ہماری قومی ہدف آزادی ہے، ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے — ڈاکٹر نسیم بلوچ، چیئرمین بی این ایم

بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کے جنیوا میں سالانہ اجلاس کے دوران ایک بین الاقوامی کانفرنس بعنوان:
"بلوچستان: اٹھہتر سالہ قبضہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور عالمی سطح پر احتساب کی ناکامی” منعقد کی گئی۔ یہ پارٹی کی عالمی سطح پر گیارہویں بین الاقوامی کانفرنس تھی، جو رائل ہوٹل جنیوا کے روسو کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں سیاستدانوں، تجزیہ کاروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ماہرین نے شرکت کی۔

یہ کانفرنس بلوچ مسئلے کے سیاسی اور انسانی پہلوؤں پر بحث کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر آگاہی اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔

عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ آج ہم ایک بار پھر بلوچ عوام کے خلاف اٹھہتر برسوں سے جاری ظلم، بربریت، نسل کشی، قومی شناخت سے انکار اور قومی وسائل کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور اپنی قومی آزادی کی جدوجہد میں ایک اہم سنگِ میل کو نشان زد کرنے کے لیے، یہاں جنیوا میں اکھٹے ہیں، جہاں اقوامِ متحدہ قائم ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہم ایک ایسے ہال میں جمع ہیں جس کا نام عظیم فلسفی اور ماہرِ عمرانیات Jean- ژاں ژاک روسوکے نام پر رکھا گیا ہے، جن کا معروف قول ہے”انسان آزاد پیدا ہوتا ہے، مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔” ہم، بلوچ، بطور انسان، بطور فرد اور بطور ایک قوم آج محکومی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ، اقوام کی ایک تنظیم ہے۔ اگرچہ بلوچ آج ایک ریاست نہیں ہےلیکن ہم ایک قوم کی ہر تعریف، معیار، اور پیمانے پر پورا اترتے ہیں۔ آج ہمارے پاس ریاست نہیں ہے، مگر ماضی میں ہمارے پاس ایک ریاست تھی، اور ہمیں یقین ہے کہ مستقبل میں ایک بار پھر ہماری اپنی ریاست ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بطور چیئرمین بلوچ نیشنل موومنٹ، میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں دنیا سے مخاطب ہو کر واضح طور پر کہوں کہ بلوچ قوم آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے۔ ہم اپنی اجتماعی بقا کے لیے خون بہا رہے ہیں۔ اگر آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں تو ہماری تکالیف میں کمی آ سکتی ہے اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہمارے پاس اپنے مقصد کے لیے مرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ میں واضح کرتا ہوں کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کا ہدف اور مقصد بالکل صاف ہے اور وہ بلوچستان کی آزادی ہے یہ ہماری اپنی سرزمین پر ہمارا بنیادی حق ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا بھی ایک اساسی حق ہے۔

ہم، جو یہاں اپنی سرزمین سے ہزاروں کلومیٹر دور جمع ہیں، اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پُرعزم ہیں جسے 1948 میں طاقت اور تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا تھا۔ ہماری سیاست محض احتجاج نہیں ہے، یہ ایک زندہ قوم، بلوچ کی قومی تحریک اور مقدمہ ہے۔ یہ وہ مقدمہ ہے جس کے لیے ہمارے ہزاروں نوجوان مرد و خواتین غیر اعلانیہ حراستی مراکز میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔ وہ تکلیف سہہ رہے ہیں، وہ مر رہے ہیں اور ان کی مسخ شدہ لاشیں واپس کی جا رہی ہیں۔
پاکستان نے حال ہی میں اجتماعی سزا کی ایک پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ میں واضح کر دوں کہ اگرچہ یہ اعلان حالیہ ہے، مگر اس پر عمل درآمد گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔ ہماری پوری قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے، ہمارے کیدرز اور اراکین کو اس کوشش میں قتل کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنی جدوجہد ترک کرنے پر مجبور کیا جائے لیکن قومی آزادی کی راہ ناقابلِ واپسی ہے، بلوچ قوم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ آج ہم اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ بلوچ قوم زندہ ہے، متحد ہے اور آزادی کے عزم میں ثابت قدم ہے۔

پاکستان نے بلوچستان سے بنیادی معاہدوں کی ہمیشہ خلاد ورزیاں کی ہیں۔ سردار اخترمینگل
سردار اختر مینگل، صدر بی این پی

بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ حالیہ نہیں ہے۔ یہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ یہ ایک طویل تاریخ کا نتیجہ ہے، ایک ایسی تاریخ جو پاکستان کی بنیاد کے ساتھ ہی شروع ہوئی۔ 1948 میں محمد علی جناح اور بلوچستان کی قیادت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ بالکل واضح تھی کہ بلوچستان کو خودمختاری، جس میں صرف تین أمور یعنی خارجہ امور، دفاع اور کرنسی پاکستان کے حوالے کیے جانے تھے مگر یہ معاہدہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند ہی مہینوں میں خانِ قلات، میراحمد یار خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ بہت سوں کے لیے یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا، یہ معاہدے کی پہلی خلاف ورزی تھی اور جب کسی معاہدے کی پہلی ہی شق کو پورا نہ کیا جائے تو اس کے بعد آنے والی ہر چیز کی بنیاد ہل جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کتنی وحشی ہے۔ منظور پشتین، صدر پشتون تحفظ موومنٹ

بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کہا بلوچ اپنے مسائل، لوٹ مار، ناانصافی، قتل و غارت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، تو انہیں غدار قرار دیا جاتا ہے۔ نہ صرف ان کے گھروں اور حقوق کے محافظوں کو مثال کے طور پر سزا دی جاتی ہے، بلکہ بلوچ شہریوں کو بھی ان کے اپنے وطن، بلوچستان کی زمین پر قتل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ اور ان کے ساتھی گمشدہ افراد، بلوچ گمشدہ افراد اور اصل قتل کے اعداد و شمار پیش کریں گے، تب کوئی بھی آسانی سے یہ جان سکتا ہے کہ یہ پاکستانی ریاست کتنی وحشی ہے۔

خودارادیت کسی بھی قوم کا بنیادی حق ہے۔ مرسے مونجے
بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے مرسے مونجے، یو این پی او کی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یو این پی او ایسی تنظیم ہے جو 35 سال سے زائد عرصے سے ان قوموں اور لوگوں کے ساتھ کام کر رہی ہے جن کی بین الاقوامی نظام میں مناسب نمائندگی نہیں ہے۔ ہم اقوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کام کرتے ہیں۔

آج کے ایونٹ کے عنوان میں دو اہم زاویے ہیں۔ قبضہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی۔ یعنی قومی سطح کا مسئلہ ہے اور آپ بین الاقوامی جوابدہی کی ناکامی کا ذکر کرتے ہیں، یعنی عالمی نظام کی سطح پر مسئلہ۔ میں اسی نقطے سے آغاز کرنا چاہتی ہوں۔

ہمارا بین الاقوامی نظام، خصوصاً اقوام متحدہ، ریاستوں پر مبنی نظام ہے۔ یہاں اقوام نہیں بلکہ ریاستیں نمائندگی رکھتی ہیں، اور لوگ، قومیں، پسِ پشت رہ جاتی ہیں۔ یہی صورتحال UNPO کے تمام اراکین کی ہے، جن کے پاس بین الاقوامی سطح پر شرکت، آواز یا انصاف حاصل کرنے کے مؤثر ذرائع موجود نہیں۔

بلوچ اور سندھی دونوں UNPO کے دیرینہ اراکین ہیں، اور یہ حقیقت ان کی جدوجہد میں واضح نظر آتی ہے۔ آپ سب منفرد قومیں ہیں، اپنی شناخت، تاریخ اور سیاسی حیثیت کے ساتھ، مگر آپ کو ان فیصلوں میں حقیقی شرکت حاصل نہیں جو آپ کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسائل جنم لیتے ہیں۔

جب قومی اور بین الاقوامی سطح پر شرکت کا حق چھین لیا جائے، تو خودارادیت بھی چھین لی جاتی ہے۔ UNPO کے نزدیک خودارادیت صرف کسی سیاسی نتیجے کا نام نہیں، یہ اس بنیادی حق کا نام ہے کہ قومیں اپنے سیاسی، معاشی، سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر طور پر شریک ہوں۔

