
اسرائیلی میڈیا کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے منصوبہ سازوں میں شامل ایک اہم حماس جنگجو کمانڈر کو غزہ میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ شہر میں ایک کار کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں حماس کے سینیئر کمانڈر رائد سعد کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق رائد سعد ان افراد میں شامل تھے جنہیں سات اکتوبر کو اسرائیلی سرزمین پر ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب غزہ میں حماس کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 25 زخمی ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ہلاک ہونے والوں میں رائد سعد بھی شامل تھے یا نہیں۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ شہر میں حماس کے ایک سینیئر کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم نام یا مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اگر رائد سعد کی ہلاکت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد حماس کے کسی بڑے رہنما کی سب سے نمایاں ہلاکت تصور کی جائے گی۔
ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ نشانہ بننے والا کمانڈر حماس کے ہتھیار بنانے والے یونٹ کا سربراہ تھا۔ حماس سے منسلک ذرائع کے مطابق عزالدین الحداد کے بعد رائد سعد تنظیم کے دوسرے اہم عسکری کمانڈر سمجھے جاتے تھے۔ وہ اس سے قبل حماس کی غزہ سٹی بٹالین کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، جسے حماس کی سب سے بڑی اور بہترین مسلح یونٹوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی روز ایک اور واقعے میں اس کے دو فوجی اس وقت زخمی ہو گئے جب علاقے کو عسکری ڈھانچے سے صاف کرنے کے دوران ایک دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی براہِ راست تعلق ہے یا نہیں۔
