شہید واجہ غلام محمد بلوچ — ایک عہد، ایک روشنی

شہید واجہ غلام محمد بلوچ — ایک عہد، ایک روشنی

’’آندھیوں میں جلتا ہوا چراغ‘‘

تحریر: نصیر بلوچ

لہو سے تُو نے لکھی ہے وفا کی داستان

وطن کے نام کیا اپنا ہر اک خواب و ارمان

نہ جھک سکا تُو جبر کے اندھیروں کے سامنے

تیرا وجود بنا ہے مزاحمت کی پہچان

زباں پہ سچ تھا، آنکھوں میں تھا آزادی کا خواب

تُو نے سکھایا قوم کو قربانی کا نصاب

اگر جسم مٹ گیا تو کیا، نظریہ زندہ ہےتیرا

تیرا لہو ہے آج بھی ہر دل میں انقلاب

وہ دن بھی آئے گا کہ یہ زنجیریں ٹوٹیں گی

یہ سرزمین تیری یاد میں خوشبو سے مہکے گی

جو خواب تُو نے دیکھے تھے، وہ سچ میں ڈھلیں گے

تیری شہادت سے نئی صبحیں جنم لیں گی

سرزمین کی محبت کا دعویٰ تو ہر کوئی کرتا ہے، مگر اس محبت کا حق ہمیشہ چند ہی لوگ ادا کرتے ہیں — وہ لوگ جو اپنے لہو سے وفا کی داستان لکھتے ہیں، جو اپنے خوابوں اور ارمانوں کو وطن کے نام کر دیتے ہیں، جو جبر کے اندھیروں کے سامنے کبھی نہیں جھکتے اور اپنے وجود کو مزاحمت کی پہچان بنا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ صرف زندہ نہیں رہتے، بلکہ تاریخ بن جاتے ہیں۔ دنیا کی خوبصورتی میں انہی عظیم انسانوں کے پسینے کی خوشبو، ان کے خون کی چمک اور ان کی سوچ کی حرارت شامل ہوتی ہے۔ وہ خود مٹ جاتے ہیں، مگر اپنے پیچھے ایک ایسی روشنی چھوڑ جاتے ہیں جو نسلوں تک راستہ دکھاتی ہے۔وہ لوگ اپنے لہو سے تاریخ لکھتے ہیں ، جو اپنے وجود کو مٹا کر قوم کو زندگی دیتے ہیں آج وہ قومیں آزاد فضا میں سانس لیتی ہیں اور اپنے انہی سہدوں کو ہیروز کہہ کر فخر کرتے ہیں۔ ان کے نام پر چراغ جلتے ہیں ،ان کی یاد میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں ، اور دنیا بھی انہیں عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ دنیا کی خوبصورتی، اس کی آزادی، اور اس کے امن میں ان عظیم انسانوں کے پسینے کی خوشبو، ان کے خون کی چمک اور ان کی سوچ کی حرارت شامل ہیں ۔ وہ لوگ جو خود جل کر دوسروں کے لیے روشنی بنے۔ اسی طرح بلوچ سرزمین کی بقا اور زندگی کے لیے بے شمار بلوچ فرزندوں نے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔

وہ فرزند جنہوں نے بھوک، پیاس، سردی، گرمی، معاشی تنگدستی اور دشمن کے ہر ظلم کو سہہ کر بھی اپنے عزم کو کمزور نہ ہونے دیا۔ وہ جانتے تھے کہ آزادی کوئی لفظ نہیں، ایک مکمل فلسفہ ہے — ایک ایسا خواب جس کی تعبیر قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ انہی عظیم کرداروں میں ایک درخشاں اور ناقابل فراموش نام شہید واجہ غلام محمد بلوچ کا ہے ،جو بلوچ سرزمین کی شان، اور قوم کا فخر ہیں۔ ایک ایسا رہبر جس کی زبان پر سچ تھا، آنکھوں میں آزادی کا خواب تھا، اور دل میں قوم کے لیے بے پایاں محبت۔ وہ کہا کرتے تھے کہ آزادی کوئی خیرات نہیں، یہ قربانیوں سے حاصل ہونے والا حق ہے — اور اگر ہم دوسروں کو قربانی کا درس دیتے ہیں تو ہمیں خود اس کی پہلی مثال بننا ہوگا۔ یہ الفاظ محض تقریر نہیں تھے، بلکہ ایک عہد تھے — ایک ایسا عہد جسے انہوں نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں نبھایا۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی وہ اس احساس کے ساتھ جیتے رہے کہ غلامی صرف زنجیروں کا نام نہیں، بلکہ سوچ کی قید بھی ہے۔ وہ ہر جگہ، ہر محفل میں، ہر شہر میں — کوئٹہ سے کراچی تک، اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں تک — اپنے قوم کو بیدار کرتے رہے، انہیں یہ سکھاتے رہے کہ ڈر کے اس پار ہی آزادی کا راستہ ہے۔ وہ ایک چراغ تھے — ایسا چراغ جو آندھیوں میں بھی جلتا رہا، ایک صدا تھے — جو خاموشیوں میں بھی گونجتی رہی۔ انہوں نے قوم کو یہ ہنر سکھایا کہ سچ بولنا ہی اصل حوصلہ ہے، اور ظلم کے سامنے جھک جانا زندگی نہیں، بلکہ ایک خاموش موت ہے۔ انہیں کئی بار ٹارچر سیلوں میں ڈالا گیا، ان کے جسم کو اذیت دی گئی، مگر ان کے یقین کو کبھی زنجیروں میں نہیں جکڑا جا سکا۔ وہ ہر آزمائش کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر نکلتے تھے — واجہ غلام محمد بلوچ ایک نڈر، ثابت قدم اور اصولوں پر ڈٹ جانے والے رہنما تھے۔ وہ اپنے موقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ ریاستی جبر، دھمکیاں، قید و بند، اور اذیتیں — یہ سب ان کے لیے نئی بات نہیں تھیں۔