پاکستان ایک ایک جرائم پیشہ، عسکریت زدہ، آمرانہ ریاست ہے۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ
بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کنگز کالج کے فیلو، محقق اور دانشور عائشہ صدیقہ نے کہا ہر سال بی این ایم یہ عظیم کوشش کرتی ہے کہ لوگوں کو اکٹھا کرے، آوازوں کو یکجا کرے تاکہ بلوچستان کو بھلایا نہ جائے، بلوچستان کو یاد رکھا جائے، بلوچستان کی تکالیف کو یاد رکھا جائے، اور عالمی برادری یہ نہ بھول جائے کہ ایک ایسا مسئلہ موجود ہے جو سانس لے رہا ہے، خون بہا رہا ہے اور جسے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

پاکستان ایک ایک جرائم پیشہ، عسکریت زدہ، آمرانہ ریاست ہے اور ہمیں اس پر بالکل واضح ہونا چاہیے۔ یہ بدقسمتی سے مکالمے پر یقین نہیں رکھتی۔ پاکستان میں مکمل طور پر فوج ہی قابض ہے، وہی فیصلہ ساز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی ریاست وقت کے ساتھ مزید سفاک ہو گئی ہے۔ میں نے بی این ایم کو قریب سے دیکھا ہے۔ میں ان کی میٹنگز میں شامل ہوئی ہوں۔ میں کئی بار یورپ کے مختلف حصوں میں بی این ایم کی دعوت پر آئی ہوں۔ اور ہر بار میں کچھ نہ کچھ سیکھتی ہوں، ہر بار مجھے کوئی نہ کوئی پیش رفت نظر آتی ہے لیکن میں یہ بھی کہوں گی کہ اب وقت ہے کہ آپ سب ذہنوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ایک زیادہ منظم حکمتِ عملی بنائیں اور سوچیں کہ اگلے دس سے پندرہ سال میں بلوچستان کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔

بلوچستان کا درد، گمشدگیاں، تشدد، اجتماعی قبریں حقیقی ہیں۔ بلوچستان مزاحمت سے آزاد ہوگا۔
اینڈی ورماٹ، ہیومین ڑائٹس اکٹوسٹ، صحافی اور چیئرپرسن آف پوسٹ ورسا
Andy Vermaut HR activist, journalist, Chairperson of PostVersa
بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے انسانی حقوق کے کارکن، صحافی، چیئرپرسن آف پوسٹ ورسا کے ایڈیٹر اینڈی ورماوٹ نے کہا جنیوا میں ڈاکٹر نسیم بلوچ کی دعوت پر یہاں خطاب کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ ہم اس شہر میں جمع ہیں جو قانون، ضمیر اور انسانی وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے، ایک ایسا شہر جہاں انصاف کی زبان معاہدوں، قراردادوں اور سنجیدہ اعلانات میں بولی جاتی ہے۔
اسی لیے میں نے یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کے GSP اسٹیٹس کے جائزے کی درخواست جمع کرائی ہے کیونکہ تجارت انسانی وقار کی قیمت پر نہیں ہو سکتی، بلوچستان ہمیں ایک اور سچ بھی یاد دلاتا ہے، جب مرد غائب کر دیے جاتے ہیں، تو عورتیں جدوجہد کو آگے بڑھاتی ہیں۔ بیٹیاں مارچ کرتی ہیں، بہنیں بولتی ہیں، مائیں ہار نہیں مانتیں۔ وہ تصویریں اٹھائے چلتی ہیں اور یادداشت کو مزاحمت بنا دیتی ہیں اور یہ مزاحمت اہم ہے کیونکہ کوئی قوم ہمیشہ کے لیے مٹائی نہیں جا سکتی۔ تاریخ غائب لوگوں کو نہیں بھولتی۔ تاریخ یاد رکھتی ہے اور تاریخ فیصلہ کرتی ہے۔ کوئی قبضہ ہمیشہ نہیں رہتا، کوئی ظلم ہمیشہ نہیں چلتا۔

جنیوا یہ بات سن لے، بلوچستان کا درد حقیقی ہے۔ گمشدگیاں حقیقی ہیں۔ تشدد حقیقی ہے۔ اجتماعی قبریں حقیقی ہیں۔ بچوں کا استحصال حقیقی ہے۔ اور عالمی برادری کی ناکامی بھی حقیقی ہے مگر بلوچوں کی ہمت بھی حقیقی ہے۔ ان کی آواز بھی حقیقی ہے۔ اور ان کا حقِ خودارادیت بھی حقیقی ہے۔ کوئی قبر انصاف کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتی۔ کوئی جیل کسی قوم کی یادداشت کو مٹا نہیں سکتی۔ کوئی تجارتی مراعات انسانی دکھ کو دھو نہیں سکتیں۔
بلوچستان یاد رکھتا ہے۔ بلوچستان مزاحمت کرتا ہے اور ایک دن بلوچستان آزاد ہوگا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اینا لورینا ڈیلگاڈیلو-پیریز

بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ برائے جبری یا غیر ارادی لاپتہ افراد (UN WGEID) کے رکن اور انسانی حقوق کی وکیل معروف اینا لورینا ڈیلگاڈیلو-پیریز نے کہا کہ میں اقوامِ متحدہ کے جبری یا غیر رضاکارانہ گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ کی رکن ہوں۔ اور مجھے یہاں آ کر خوشی ہو رہی ہے کہ میں آپ کے ساتھ ان خلاف ورزیوں میں سے کچھ شیئر کر رہی ہوں جنہیں جبری اور غیر رضاکارانہ گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ، اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر خصوصی طریقۂ کار، گزشتہ چند برسوں سے اب تک صوبہ بلوچستان میں دستاویز کر رہے ہیں۔
ہم نے بلوچ عوام کی مبینہ من مانی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں کے مبینہ واقعات اور ماورائے عدالت قتل، مبینہ حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور بلوچ عوام کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے انتظامی اور قانونی اقدامات کے غلط استعمال کو دستاویز کیا۔ اور ان چیزوں میں سے کچھ ہم نے ان مہینوں کے دوران احتجاجی مظاہروں یا عوامی مقامات پر بھی دستاویز کیں۔
جبری اور غیر رضاکارانہ گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ تاریخی طور پر بلوچستان کے علاقے میں کیسز کو دستاویز کرتا رہا ہے۔ لیکن ہمیں شدید تشویش ہے کیونکہ گزشتہ چند مہینوں اور پچھلے ایک سال کے دوران ہم نے اس علاقے میں جبری گمشدگیوں کے کیسز میں اضافہ بلکہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

یورپی یونین نے پاکستان کی GSP+ ذمہ داریوں کی عدم تعمیل پر ہمارا رپورٹ تجزیہ بطور ثبوت قبول کرلیا ہے۔ گیری کارٹ رائٹ
Gary Cartwright, publisher/editor of EU Today: ex-adviser to UK MEPs
بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے یورپی یونین ٹوڈے کے ایڈیٹر و پبلشر گیری کارٹ رائٹ نے کہا ہم گزشتہ تین دنوں سے UNHRC میں کانفرنس اور اس کے بعد مختلف سرگرمیوں میں شریک رہے ہیں۔ میں اس موقع کو استعمال کرنا چاہتا تھا کہ آپ سے بات کروں اور اپنے 64 سالہ تجربے اور مشاہدات کی بنیاد پر کچھ خیالات آپ کے ساتھ شیئر کروں، خاص طور پر سیاسی عمل اور انتخابات کی اہمیت کے بارے میں۔

ہم نے اپنی مہم میں ایک وائٹ پیپر تیار کیا ہے "پاکستان کی GSP+ ذمہ داریوں کی عدم تعمیل پر ایک تجزیہ، “ خوشی کی بات ہے کہ یورپی کمیشن کے ڈائرکتوریٹ جنرل اور ٹریڈ نے اسے اپنی آئندہ مشاورت کے لیے بطور ثبوت قبول کر لیا ہے۔ کئی سال تک ہمیں کوئی جواب نہیں ملا، مگر اس بار ہماری محنت رنگ لائی۔

انسانی حقوق کی مہم بھی دراصل ایک سیاسی مہم ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا جب لوگ آپ سے کہیں کہ آپ انسانی حقوق کے کارکن ہیں، سیاست میں نہ پڑیں تو یہ بات درست نہیں۔ انسانی حقوق سیاست ہیں۔ مہنگائی سیاست ہے۔ بچوں کی تعلیم سیاست ہے۔ سیکیورٹی سیاست ہے۔ ہر چیز سیاست ہے۔ جب ہم سیاست کی بات کرتے ہیں تو ہم انسانی حقوق کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ لوگ ان دونوں کو الگ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ بہت قریب ہیں۔ فرق صرف مقصد، حکمتِ عملی اور مدت میں ہوتا ہے۔

قیام پاکستان سے اجتماعی سزا کا سلسلہ جاری ہے۔ ہدایت بھٹو، ورلڈ سندھی کانگریس
بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے ورلڈ سندھی کانگریس کے رہنما ہدایت بھٹو نے کہا میں بلوچ نیشنل موومنٹ کو اس اہم اور بروقت کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ورلڈ سندھی کانگریس کی جانب سے، میں اس پلیٹ فارم پر ہمیں اظہارِ یکجہتی کا موقع دینے پر آپ کا شکر گزار ہوں۔ سندھ اور بلوچستان نہ صرف سرحدیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ رشتے بھی شیئر کرتے ہیں۔

آج ہم ایک اور گہرے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں، مشترکہ دکھ، ظلم کا درد، ریاستی تشدد کی بربریت، اور بنیادی حقوق کی مسلسل نفی۔ پاکستان کی ریاستی ایجنسیاں جو مظالم کرتی ہیں، وہ بلوچ اور سندھی دونوں قوموں کو یکساں طور پر متاثر کرتے ہیں۔

بلوچستان میں ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے اور بے شمار لوگ ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنے ہیں۔ اجتماعی قبروں کی دریافت، مسخ شدہ لاشوں کا ملنا، یہ سب ایک المناک مگر مسلسل حقیقت بن چکا ہے۔ پاکستان کے قیام کے آغاز سے ہی اجتماعی سزا کا سلسلہ جاری ہے۔ دیہاتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، خاندان تباہ کیے جاتے ہیں اور آوازوں کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔ ایک حالیہ مثال بی این ایم کے صدر ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد اور چچاؤں کا اغوا ہے، یہ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ ریاستی جبر کی پہنچ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ بلوچ عوام کی جدوجہد صرف مردوں نے نہیں اٹھائی۔ بہادر بلوچ خواتین اس جدوجہد کی صفِ اول میں کھڑی ہیں، غیر معمولی ہمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔

گلگت بلتستان اور بلوچستان فاصلے دور لیکن ہمارا دکھ، محرومیاں اور دشمن مشترکہ ہے۔ شیر باز خان، عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان
Sherbaz Khan, Awami workers Party
بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنما شیر باز خان نے کہا گلگت بلتستان اور بلوچستان کی صورتحال ایک جیسی ہے، ایک ہی طرح کا قبضہ، ایک ہی طرح وسائل کا منظم استحصال، اور بہت سے دوسرے مسائل جنہیں ہم دونوں خطے درد کے ساتھ جھیل رہے ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کی جانب سے، میں بی این ایم کی جدوجہد اور سرگرمیوں کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور یہ حمایت میں نے اپنے رہنما باباجان کی جانب سے بھی پیش کی ہے۔

شیرباز خان نے کہا کہ آج میں آپ کے سامنے اس عزم کے ساتھ کھڑا ہوں کہ ہماری جدوجہد کسی ایک خطے، ایک قوم یا ایک سرحد تک محدود نہیں، یہ انسانیت، انصاف اور آزادی کی ایک عالمی تحریک ہے۔ گلگت بلتستان اور بلوچستان سے جغرافیائی طور پر بہت دور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فاصلے کے باوجود ہمارا دکھ، ہماری محرومیاں، اور ہمارا مشترکہ استحصال (پاکستان) ہمیں ایک ہی زنجیر میں باندھتا ہے۔

آج ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنی آواز مزید بلند کریں گے، اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں گے اور دنیا کے سامنے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ہم جہاں بھی ممکن ہوا—ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ایک دوسرے کی آواز بنیں گے، اور اس جدوجہد میں مل کر آگے بڑھیں گے۔

