
تحریر:رامین بلوچ
زرمبش مضمون
ایک تامل گیت کے مطابق بھگت سنگھ کسی فرد کا نام نہیں بلکہ انقلاب کا نام ہے۔ بالکل اسی طرح ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک تحریک بن چکی ہیں۔ یہ ایک مستند حقیقت ہے کہ تاریخ کے کچھ کردار اپنے وجود سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ گوشت پوست کے جسم میں قید نہیں رہتے بلکہ اپنے نظریات، کردار، عزم اور ثابت قدمی کے باعث جیل کی کوٹھڑیوں میں بھی ایک پوری تحریک کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ڈاکٹر ماہ رنگ کسی ایک خاندان، قبیلے، تنظیم یا پارٹی کی نمائندہ نہیں، بلکہ پوری بلوچ قومی تحریک کی ترجمان ہیں۔ ان کی گرفتاری اور ریاستی جبر کے سامنے ان کی استقامت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کی لڑائی نہیں لڑ رہیں، بلکہ ایک ایسی مزاحمتی قوت ہیں جو آنے والی نسلوں کو اپنے حقِ آزادی، حقِ شناخت اور حقِ زندگی کے لیے کھڑا ہونا سکھا رہی ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ نے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ بلوچ عورت صرف گھریلو دائرے تک محدود کردار نہیں رکھتی، بلکہ وہ بھی مزاحمت، سیاست اور انقلاب کی قیادت کر سکتی ہے۔ ان کی جدوجہد نے بلوچ تحریک میں خواتین کی موجودگی کو حاشیے سے نکال کر محاذِ جدوجہد کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ آج بلوچ سماج میں بیٹی اور بہن کا تصور محض پردے اور چادر تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ میدانِ مزاحمت میں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھی گلزاری بلوچ، بیبو بلوچ، شاہ جی بلوچ اور بی برگ بلوچ گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے ریاستی حراست میں ہیں۔ گزشتہ دو ماہ سے انہیں بار بار ریمانڈ پر پیش کیا جا رہا ہے اور ہر پیشی پر مزید ایام کی سزا دی جا رہی ہے۔ دراصل یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے پاس ان کے خلاف لگائے گئے من گھڑت الزامات کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔ اسی وجہ سے ریاست نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو دیگر فرضی اورجھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کے لیے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری پیش کر کے کراچی کی ایک عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس ایف آئی آر کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے، اس کا مدعی خود کراچی کے قائد آباد تھانے میں قید ایک منشیات فروش ہے۔
اگر انصاف کو انسانی وقار اور آزادی کے پیمانے پر پرکھا جائے تو سب سے پہلا سوال یہ ابھرتا ہے کہ ریمانڈ دراصل کیا ہے اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟ اصولی طور پر ریمانڈ کا مقصد محض تفتیش اور شواہد جمع کرنا ہے، مگر جب ریمانڈ دنوں سے بڑھ کر مہینوں تک طول پکڑ لے تو یہ انصاف کے بجائے ریاستی جبر اور بوکھلاہٹ کا آلہ بن جاتا ہے۔ یہ محض ایک قانونی اصطلاح نہیں رہتی بلکہ ایک سیاسی حربہ بن جاتی ہے، جس کے ذریعے ریاست اپنی کمزوری کو چھپانے اور اپنے نوآبادیاتی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جب قابض ریاست کسی تحریک یا آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے میں ناکام رہتی ہے تو وہ "قانون” کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ریمانڈ کو بار بار بڑھانا اس بوکھلاہٹ اور خوف کا مظہر ہے جو کسی مزاحمتی تحریک کی مقبولیت سے جنم لیتا ہے۔