
ئیڈیا-مند انسٹیٹیوٹ میں پانچویں سالگرہ اور بلوچ ثقافت کے موضوع پر ایک شاندار، منظم اور رنگارنگ تقریب منعقد کی گئی، جسے ادارے کے طلبہ و طالبات نے پیشہ ورانہ انداز میں ترتیب دیا۔ پروگرام میں تعلیمی سرگرمیوں، ثقافتی فنون اور تخلیقی اظہار نے اسے ایک یادگار تقریب بنا دیا۔
تقریب کا آغاز طلبہ کے تعارفی حصے سے ہوا، جس کے بعد بچوں نے ڈرامہ، تقاریر، نعت، اسماء الحُسنیٰ کی تخلیقی پیشکش، کوئز مقابلہ، بلوچی بَتَل، اور بلوچ تاریخ و ثقافت پر معلوماتی پریزنٹیشنز پیش کیں۔ ان سرگرمیوں میں جدید تدریسی طریقوں، اسٹیج مہارت، زبان کے درست استعمال، ٹیم ورک اور ثقافتی آگاہی کو نمایاں طور پر سراہا گیا۔
پروگرام کا اہم حصہ بلوچ علمی ورثے پر مبنی تحقیقی تقاریر پر مشتمل تھا، جن میں سیّد ظہور شاہ ہاشمی اور ملا فاضل کی زندگی، لغوی خدمات اور بلوچ زبان کی ترویج کے لیے ان کی جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ تقاریر مروا بلوچ، ماریا بلوچ، تسلیما بلوچ، خدیجہ بلوچ اور سانیا بلوچ نے محنت اور تحقیق کے ساتھ پیش کیں، جنہیں حاضرین کی جانب سے خوب پذیرائی ملی۔
تقریب میں سماجی و تعلیمی حلقوں کی معزز شخصیات نے شرکت کی جن میں ماسٹر حلیم ستار، ماسٹر وسیم بلوچ، ماسٹر شہزاد اسلم، ماسٹر اسلم بلوچ، ماسٹر محمد یونس، ماسٹر عبدالاحد مسعودی، ADEO میڈم بدریہ، ڈاکٹر عائشہ ستار، وقیب جمعہ، صغیر سلام، پیر جان مقبول، وہیم بلوچ اور مروان مندی سمیت دیگر مہمان شامل تھے۔ مہمانوں نے بچوں کی کارکردگی اور ادارے کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوان نسل میں ثقافتی آگاہی، خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو تحائف پیش کیے گئے، جبکہ پرتکلف عشائیے نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔
اختتامی خطاب میں اکیڈمی کے ڈائریکٹر ماسٹر نبیل مجید بلوچ نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو زبان، ثقافت اور جدید تعلیم کے ساتھ جوڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ آئندہ بھی اس طرح کی علمی و ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھے گا تاکہ طلبہ نہ صرف اپنی روایات سے وابستہ رہیں بلکہ جدید دنیا کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔ آخر میں انہوں نے تمام مہمانوں، والدین، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا اور تقریب کو ادارے کے مضبوط وژن کا عملی ثبوت قرار دیا۔