بلوچ تحریک ایک جائز جدوجہد ہے اور یہ ہر آزادی پسند انسان کی لڑائی ہے۔ ثقلین امام

بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے صحافی ثقلین امام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں ایسے لوگوں کے درمیان موجود ہوں جو اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ صرف بلوچ قوم کی آزادی کی جدوجہد نہیں بلکہ میرے نقطہ نظر کے مطابق یہ پاکستان کے ہر فرد کی آزادی کی جدوجہد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی نام نہاد آزادی کے بعد بھی حقیقی معنوں میں آزاد نہیں رہا بلکہ پہلے برطانوی اثر و رسوخ اور بعد ازاں امریکی سرد جنگ کی پالیسیوں کا حصہ بن گیا۔ اس کے نتیجے میں پورا ملک ایک طرح سے زیرِ اثر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان، سندھ، بلوچستان اور پشتون علاقوں کے لوگ سب اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور ان علاقوں کو ایک طرح سے محکوم خطے قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب بھی ایک حد تک اسی نظام کا حصہ ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں فوجی اداروں سے رشتہ داریوں کی وجہ سے حالات مختلف ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں حالات زیادہ سخت ہیں۔
انہوں نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ آج بھی پاکستان کے آئین کے مطابق مکمل طور پر شامل نہیں، جبکہ بلوچستان آئینی طور پر پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو بغیر کسی مقدمے کے صرف انتظامی حکم کے تحت قید رکھا گیا ہے، جو کہ خود پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں قانون کی عملداری کمزور ہے۔
انہوں نے بطور صحافی اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا پر مکمل قدغن ہے۔ صحافیوں کو سچ رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں، اور اگر وہ ایسا کریں تو انہیں اغوا یا قتل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ سے دنیا کو بلوچستان کی اصل صورتحال کا علم نہیں ہو پاتا۔
انہوں نے پاکستان میں صحافت کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی درجہ بندی انتہائی خراب ہو چکی ہے اور صحافیوں کو ریاستی اداروں، مسلح گروہوں اور دیگر عناصر سے خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پابندیاں اکثر عوام کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں اور حکمرانوں کو مضبوط کرتی ہیں، اس لیے عالمی برادری کو پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بلوچ تحریک ایک جائز جدوجہد ہے اور یہ ہر آزادی پسند انسان کی لڑائی ہے۔ انہوں نے بلوچ عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی قوم جس میں اتنا جذبہ ہو، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔

گزشتہ سال بلوچستان 1,355 جبری لاپتہ افراد 225 افراد ماورائے عدالت قتل ہوئے۔حاتم بلوچ، پانک بی این ایم
بی این ایم کے انسانی حقوق کے ادارے پانک کے کوارڈنیٹر حاتم بلوچ نے کہا ہم بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرتے ہیں، دستاویزات تیار کرتے ہیں اور آگاہی پیدا کرتے ہیں۔ ہمارا کام جبری لاپتہ افراد، غیر قانونی قتل اور اجتماعی سزا پر مرکوز ہے۔ بلوچستان کو آج سے نہیں بلکہ پچھلے 78 سالوں سے ایک سنگین اور جاری انسانی حقوق کے بحران کا سامنا ہے۔

2025 کے ہمارے ریکارڈ شدہ ڈیٹا کے مطابق، 1,355 جبری لاپتہ افراد کے کیسز ریکارڈ کیے گئے، 225 افراد غیر قانونی طور پر قتل ہوئے، اور 407 بعد میں رہا کیے گئے۔

اس سال جنوری سے 20 مارچ 2026 تک، 228 جبری لاپتہ افراد کے کیسز ریکارڈ کیے گئے، 81 غیر قانونی قتل ریکارڈ کیے گئے جن میں 21 سے زیادہ نوجوان پنجگور میں قتل ہوئے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ انسانی زندگیوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ زندگییں خاندانوں کی ہیں۔

ہم بین الاقوامی تنظیموں اور حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں، پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ جبری لاپتہ افراد کو ختم کرے، ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائے، بین الاقوامی تعلقات کا جائزہ لے، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روشنی میں پاکستان کے GSP پلس درجہ کو معطل کرے، متاثرہ خاندانوں کو مستقل حمایت فراہم کرے۔ بلوچستان خاموشی سے مزید نہیں سہہ سکتا۔

کانفرنس میں ماڈیریٹر کے فرائض سلیم بلوچ اور مہرہ بلوچ نے انجام دئیے۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

30 سے زائد مربوط حملے، درجنوں قابض اہلکار ہلاک – بی ایل اے

منگل مارچ 31 , 2026
بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستانی فوج کے خلاف ہمارے مربوط حملوں کا سلسلہ پوری قوت سے جاری ہے۔ اب تک جھل مگسی، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، واشک، دالبندین، خاران، پنجگور اور کیچ سمیت مختلف علاقوں میں […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