ریاستی جبر کے اس پورے منظرنامے میں عدالت ایک غیر جانبدار ادارہ نہیں رہتی بلکہ ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتی ہے۔ جج کی مسند پر بیٹھا شخص ایک خودمختار فیصلہ ساز نہیں رہتا، بلکہ ایک روبوٹ کی مانند ہوتا ہے جو اوپر سے آنے والے اسکرپٹ کو دہراتا ہے۔ یہ اسکرپٹ "قانون کی بالادستی” کے پردے میں لکھا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اس کا مقصد نوآبادیاتی ڈسکورس کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کے مطابق ہر شخص کو منصفانہ سماعت، قانونی نمائندگی اور غیر معقول تاخیر کے بغیر ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ طویل ریمانڈ ان سب بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ خاص طور پر آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 14 اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی شخص کو بلاجواز حراست میں نہیں رکھا جا سکتا اور عدلیہ کو مکمل آزادی کے ساتھ فیصلہ دینا چاہیے۔ لیکن جب ریمانڈ ایک "سیاسی سزا” میں بدل جائے تو یہ عالمی قوانین کی روح کے منافی ہے۔قابض پاکستان سمیت وہ تمام ریاستیں جو نوآبادیاتی ورثے کے ساتھ وجود میں آئیں، آج بھی اسی ورثے کے عدالتی ڈھانچے کو اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں۔ برطانوی راج کے "پبلک سیفٹی ایکٹ” اور "ڈفنس آف انڈیا رولز” کی طرح آج بھی نام نہاد قوانین اور عدالتی طریقۂ کار کو انصاف کے بجائے مقبوضہ اقوام کی آواز دبانے اور ان کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ ہر محکوم اور مقبوضہ قوم نے آزادی کی جدوجہد میں جیل کی کوٹھڑیوں، ریمانڈ کے دنوں اور کٹھ پتلی عدالتوں کے فیصلوں کا سامنا کیا ہے۔ بظاہر یہ اذیت، بیڑیاں اور دیواروں کی سختی ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہی جبر تحریک کے لیے طاقت اور استقامت کا سرچشمہ بنتا ہے۔قید کا مقصد محض جسمانی آزادی کو چھیننا نہیں بلکہ انسان کے حوصلے، ارادے اور مزاحمتی شعور کو توڑنا ہوتا ہے۔ ریمانڈ کے دن اس ذہنی اور جسمانی اذیت کو طول دیتے ہیں تاکہ قیدی تھک کر اپنی مزاحمت سے دستبردار ہو جائے۔ لیکن مظلوم کے لیے یہ دن محض اذیت نہیں، بلکہ وہ ایک آئینہ ہوتے ہیں جس میں وہ اپنی قربانی کو تاریخ کے تسلسل سے جوڑتا ہے۔ عدالتیں جب نوآبادیاتی ڈھانچے کا کردار ادا کرتی ہیں تو انصاف نہیں بلکہ ریاستی جبر کی تائید کرتی ہیں۔ جج، کاغذ اور فیصلے سب مل کر اس اسکرپٹ کو دہراتے ہیں جس کا مقصد تحریک کو دبانا ہوتا ہے۔ مگر ہر بار جب ایک قومی جہدکار عدالت میں پیش ہوتا ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں ہوتا، بلکہ اپنے پیچھے کھڑی پوری قوم کی نمائندگی کرتا ہے۔ یوں عدالتی کارروائیاں بھی مزاحمتی ڈسکورس کا حصہ بن جاتی ہیں۔
