس حملے کے بعد دوسری جانب سے آنے والے ایک اور فوجی دستے کے ساتھ بلوچ سرمچاروں کی شدید جھڑپ ہوئی، جو تین گھنٹے تک جاری رہی۔ اس معرکے میں کئی فوجی اہلکار ہلاک، درجنوں زخمی اور دو بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ دشمن فوج نے اپنے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں میدانِ جنگ میں چھوڑ دیں۔ شام کو خاران کے علاقے کلان میں دشمن کی بڑی نفری، بشمول ایس ایس جی کمانڈوز کی ایک بٹالین، بکتر بند گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ مورچہ زن ہوئی۔
بلوچ سرمچاروں نے قریب سے حملہ کر کے تین گاڑیاں تباہ کر دیں، درجنوں اہلکار ہلاک کیے (جن میں آٹھ کمانڈوز بھی شامل تھے) اور اسلحہ قبضے میں لے لیا۔ اسنائپر ٹیکٹیکل اسکواڈ نے اپنی مہارت سے دشمن کے اسنائپرز اور ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا۔ نو گھنٹے کی اس طویل اور شدید جنگ میں پاکستانی فوج کے ونگ کمانڈر کرنل ودھان اور میجر عاصم سمیت بڑی تعداد میں فوجی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ پچاس سے زائد فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے معرکۂ خاران میں اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کے بعد محفوظ طور پر انخلا کیا۔ دشمن کے ڈرون حملوں میں بلوچستان کی سرزمین پر چار بہادر سرمچار شہید ہوئے، جن میں کیپٹن مبین بلوچ اور دیگر ساتھی شامل تھے۔ تین شہداء کی لاشیں میدانِ جنگ سے بحفاظت نکال کر بلوچ سرمچاروں نے راسکوہ کے دامن میں سپردِ خاک کیں۔
یہ معرکہ نہ صرف بلوچ قوم کے لیے قابلِ فخر ہے بلکہ دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ سرمچاروں نے کم وسائل کے باوجود دشمن کی بھاری نفری، بکتر بند گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کا مقابلہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ بلوچستان پر قبضہ اب زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گا۔ بلوچ سرمچار اپنے حملوں کے ذریعے دشمن فوج کی کمر توڑ رہے ہیں، اس کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں اور پاکستانی فوج کے مورال کو شدید ضرب لگا رہے ہیں۔
معرکۂ خاران آزادی کی منزل کی جانب ایک اور قدم ہے۔ یہ سفر بلوچستان کی آزادی تک جاری رہے گا، اور معرکۂ خاران مستقبل کے جنگجوؤں کے لیے ایک روشن مثال بنے گا، جبکہ بلوچ شہداء کی قربانیاں صدیوں تک یاد رکھی جائیں گی۔

