
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام تنظیم کے وائس چیئرمین اور معروف انسانی حقوق کے عظیم جدوجہد کار ماما قدیر بلوچ کی یاد میں کوئٹہ پریس کلب میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا۔ ریفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کی صدارت وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کی جس میں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایڈووکیٹ آغا حسن بلوچ، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق، بی وائی سی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر لالا وہاب بلوچ، پشتونخوا نیشنل ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سلیمان بازئی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل مزمل شاہ، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما زبیر آغا، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری محبت کاکا، بی ایس او پجار کے مرکزی وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ، بی ایس او کے کبیر بلوچ زونل صدر، ہزارہ ورکرز فورم کے ضامن چہانگیزی، بلوچ وومن فورم کی رکن سلطانہ بلوچ، وومن ڈیموکریٹک فرنٹ بلوچستان کی صدر ایڈووکیٹ فاطمہ خلیجی، انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کریم پرار، اطہر خان ہزارہ، سمیت دیگر نے شرکت کی۔
ریفرنس میں لاپتہ افراد کے لواحقین بھی شریک ہوئے، جن میں مٹھا خان مری کی اہلیہ، نعمت اللہ بلوچ کی والدہ، سعید احمد شاہوانی کی والدہ، محمود علی کی والدہ، فرید احمد کے بھائی، نسرینہ بلوچ، حیرانسا بلوچ، حانی بلوچ، فرید بلوچ اور مجاہد بلوچ کے اہلِ خانہ شامل تھے، جنہوں نے اپنے دکھ اور تکالیف کا اظہار کیا۔
مقررین نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایک سنگین انسانی بحران جنم لے چکا ہے، مگر ملکی آئین، قوانین اور عالمی ادارے بلوچ عوام کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ شرکاء نے ماما قدیر بلوچ کی طویل اور تاریخی جدوجہد کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پندرہ ہزار دنوں سے زائد عرصے پر محیط بھوک ہڑتالی کیمپ، کوئٹہ تا اسلام آباد لانگ مارچ اور عالمی فورمز پر بلوچ حقوق کے لیے آواز ہمیشہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔
تقریب کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ 1. تمام جبری لاپتہ افراد کو منظرعام پر لاکر قانون چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔ 2. جو بے قصور ہے انہیں رہا کیا جائے۔ 3. بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ 4. لاپتہ بلوچوں کی ماورائے قانون قتل کا سلسلہ بند کیا جائے۔ 5. جو جبری لاپتہ افراد اس دنیا میں نہیں رہے انکے خاندانوں کو معلومات فراہم کی جائے۔ 6۔ جبری گمشدگیوں کا مکمل سدباب کیا جائے اور جبری لاپتہ افراد کے مسلہ کے حل کے حوالے سے ملکی قوانین کے تحت عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ 7. جبری گمشدگیوں میں ملوث ریاستی اداروں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے اختیارات کو کم کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ 8. ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ شاہ جی بلوچ اور بیبگر بلوچ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی باعزت رہائی کو یقینی بنایا جائے۔ 9. بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔
آخر اس پوائنٹ کو بھی متفقہ طور پر قرارداد کا حصہ بنایا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور طلبہ تنظیمیں آپس کے اختلاف ایک طرف رکھ کر بلوچ قوم سمیت تمام محکوم و مظلوم عوام کے بنیادی حقوق کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بالخصوص جبری گمشدگیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کے حوالے سے عملی طور پر کردار ادا کریں۔
