
کوئٹہ کے نواحی علاقے میں واقع تکتو نیشنل پارک میں خشک سالی کے اثرات کے باعث قدرتی چشمے اور آبی ذخائر خشک ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں موجود 500 سے زائد مارخور اور دیگر نایاب جنگلی حیات کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف بلوچستان شریف الدین بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ میں گزشتہ تقریباً دو سال کے دوران معمول سے کم بارشوں کے سبب تکتو نیشنل پارک کے قدرتی آبی ذخائر خشک ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے جنگلی حیات کے لیے پانی کی دستیابی کو مشکل بنا دیا ہے۔
سیکرٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات عبدالفتح بھنگر نے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائف نے خشک سالی کے پیش نظر پارک میں خصوصی اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت پینے کے پانی کا بندوبست کیا جا رہا ہے اور پانی کو قدرتی گروہوں اور دیگر مقامات پر ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگلی حیات تک پانی پہنچانے کے لیے محکمہ کے اہلکار کندھوں اور گدھوں کی مدد سے پانی پہنچا رہے ہیں، اور نایاب حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے پارک میں اضافی وسائل کی فوری ضرورت ہے۔
شریف الدین بلوچ نے مزید کہا کہ تکتو نیشنل پارک کوئٹہ اور پشین کے علاقے بوستان میں 33,421 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ اس پارک میں مارخور، بھیڑیا، چنکارہ ہرن، دیگر جنگلی حیات اور پرندے موجود ہیں، جو بلوچستان کے نایاب حیاتیاتی وسائل میں شمار ہوتے ہیں۔
