
بلوچستان حکومت نے عسکریت پسندی کے الزامات میں مطلوب 39 افراد کی فہرست جاری کر دی ہے جنہیں انتہائی مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ بدھ کے روز مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات میں ان افراد کے ناموں کے ساتھ ان کی گرفتاری میں مدد دینے پر مقرر کردہ انعامی رقم بھی ظاہر کی گئی ہے۔
جاری کردہ فہرست میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب اور کپتان رحمان گل کو سرِفہرست رکھا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے دونوں کے سر کی قیمت 25، 25 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جو اس فہرست میں سب سے زیادہ ہے۔
تیسرے نمبر پر میر سفیر احمد کا نام شامل ہے جن کے لیے 15 کروڑ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
حکومتی اشتہار کے مطابق فہرست میں شامل افراد میں چند ایسے نام بھی شامل ہیں جو بیرونِ ملک مقیم بتائے جاتے ہیں۔ ان میں نوابزادہ حیربیار مری اور نوابزادہ براہمداغ بگٹی کے نام شامل ہیں، جن کے لیے 10، 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی کا نام بھی فہرست میں شامل ہے اور ان کی گرفتاری پر 25 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں متعدد حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی تھی، جن میں سرکاری دعوؤں کے مطابق درجنوں سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے یہ فہرست جاری کی گئی ہے۔
ماضی میں بھی سرکاری حکام کی جانب سے مذکورہ افراد اور دیگر بلوچ رہنماؤں پر شدت پسندی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم متعلقہ افراد ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔
