
کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا بھتیجا محمد ادریس پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا ہے، جس پر اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے مدد کی اپیل کی ہے۔
نصراللہ بلوچ کے مطابق محمد ادریس آج صبح تقریباً 10 بجے اپنے دوست جاوید کے ہمراہ گھر سے نکلا تھا، تاہم اس کے بعد سے دونوں کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ اہلِ خانہ نے مختلف مقامات پر تلاش کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہیں پایا، جس کے باعث گھر میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
چیئرمین وی بی ایم پی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی بھی شخص کے پاس محمد ادریس یا جاوید کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر مطلع کریں تاکہ ان کی بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ قائم کیے ہوئے ہے، جہاں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔
تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ، جو اس تحریک کی ایک نمایاں شخصیت تھے، گزشتہ سال دسمبر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے احتجاجی کیمپ کو مختلف شہروں میں منتقل کرنے کی روایت قائم رکھی تاکہ تحریک جاری رہے۔
تنظیم کے مطابق ان کی وفات کے باوجود احتجاجی کیمپ تاحال جاری ہے اور جب تک تمام لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہو جاتے، یہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
