
تحریر: دانش بلوچ
اگر دیکھا جائے تو آج کل تُربت یونیورسٹی میں تعلیم کم اور دباؤ زیادہ ہے۔ یونیورسٹی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کو علم اور تربیت دی جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے تیار ہو سکیں، لیکن تُربت یونیورسٹی کی انتظامیہ موجودہ حالات میں طلبہ کو مناسب تعلیمی ماحول اور سہولیات فراہم نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اگر اساتذہ کی بات کی جائے تو وہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا سب سے اہم حصہ ہوتے ہیں۔ ایک استاد کے لیے بہتر طریقے سے پڑھانے کے لیے تجربہ کار ہونا ضروری ہے۔ عام طور پر کسی اسکول کے استاد کے پاس دس سال کا تجربہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کلاس سنبھالنے میں مکمل پختہ ہو۔ لیکن تُربت یونیورسٹی کے اساتذہ کی بات کی جائے تو اکثر ان کی دلچسپی طلبہ کو تعلیم دینے سے کم اور اپنے ذاتی مفادات میں زیادہ نظر آتی ہے۔ پچھلے سال پاس ہونے والے طلبہ کو ہی اس سال پڑھانے کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اگر ٹائم ٹیبل دیکھا جائے تو یہ طلبہ کے لیے بہت اہم ہوتا ہے، کیونکہ اس سے ان کے کام اور پڑھائی میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ پہلے کلاسز صبح 9:30 بجے سے شام 4 بجے تک ہوتی تھیں، جس کے دوران طلبہ کو لیکچرز کے علاوہ لائبریری جانے، گروپ اسٹڈی کرنے اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بھی وقت ملتا تھا۔ لیکن اب کلاسز صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کر دی گئی ہیں۔ اس کم دورانیے کی وجہ سے طلبہ کو اپنی پڑھائی اور دیگر کاموں کے لیے مناسب وقت نہیں ملتا، جس سے انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
لائبریری طلبہ کے لیے علم حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، جہاں وہ اپنی پڑھائی اور تحقیق پر توجہ دے سکتے ہیں۔ لیکن تُربت یونیورسٹی کی لائبریری صرف شام 4 بجے تک کھلی رہتی ہے اور اس کے بعد بند کر دی جاتی ہے۔ اس دوران لڑکوں کو اجازت ہے، لیکن لڑکیوں کو دوپہر 2 بجے کے بعد یونیورسٹی میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ باہر سے آنے والے طلبہ کلاس کے بعد واپس چلے جاتے ہیں اور ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ ہاسٹل چلے جاتے ہیں۔ لڑکیوں کے ہاسٹل میں کوئی اسٹڈی روم موجود نہیں ہے جہاں وہ سکون سے پڑھائی کر سکیں۔ لڑکوں کے ہاسٹل میں ایک اسٹڈی روم ہے، لیکن وہاں وائی فائی کی سہولت موجود نہیں ہے۔
تُربت یونیورسٹی کی بسیں اب عام لوکل بسوں جیسی ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ کا روزانہ کا سفر نہ صرف مشکل بلکہ پریشان کن بھی بن گیا ہے۔ بسوں کی کمی اور بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ہاسٹل میس کا کھانا ناقص ہے اور بعض اوقات ناقابلِ برداشت محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کھانا انسانوں کے لیے نہیں بلکہ جانوروں کے لیے تیار کیا گیا ہو۔ میس میں نہ صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی معیاری کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ معدے کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
اگر طلبہ کسی مسئلے پر بات کریں یا انتظامیہ سے سوال کریں تو انہیں ریسٹگیٹ یا ڈراپ کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ بعض اوقات طلبہ کے اہلِ خانہ کو فون کرنے کی بھی دھمکی دی جاتی ہے تاکہ طلبہ میں خوف پیدا کیا جا سکے اور وہ اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھائیں۔ اس طرح کے رویے طلبہ کے تعلیمی ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے تحفظ اور اعتماد کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
