
تحریر: این کیو بلوچ
25 جنوری کوئی عام تاریخ نہیں، کوئی کیلنڈر کا سادہ دن نہیں۔ یہ ہماری قوم کا زخم ہے، ہمارا خون ہے، ہماری وہ چیخیں ہیں جو آج بھی پہاڑوں میں گونج رہی ہیں۔
2014 میں اسی دن خضدار کے توتک میں 100 سے زائد مسخ شدہ، تشدد زدہ لاشیں اجتماعی قبروں سے برآمد ہوئیں۔ وہ لاشیں ہمارے بھائیوں، بیٹوں اور شوہروں کی تھیں، جنہیں ریاستی ٹارچر سیلوں میں مہینوں تک زندہ جلایا گیا، کاٹا گیا، توڑا گیا، اور پھر پہاڑوں میں یوں پھینک دیا گیا جیسے وہ کوڑا ہوں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس دن کو بلوچ نسل کشی کے یادگار دن کا درجہ دیا تاکہ ہم کبھی نہ بھولیں، کبھی نہ معاف کریں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی آواز آج بھی کانوں میں گونجتی ہے:
“ہم تمہیں یاد دلاتے رہیں گے کہ تم نے ہماری کتنی نسلیں اپنی توپوں، گولیوں اور ڈرونز سے نیست و نابود کر دیں۔ ہم ان اجتماعی قبروں کے وارث ہیں۔ ہم اپنے شہیدوں کے وارث ہیں۔ اور بلوچ نہ اپنے شہیدوں کو بھولے گا، نہ تمہیں بھلانے دے گا۔”
یہ دن صرف ماضی نہیں، یہ حال کی چیخ ہے۔
یہ دن دنیا سے سوال کرتا ہے: کیا انسانی حقوق صرف ایک رنگ، ایک نسل، ایک مذہب کے لیے ہیں؟ یا ہمارے بچوں کا خون بھی انسانیت کا حصہ ہے؟
یہ دن چین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے:
“کیا تم وہی ماؤ کی چین ہو جو غریبوں کی آواز تھی؟ یا اب تمہاری آنکھیں صرف گیس، معدنیات اور بندرگاہوں پر جمی ہیں، ہمارے لہو پر نہیں؟”
یہ دن ان ماؤں کو یاد دلاتا ہے جنہوں نے نو ماہ پیٹ میں درد سہا، خود بھوکی رہیں مگر بچوں کو کھلایا، اور ریاست نے ان کے جگر کے ٹکڑوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
یہ دن ان بچوں کی یاد دلاتا ہے جو ڈرون کی آواز سن کر ماں کی گود میں چھپ گئے، مگر پھر بھی زندہ نہ رہ سکے۔
یہ دن حیات بلوچ کی داستان سناتا ہے، وہ طالب علم جو کراچی یونیورسٹی میں خواب دیکھ رہا تھا، مگر تربت میں فورسز نے اس کی ماں اور بہن کے سامنے اسے گولیوں سے بھون دیا۔ ماں کی چیخیں اور بہن کے آنسو آج بھی بلوچستان کی ہواؤں میں گونج رہے ہیں۔
یہ دن ان ماؤں اور بہنوں کو یاد کرتا ہے جو سالہا سال مسنگ پرسنز کے کیمپوں میں دھوپ، بارش اور سردی سہتی ہیں، عدالتوں کے چکر لگاتی ہیں، مگر ریاست ان کے پیاروں کی لاشیں ویرانوں میں پھینک دیتی ہے اور کہتی ہے: “فیک انکاؤنٹر”۔
یہ دن ان طلبہ کی یاد دلاتا ہے جن کے خواب کتابوں میں تھے، مگر ریاست نے انہیں گولیوں میں دفن کر دیا۔
یہ دن ان ڈرائیوروں کی یاد دلاتا ہے جو رمضان میں روزہ رکھ کر سرحد کی طرف گئے، دو وقت کی روٹی کے لیے، مگر پاکستانی فوج نے ان کی گاڑیاں چھین لیں، انہیں چاغی کے جلتے صحرا میں پیاسا چھوڑ دیا، جہاں وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے۔
یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ ہم غلام ہیں، اور جب تک آزادی نہیں آئے گی، یہ خون بہتا رہے گا۔
اے بلوچو!
اٹھو!
خاموش نہ رہو!
یہ دن تمہاری آواز ہے۔
یہ دن تمہارا درد ہے۔
یہ دن تمہاری جنگ ہے