قید کے کوٹھڑی، ٹارچر سیل اور ریمانڈ کے دن بظاہر محض تکلیف دہ تجربے ہیں، لیکن یہی تجربے تحریک کے لیے علامتوں میں بدل جاتے ہیں۔ یہ علامتیں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں اور نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ نیلسن منڈیلا کی ستائیس سالہ قید، بھگت سنگھ کا پھانسی گھاٹ پر جانا، یا بلوچ سرزمین کے مزاحمتی کارکنان کی جبری گمشدگیاں یہ سب بتاتے ہیں کہ جیل کی کوٹھڑیاں قیدی کے لیے اذیت گاہ ہو سکتی ہیں، مگر تحریک کے لیے یہ چراغ کی مانند ہیں جو آنے والی نسلوں کے راستے روشن کرتے ہیں۔ اس میں کوئی تردد نہیں کہ ریمانڈ کا غیر معقول استعمال ریاست کی کمزوری اور خوف کا اعتراف ہے۔ یہ عدلیہ کی کٹھ پتلی حیثیت کو عیاں کرتا ہے۔ مگر تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ ہر نوآبادیاتی ہتھکنڈا آخرکار مزاحمت کے شعلے کو مزید بھڑکاتا ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہونے والا یہ سلوک اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، جو بالآخر قومی بیداری اور آزادی کی راہوں کو روشن کرتا ہے۔
تاریخ کے ہر گوشے میں وہ گرفتاری، وہ جیل خانہ، وہ طویل قید جس کا مقصد محض کسی تحریک کو دبا دینا تھا، دراصل تحریک کی توانائی کو نیا رخ دیتی رہی ہے۔ بلوچ مزاحمت کے مختلف ادوار میں دانشوروں، لکھاریوں، صحافیوں، سیاسی اور جنگی قیدیوں، نوجوانوں، طلبہ اور خواتین کی قید و بند اور جبری گمشدگیاں جملہ تاریخ کے روشن باب ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ جبر وقتی طور پر اذیت ناک ہو سکتا ہے، مگر آزادی کے آدرش، انسانی وقار کے اصول اور عدل کی طلب کو کبھی ختم نہیں کر سکتا۔
یہ گرفتاریاں، یہ قید و بند، یہ اذیت خانے ہر رکاوٹ کے باوجود مزاحمت کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔ ہر جیل خانہ، ہر تاریک سیل، ہر نوٹس اور وارنٹ دراصل تحریک کے لیے روشنی کی ایک کرن ثابت ہوا ہے۔ قید و بند، جبر و ظلم استعماری طاقت کی عارضی علامتیں ہیں، مگر حقیقت میں انسانی فکر، حوصلہ اور عزم وقت اور حالات کی قید سے آزاد رہتا ہے۔یقیناً، کالونائزر وقتی طور پر کسی آواز کو دبا سکتے ہیں، یا سیاسی سرگرمیوں کو کمیوفلاج کر سکتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جان سکتے کہ تاریخ میں مزاحمت کے بیج کس طرح اگتے ہیں۔ ہر ظلم، ہر گرفتاری تحریک کے نئے جہان کے لیے ایک اکسیر کا کام کرتی ہے۔ یہی مزاحمت کی روح ہے۔ یہ روح خاموش نہیں ہو سکتی، یہ دم نہیں توڑتی، اور ہر جبر کے بعد اور بھی مضبوط ہو کر ابھرتی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک ادارہ ہیں ایک زندہ اور متحرک تحریک جو بلوچ عورت کی پدرشاہی بندشوں اور محدود اور پسماندہ روایتوں کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ علامت صرف چادر اور چار دیواری کے محدود دائرے سے باہر نکل کر ایک نئی جہت پیدا کرتی ہے، اور دنیا کو یہ دکھاتی ہے کہ بلوچ عورت بھی مزاحمت کے محاذ پر صفِ اوّل میں کھڑی ہے۔ان کی جدوجہد اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچ عورت کا وجود محض سماجی یا گھریلو حدود میں محصور نہیں، بلکہ وہ قومی، سیاسی اور فکری میدان میں اپنے آزادی اور شناخت کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کے کردار نے یہ واضح کیا ہے کہ مزاحمت صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ عمل اور حیات کا تسلسل ہے، جو ہر ظلم، ہر جبر اور ہر سامراجی نظام کے سامنے اپنی روشنی بکھیرتا ہے۔
