
کوئٹہ: وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام جبری گمشدگیوں کے خلاف قائم احتجاجی کیمپ 6089ویں روز میں داخل ہوگیا۔ کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری ہے۔
احتجاجی کیمپ کے دوران ایڈووکیٹ محمد حسن مینگل اور سلطانہ بلوچ نے کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نصراللہ بلوچ نے کہا کہ تنظیم نے محمد عرفان قمبرانی، تنویر احمد اور بشیر احمد کے کیسز باضابطہ طور پر صوبائی حکومت اور لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن کو فراہم کر دیے ہیں تاکہ ان کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ محمد عرفان قمبرانی کو 22 جنوری کی رات کلی قمبرانی، کوئٹہ سے سیکورٹی فورسز کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر جبری لاپتہ کردیا گیا۔ جبکہ 17 سالہ تنویر احمد اور 15 سالہ بشیر احمد، جو آپس میں بھائی ہیں، کو 3 فروری کی رات سریاب کسٹم، کوئٹہ سے سی ٹی ڈی اور دیگر اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر لاپتہ کردیا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نے صوبائی حکومت اور متعلقہ کمیشن سے اپیل کی کہ تینوں افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لاپتہ افراد پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے اہلِ خانہ کو غیر یقینی اور اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے۔
وی بی ایم پی نے ایک بار پھر جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام لاپتہ افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں پہنچ جاتے
