
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے الگ الگ واقعات میں فائرنگ، لاش کی برآمدگی اور دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی جبکہ ایک شخص ہلاک پایا گیا، جبکہ ایک اور واقعے میں سابق لیویز اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
قلعہ عبداللہ میں جمعہ کے روز نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے سابق رسالدار لیویز اور ایس ایچ او علی محمد کاکوزئی شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
واقعے کے خلاف لواحقین اور مقامی افراد نے احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ-چمن شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث دونوں اطراف سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گرفتاری اور شفاف تحقیقات تک احتجاج جاری رہے گا۔
دوسری جانب مکران ڈویژن کے ضلع کیچ (تمپ) کے علاقے ملانٹ سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ مقتول کی شناخت نادل ولد رحمدل، ساکن کونشقلات تمپ کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق لاش کو اسپتال منتقل کر کے مزید کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
ادھر خضدار کے علاقے کرخ میں ایک چرواہا ہینڈ گرنیڈ پھٹنے سے زخمی ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق چرواہے کو ایک ہینڈ گرنیڈ ملا، جس پر اس نے پتھر مارا تو وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