یہ علامت بلوچ قوم کو یاد دلاتی ہے کہ حقیقی آزادی صرف مردوں کی جدوجہد سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ عورت کے شعور، حوصلے اور قربانی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ نے یہ سکھایا ہے کہ مزاحمت کا ہر عمل، چاہے وہ قلم سے ہو یا مزاحمتی احتجاج سے، چاہے وہ علم کی روشنی سے ہو یا سیاسی محاذ پر، ایک نئی امید اور ایک نئی قوت پیدا کرتا ہے، جو نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔یہ ایک فکری انقلاب ہے، ایک سماجی بغاوت ہے، اور ایک سیاسی بیان ہے کہ بلوچ عورت کے قدم مزاحمت کے محاذ پر، تاریخ کے سامنے، آزاد اور مستحکم کھڑی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کی صورت میں یہ علامت صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کی جرات، حوصلے اور آزادی کی تلاش کی نمائندگی کرتی ہے۔
ریاستی تشدد، قید و بند، ریمانڈ اور جبری گمشدگیوں کا ہتھیار صدیوں پرانا ہے۔ سامراج اور ریاستیں ہمیشہ یہ سمجھتی رہی ہیں کہ افراد کو جیلوں میں ڈال کر تحریک کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جیل کی سلاخیں صرف جسم کو قید کر سکتی ہیں، فکر اور نظریے کو نہیں۔ شہید حمید اور بابو نوروز کے ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی، لیکن وہ آج بھی کروڑوں بلوچوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ چی گویرا کو بولیویا کے جنگلوں میں مار دیا گیا، مگر وہ آج بھی ہر انقلابی آدرش میں زندہ ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھی اگرچہ ریاستی زندان میں ہیں، مگر وہ ایک تحریک کے طور پر بلوچ شعور اور قومی مزاحمتی تاریخ میں زندہ و تابندہ ہیں۔
قابض ریاستیں جب اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے طاقت، قید و بند اور جبر کا سہارا لیتی ہیں، تو بظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ مزاحمت کو کچلنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ مگر تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جبر ہمیشہ وقتی ہوتا ہے، جبکہ قربانی اور استقامت تحریکوں کو دائمی توانائی عطا کرتی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کی قید بھی اسی جدلیاتی حقیقت کی ایک زندہ علامت ہے۔ریاست نے شاید یہ گمان کیا کہ انقلابی افراد کو جیل کی تاریکیوں میں ڈال دینے سے ان کی آواز خاموش ہو جائے گی، لیکن یہ ریاست کی خام سوچ ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا؛ اس کے برعکس ہر ریمانڈ، ہر پیشی اور ہر اذیت کے بعد ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھیوں کے حوصلے کوہِ چلتن کی طرح بلند رہے۔مارکسی فکر کے مطابق ہر تحریک اُس وقت ناقابلِ شکست ہو جاتی ہے جب وہ افراد کے کندھوں سے نکل کر اجتماعی ضمیر کا حصہ بن جائے۔ بلوچ تحریک میں خواتین کی شمولیت اور قیادت بذاتِ خود ایک انقلابی موڑ ہے، اور ڈاکٹر ماہ رنگ کی استقامت اسی نئے عہد کی علامت ہے، جہاں عورت صرف سماجی کردار ادا نہیں کرتی بلکہ مزاحمت کی پہلی صف میں کھڑی ہو کر قابض کو چیلنج کرتی ہے۔
ریاستی جبر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف کھڑے ہونے والوں کو مٹانے کی کوشش میں دراصل انہیں امر کر دیتی ہے۔ قید یا موت انقلابی فکر کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے اور زیادہ شعلہ بنا دیتی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ اسی تاریخی تسلسل میں ایک نئی کڑی ہیں۔ ریاست جتنی سختی کرے گی، اتنی ہی یہ تحریک اپنے نظریاتی اور سیاسی پہلو میں مضبوط ہوگی۔ یہی مزاحمت کی منطق ہے: جبر، مزاحمت کو شکست نہیں دیتا بلکہ اُسے نظریاتی طور پر نکھارتا اور تاریخی طور پر امر کرتا ہے۔ڈاکٹر ماہ رنگ کا کردار ثابت کرچکا ہے کہ تحریکیں افراد سے شروع ضرور ہوتی ہیں، مگر وقت کے ساتھ وہ افراد تحریک میں ڈھل کر ناقابلِ شکست ہو جاتے ہیں۔ اور جب یہ مرحلہ آ جائے تو قابض قوتوں کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا سوائے اس اعتراف کے کہ اُن کا جبر ان کی سب سے بڑی شکست ہے۔
آج سے ڈیڈھ صدی پہلے چیانگ کائی شیک کی جیل میں قید ایک انقلابی رہنما یانگ سو نے چیانگ کائی شیک کو اپنی لازوال الفاظ کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا:
’’بیس سال قید!‘‘کاغذ کے ایک پرزے پر لکھے چند الفاظ کی بنا پر ممکن ہے کہ میں بیس سال تک سورج کی صورت نہ دیکھ سکوں، مگر سوال یہ ہے کہ تمہارا یہ فرسودہ نظام، جو لمحہ بہ لمحہ بجلی کی تیزی کے ساتھ اپنی موت کی طرف بڑھ رہا ہے، کیا واقعی بیس سال تک زندہ رہ سکے گا؟
یہ سوال محض یانگ سو یا ڈاکٹر ماہ رنگ کے قید و بند کا نہیں بلکہ تاریخ، سیاست اور انسانی آزادی کی جدوجہد کا سوال ہے۔ ’’بیس سال قید‘‘ اور ’’ریاستی جبر‘‘ ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی دو علامات ہیں؛ پہلی علامت استقامت اور انسانی حوصلے کی ہے، اور دوسری علامت زوال پذیر طاقت کی۔ تاریخ کی مسلسل گواہی یہ ہے کہ جبر کی ہر قید خانہ دراصل اس نظام کے لیے ایک نوشتۂ دیوار بن جاتی ہے جو خود اپنی ہچکولے کھاتے ناجائز قبضہ کے بحران میں گھرا ہوا ہو۔قید کا تصور نوآبادیاتی بیانیہ میں بظاہر شکست اور خاموشی ہے، لیکن حقیقت میں یہ آزادی کی زمین پر بویا جانے والا بیج ہے۔ یانگ سو نے کہا تھا کہ شاید وہ سورج کی شکل نہ دیکھ سکیں، مگر ان کا یقین تھا کہ نظام بیس سال زندہ نہیں رہے گا۔ یہی یقین آج بھی زندہ ہے: قید میں بند ہر ایک انقلابی جسم حقیقتاً اپنے وقت کا سورج اپنے اندر چھپا کر رکھتا ہے، اور وہ سورج کسی دن قید کی دیواروں کو توڑ کر پوری قوم کے افق پر طلوع ہوتا ہے۔
قابض ریاستیں اپنی گورکن خود تلاش کرتی ہیں اور اپنے تضادات کے زہر سے فنا ہوتی ہیں، مگر مزاحمت ہمیشہ نئی زندگی اور نئی آزادی کا در کھولتی ہے۔ آج بلوچ تحریکِ آزادی نے ریاست کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ موت اس کا مقدر بن چکی ہے۔ جبر، بربریت، جنگی جرائم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور نسل کشی سب مل کر قابض نظام کے زوال کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
کوئی بھی قابض ریاست، خواہ وہ عسکری طاقت، جبر و استبداد، یا عالمی طاقتوں کی سرپرستی سے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ دکھائی دے، بالآخر قومی شعور اور قومی آزادی کی جدوجہد کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قابض نظام اپنی قبر خود کھودتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی بربریت، جابرانہ پالیسیوں اور نسل کشی کے عمل کے ذریعے اپنے زوال کی زمین خود ہموار کرتا ہے۔
قابض قوتیں ہمیشہ اپنی عسکری اور انتظامی برتری پر نازاں رہتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ توپ و تفنگ اور جیل و کوڑے قوموں کو غلام بنائے رکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ تاریخ کا سب سے بڑا مغالطہ ہے۔ قابض ریاستیں جب کسی دوسرے قوم کی آزادی پر تسلط جماتی ہیں، ان کی سماجی، سیاسی، تاریخی،جغرافیائی اور بنیادی انسانی حقوق روند ڈالتی ہیں، تو وہ اپنی قانونی و اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ان کا زوال شروع ہوتا ہے۔
بلوچ سرزمین پر جاری جبر، قتل عام، جبری گمشدگیاں، وسائل کی لوٹ مار اور قومی نسل کشی وہ مجرمانہ اعمال ہیں جو پاکستانی ریاست کو ناگزیر طور پر شکست کی طرف لے جا رہے ہیں۔ الجزائر میں فرانسیسی استعمار، ہندوستان میں برطانوی سامراج، یا ویتنام میں امریکی طاقت یہ سب یہی سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ ہمیشہ کے لیے قابض رہیں گے، مگر جب اقوام نے اپنی آزادی کے خواب کو حقیقت بنانے کا عزم کیا تو کوئی طاقت ان کے راستے میں مستقل رکاوٹ نہ بن سکی۔ ہر دن جو ریاست جبر کے سہارے گزارتا ہے، وہ دراصل اس کی تاریخ کے آخری دنوں کی طرف ایک اور قدم ہے۔ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اسی استعماری ذہنیت کا تسلسل ہیں جس نے دہائیوں سے بلوچ قوم کو غلام بنانے کی کوشش کی ہے۔ قابض ریاست اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے "قانون” اور "ریاستی سلامتی” کے نام پر تشدد، جبری گمشدگی اور قید و بند کو ہتھیار بناتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہتھکنڈے بلوچ مزاحمت کو دبانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟ میرے دانست میں نہیں، ہرگز نہیں۔
بلوچ جہدکار قید خانوں میں بھی اپنی جدوجہد کو جاری رکھتے ہیں تو وہ محض فرد نہیں رہتے، وہ ایک تحریک بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ اور ساتھیوں کی اسیری محض چند افراد کی قید نہیں بلکہ پورے قومی تحریک کی گرفتاری ہے۔ تحریک کو قطعا گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ گرفتاری دراصل قابض قوت کے خوف کی علامت ہے، کیونکہ اگر ریاست کو اپنی طاقت پر اعتماد ہوتا تو وہ قلم اور فکر سے لڑنے والے دانشوروں اور رہنماوں کو زنجیروں میں نہیں ڈالتی۔یانگ سو کے لازوال الفاظ آج بھی درست ہیں: طاقت ور، نظر آنے والا استعمار دراصل اپنی موت کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ جبر اپنی انتہا پر پہنچ کر ٹوٹتا ہے اور ٹوٹ کر نئی آزادی کی راہیں ہموار کرتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کے ساتھی کتنا عرصہ قید میں رہیں گے، سوال یہ ہے کہ قابض ریاست اپنی موجودہ شکل میں کب تک قائم رہ سکے گی؟ یانگ سو کے بیس سالہ قید کے سوال کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، گویا وہ ہمیں یاد دلا رہا ہو کہ وقت حملہ آور کا نہیں، مزاحمت کار کا ہے۔ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان جیسے ہزاروں بلوچ اسیران دراصل تاریخ کے قیدی نہیں بلکہ مستقبل کے معمار ہیں۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک مرحلہ ہے۔ یہ مرحلہ اس وقت ختم ہوگا جب مقبوضہ بلوچ اپنی آزادی کی منزل کو پا لیں گے، اور حملہ آور اور قابض کا نظام تاریخ کے کچرے کے ڈھیر میں دفن ہو جائے گا۔