جیسے ہر زخم انہیں مزید پختہ کر رہا ہو۔ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز بی ایس او کے پلیٹ فارم سے کیا اور بعد ازاں بی این ایم کے چیئرمین کی حیثیت سے ایک منظم اور نظریاتی قیادت فراہم کی۔ ان کی قیادت میں تحریک نے ایک واضح نظریاتی سمت اختیار کی — ایسی سمت جو صرف احتجاج نہیں بلکہ آزادی کی مکمل جدوجہد کی طرف گامزن تھی۔مگر قابض قوتیں ہمیشہ شعور سے خوفزدہ رہتی ہیں — اور جب کوئی رہنما قوم کو جگا دے، تو وہ ان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔۔ اسی خوف کے تحت تین اپریل 2009ء کو تربت (کیچ) سے انہیں اوران کے دو نظریاتی ساتھیوں لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کے ہمراہ اغوا کیا گیا۔ اور نو اپریل کو ان کے تشدد زدہ لاشیں مرگاپ میں پھینک دی گئیں۔یہ ایک ایسا واقعہ جس نے بلوچ تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا، ایک ایسا باب جو ظلم کی انتہا اور مزاحمت کی بلندی دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر قابض قوتیں یہ نہ سمجھ سکیں کہ لاشیں پھینکنے سے نظریات نہیں مرتے، اور جسم ختم کرنے سے فکر کو نہیں دبایا جا سکتا۔واجہ غلام محمد بلوچ نے اپنی شہادت سے یہ ثابت کر دیا کہ: قربانی صرف کارکن کا فرض نہیں، بلکہ قیادت کا بھی اولین فریضہ ہے۔ انہوں نے اپنے قول اور فعل میں کوئی فرق نہیں رکھا۔ انہوں نے جو کہا، وہی کر کے دکھایا۔ انہوں نے جو سکھایا، خود اس پر عمل کیا۔ اسی لیے وہ صرف ایک لیڈر نہیں، بلکہ ایک معیار بن گئے — ایک ایسا معیار جس پر ہر آنے والی نسل اپنے رہنماؤں کو پرکھے گی۔ آج واجہ غلام محمد بلوچ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کا نظریہ، ان کی سوچ، اور ان کی قربانی بلوچ قومی تحریک کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔ ان کی شہادت نے تحریک کو کمزور نہیں کیا، بلکہ اسے ایک نئی زندگی دی، ایک نئی شدت دی، اور ایک نئی سمت عطا کی۔ وہ آج بھی زندہ ہیں — ہر اس نوجوان کے شعور میں، جو سوال کرتا ہے، ہر اس ماں کے آنسو میں، جو اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے، اور ہر اس خواب میں، جو آزادی کی روشنی سے روشن ہے۔ واجہ غلام محمد بلوچ گر کر بھی نہیں گرے — وہ ہر دل میں، ہر سوچ میں، ہر جستجو میں زندہ ہو گئے۔ آج بھی ہر ماں کی آنکھ کی نمی میں ان کی جھلک ہے، ہر نوجوان کے دل کی تپش میں ان کی آواز ہے، ہر اس خواب میں ان کی پہلی کرن ہے وہ ہمیں سکھا گئے کہ خاموشی بھی جرم ہے، اور بولنا ہر انسان کا حق ہے۔ وہ ہمیں آئینہ دکھا گئے کہ ہم کون ہیں، اور ہمیں کیا بننا ہے۔ انہوں نے نہ لالچ کو اپنے قریب آنے دیا، نہ خوف کو اپنے ارادوں پر غالب ہونے دیا۔ انہوں نے جو راستہ چنا، وہ مشکل ضرور تھا، مگر وہی راستہ سچ کا راستہ تھا، وفا کا راستہ تھا، آزادی کا راستہ تھا۔ جب انہیں قید کیا گیا، جب ان کے جسم کو اذیت دی گئی، تب بھی ان کی آنکھوں میں وہی روشنی تھی — ایک ایسی روشنی جو اندھیروں کو چیلنج کرتی ہے۔ اور جب ان کا جسم مٹی کے سپرد کیا گیا، تب تاریخ نے ایک اور باب لکھا — ایک ایسا باب جس میں یہ ثابت ہوا کہ شہادت انجام نہیں، آغاز ہوتی ہے۔ آج ان کا لہو ایک پکار ہے — ایک عہد ہے — کہ یہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ سفر ابھی جاری ہے۔ ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس شمع کو بجھنے نہ دیں، اس خواب کو مرنے نہ دیں، اور اس راستے کو ادھورا نہ چھوڑیں۔ کیونکہ کچھ لوگ صرف نام نہیں چھوڑتے — وہ زمانوں کو بدل دیتے ہیں۔ وہ خود تاریخ بن جاتے ہیں۔ اور واجہ غلام محمد بلوچ انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ ایک فرد نہیں، ایک تحریک ہیں۔ ایک لمحہ نہیں، ایک مکمل سلسلہ ہیں۔ ایک آواز نہیں، ایک قافلہ ہیں۔ اور جب بھی اندھیرا ہمیں گھیرنے کی کوشش کرے گا، ان کی یاد ایک چراغ بن کر ہمارے راستے کو روشن کرے گی — ہمیں یاد دلائے گی کہ آزادی قربانی مانگتی ہے، اور جو اس راستے پر چلتے ہیں، وہ کبھی مرتے نہیں۔ شہید واجہ غلام محمد بلوچ — ایک نام نہیں، ایک عہد ہے… اور یہ عہد ہمیشہ زندہ رہے گا۔، اور ایک ایسی مشعل ہیں جو اندھیروں میں بھی جلتی رہے گی۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اقوام متحدہ: بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اظہارِ تشویش

منگل اپریل 7 , 2026
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان، جہاں بڑے پیمانے پر غیر ملکی منصوبے جاری ہیں، انسانی […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