
کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام احتجاجی کیمپ 6133ویں روز بھی جاری رہا۔
مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ آج کے احتجاج میں کلی اسماعیل، کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محمد صدیق لانگو کے اہلِ خانہ نے بھی شرکت کی۔
اہلِ خانہ کے مطابق محمد صدیق لانگو کو 7 اپریل کی رات مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز نے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
اس موقع پر محمد صدیق لانگو کی اہلیہ نے وی بی ایم پی کے کیمپ سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا:
“میں تمام معزز صحافیوں کی مشکور ہوں کہ آپ ہماری آواز کو کوریج دینے آئے۔ میرے شوہر کو 7 اپریل کی رات تقریباً 12 بجے ہمارے گھر، کلی اسماعیل (کوئٹہ) سے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا۔ کئی دن گزر چکے ہیں مگر ہمیں ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی جا رہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ان کے خاندان کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بن چکی ہے، اور بچوں کے سوالات کا جواب دینا بھی ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے مزید کہا:
“پاکستان کا آئین ہر شہری کو بنیادی حقوق دیتا ہے۔ اگر میرے شوہر پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکیں، اور اگر وہ بے قصور ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔”
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بھی مطالبہ کیا کہ محمد صدیق لانگو سمیت تمام لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے یا انہیں فوری طور پر بازیاب کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کم ہو۔
