
پاکستانی فورسز نے پسنی اور گوادر میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران دو افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گذشتہ روز پاکستانی فورسز نے پسنی کے علاقے جیونی کے قریب پانوان گاؤں میں ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں اہلکاروں نے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
چھاپے کے دوران فورسز نے سید محمد ولد شاہو کو حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ ذرائع کے مطابق سید محمد اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں اور بعد میں بازیاب ہوئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی خاندان کے کم از کم پانچ افراد سید محمد کلمتی، نوربخش کلمتی، جلیل کلمتی، علی نواز کلمتی اور فارق کلمتی مختلف اوقات میں حراست کے بعد لاپتہ کئے جاچکے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی سے تعلق رکھنے والے نوجوان اشرف سولنگی ولد عجب خان سولنگی کو پاکستانی فورسز نے گوادر میں حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اشرف سولنگی گزشتہ چار سے پانچ دن سے لاپتہ ہیں۔ وہ گوادر میں پٹرول کا کاروبار کرتے تھے۔ اہل خانہ اور مقامی ذرائع نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد فورسز کی جانب سے نوجوان کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اہل خانہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ اشرف سولنگی اور دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔
