
تحریر: رامین بلوچ-آخری حصہ
زرمبش مضمون
زرک میر کے یہ الفاظ بابا مری سے محض عقیدتی اظہار نہیں، بلکہ بلوچ قوم کی اجتماعی آدرش کا عکاس ہیں، جو نسل در نسل جبر، استحصال اور غلامی کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ایسے میں بابا مری کا کردار صرف ایک انقلابی سیاست دان کا نہیں، بلکہ وہ ایک فکری و روحانی اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہیں قوم نے اپنے بدھا، اپنے مسیحا کی صورت میں محسوس کیا۔ ان کے فردی وجود میں وہ وقار، استقامت اور نظریاتی پختگی تھی، جو تاریخ میں صرف ان ہستیوں کو حاصل ہوتی ہے جن کے فیصلے وقت کی گردش سے بلند ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے آزادی اور قومی شعور کے جس بیانیے کو جنم دیا، وہ ایک فلسفہ، ایک منزل، اور ایک مقدس عہد کی صورت اختیار کر گیا۔ یہ تشبیہ اس بات کا اعتراف ہے کہ بعض شخصیات وقت کی کوکھ سے یوں ابھرتی ہیں جیسے تاریخ خود انہیں تراش کر بھیجتی ہے؛ اور پھر وہ شخصیات نہ صرف اپنی قوم، بلکہ دیگر اقوام کے فکری ڈی این اے میں بھی زندہ رہتی ہیں۔
بابا مری جیسے رہنما محض سیاسی لیڈر نہیں تھے، بلکہ وہ ایک فکری مکتب، ایک مزاحمتی استعارہ تھے، جنہوں نے آخری سانس تک اپنے اصولوں سے انحراف نہیں کیا۔ ان کی زندگی فرانز فینن، مارکس اور ہو چی منہ جیسے انقلابی مفکرین کے عکس میں ڈھلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی آزادی کے کانٹوں بھرے راستے کو چنا، صلیب کو گلے لگایا، مگر بلوچ قوم کی آزادی کے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔
زرک میر اپنی تصنیف میں ڈاڈا ئے بلوچ، شہید نواب اکبر خان بگٹی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "شال یروشلم ہے”۔ زرک میر یہاں شال (یعنی کوئٹہ) کو نہ صرف بلوچ جغرافیائی سنگم، بلکہ فکری، انقلابی اور تہذیبی مرکز قرار دیتے ہیں۔
یہ وہ خطہ ہے جہاں تاریخ، جغرافیہ اور قومی شعور اس طرح پیوست ہیں کہ وہ خود بلوچ مزاحمت کی علامت بن جاتے ہیں۔ شال، محض ایک شہر نہیں، بلکہ بلوچ قومی شعور کی نبض ہے,ایسا مرکز جہاں کوہِ سلیمان کی عظمت، چلتن کی خاموشی، ہربوئی کی سختی، شاشان کی سربلندی اور کوہِ باتل کی استقامت یکجا ہو کر ایک فکری بھونچال پیدا کرتے ہیں۔
"شال یروشلم ہے” یہ فقرہ بلوچ تاریخ میں اس سطح پر شناخت کا مظہر ہے جہاں نیشنلزم مذہب سے بلند ہو کر ایک مقدس نظریہ بن جاتا ہے۔
یروشلم دنیا کی تین بڑی اقوام عرب، عیسائی، اور یہودی کا مقدس مرکز ہے، جو صدیوں سے تاریخی، تہذیبی اور روحانی معنویت کا محور رہا ہے۔ یہیں ایک طرف پیغمبروں کی تاریخ رقم ہوئی، تو دوسری طرف صلیبی جنگیں اس سرزمین کی تقدیر کا حصہ بنیں۔
یروشلم کو جو شرف حاصل ہے، وہی شان شال کو بھی حاصل ہے،ایک ایسا مقام جو تہذیبی، تمدنی، سیاسی اور روحانی سنگم کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب نواب اکبر بگٹی نے شال کو یروشلم سے تشبیہ دی، تو دراصل وہ شال کو بلوچ مزاحمت کا مرکز، سیاسی بیداری کی بنیاد، فکری حرکات کا محور، اور قربانی کی سرزمین کے طور پر دیکھ رہے تھے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں بلوچ قوم دوست تحریکوں نے جنم لیا، جہاں حق توار بنی، جہاں بی ایس او (بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) اور بی این ایم (بلوچ نیشنل موومنٹ) جیسے نظریاتی ادارے ابھرے۔ یہیں مزاحمت کے قافلے نشو و نما پاتے رہے، اور نیو کاہان و مری کیمپ میں شہداء کی قبریں اور یادگاریں تعمیر ہوئیں۔
یروشلم اور شال پر جبر کے تجربات میں بھی ایک گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ جس طرح یروشلم مختلف اقوام کے فکری، قومی اور روحانی مرکز ہونے کے باوجود ہمیشہ تنازعات اور حملوں کی زد میں رہا، ویسے ہی شال، بلوچ شعور و مزاحمت کا مرکز ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ریاستی طاقت کی زد پر رہا ہے۔
یہ یادداشتیں بلوچ تاریخ کا متبادل بیانیہ ہیں، جو پنجابی استعماری عزائم کو چیلنج کرتے ہیں۔ زرک میر نے جو کچھ دیکھا، جھیلا اور محسوس کیا، وہ ایک ایسے اسلوب میں قلم بند کیا ہے جس میں درد بھی ہے، دانش بھی، اور وہ جمالیاتی چاشنی بھی جو کسی بھی تخلیق کو امر بنا دیتی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زرک میر کی تصنیف محض ایک ذاتی یادداشت یا روایتی سیاسی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسی امر تخلیق ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری چراغ، ایک رہنمائے راہ، اور قومی خودی کا آئینہ ہے۔ یہ کتاب بلوچ قوم کی تاریخ، اسلاف کے کردار، قربانیوں، اور جہد مسلسل کو اس انداز سے بیان کرتی ہے کہ گویا ماضی اور جاری حال کی دھڑکنیں آج کے قاری کے دل میں سنائی دیتی ہیں۔
یہ محض صفحات پر بکھرے الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاسی دستاویز ہے جو بلوچ وجود کو آواز دیتی ہے، بلوچستان کی دھرتی پر جاری صداؤں کو تحریری شکل دیتی ہے، اور ان شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قومی شعور کو زندہ رکھا۔
زرک میر کی کتاب محض بیان نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے،ایک ایسا بیانیہ جو بلوچ طلبہ تنظیموں، بالخصوص بی ایس او اور بی این ایم جیسے انقلابی اداروں کے کردار کو تاریخی تناظر میں رکھ کر سمجھاتا ہے۔ وہ نہ صرف واقعات کو بیان کرتے ہیں بلکہ ان کے پس منظر، اسباب اور اثرات کا بھی عمیق تجزیہ پیش کرتے ہیں، یوں ان کی تحریر ایک شخصی مشاہدے سے بڑھ کر اجتماعی شعور کی نمائندہ بن جاتی ہے۔
بلوچ سیاست کے دائو پیچ، تضادات، قربانیاں، داخلی کشمکش اور عالمی سیاست سے اس کے روابط—سب کچھ اس تصنیف میں بے باکی، دیانت اور فکری گہرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ زرک میر کا قلم روایتی مصلحتوں سے آزاد ہے؛ وہ سچ لکھنے کی جرأت رکھتا ہے، اور یہی جرأت اس کتاب کو محض ایک ادبی یا سیاسی تحریر کے بجائے ایک زندہ تاریخی دستاویز بنا دیتی ہے۔
یہ کتاب نہ صرف بلوچ قوم کی تاریخ کا بیان ہے بلکہ اس میں ایک ایسا وژن چھپا ہوا ہے جو قاری کو نہ صرف ماضی سے جوڑتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے فکری راستے بھی متعین کرتا ہے۔
زرک میر اپنی کتاب میں ایک جگہ بابا مری کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان کے حکمران یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معیشت اور فوج ہمارے ریاستی ستون ہیں۔ مگر بابا مری اس بیانیے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ فوج کیسے کسی ریاست کا ستون ہو سکتی ہے؟
بابا مری کا یہ اعتراض محض ایک سطحی اختلاف نہیں بلکہ وہ اس نوآبادیاتی بیانیے کی جڑوں پر ضرب لگاتے ہیں جس میں طاقت اور سرمایہ کو ریاست کے "ستون” قرار دے کر سامراجی تسلط کو جائز بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ وہی زاویہ نظر ہے جو برطانوی استعمار نے اس خطے میں اپنایا تھا، اور جو آج بھی نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچوں کی ریت چلا آ رہا ہے۔
بابا مری کی یہ تنقید دراصل اس ریاستی تصور کی رد میں ہے جو طاقت، جبر، اور عسکری غلبے کے بل بوتے پر اپنے غیر فطری وجود کو قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر پاکستانی تناظر میں فوج ریاستی پالیسیوں کا محور بن جائے، جمہوریت کو دبا دے، اور سیاسی و معاشی فیصلے اپنی مرضی سے مسلط کرے، تو وہ "ستون” نہیں بلکہ ریاست پر ایک بوجھ بن جاتی ہے۔
نوآبادیاتی ریاستیں اکثر اپنی طاقت کو "قانون” اور "نظم” کے نام پر جواز بخشتی ہیں۔ ان کے بیانیے میں طاقت کو استحکام کا ضامن بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عسکری طاقت جب عوامی اختیار، شعور اور جمہوری اداروں کی جگہ لے لے، تو وہ ریاست کا ستون نہیں بلکہ جارحیت کا مینار بن جاتی ہے۔
سیاسی مفکرین اور ماہرینِ عمرانیات کے مطابق کسی بھی ریاست کا اصل اور پائیدار ستون اس کے عوام ہوتے ہیں: ان کی زبان، ثقافت، آزادی، اور انصاف۔ اگر ان بنیادی عناصر کی جگہ فوجی اڈے اور چھاؤنیاں لے لیں، تو ایسی ریاست درحقیقت ریاست نہیں بلکہ نوآبادیاتی نظام بن جاتی ہے۔
زرک میر کی تصنیف "شال کی یادیں” محض ایک یادداشت یا سیاسی تاریخ کا بیانیہ نہیں، بلکہ یہ بلوچستان کے اجتماعی شعور، قومی غلامی، فکری مزاحمت، اور آزادی کے خواب کی ایک جامع اور زندہ دستاویز ہے۔ یہ کتاب 1948ء میں بلوچستان کے جبری الحاق سے لے کر شہید نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت تک کے سیاسی و سماجی حالات کو اس انداز میں بیان کرتی ہے کہ قاری خود کو اس تاریخ کا زندہ کردار محسوس کرتا ہے۔
کتاب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ زرک میر محض ایک مؤرخ نہیں بلکہ ایک فکری مجاہد ہیں، جنہوں نے بلوچستان کی قومی مزاحمت کو جذباتیت کے بجائے تجزیاتی اور معنوی انداز میں قلم بند کیا ہے۔ وہ آغا عبد الکریم کی جانب سے الحاق کے خلاف کی گئی ابتدائی مسلح جدوجہد کو مزاحمت کی بنیاد قرار دیتے ہیں اور بابو نوروز زہری کی 80 برس کی عمر میں پہاڑوں کا رخ کرنے والی قربانی کو استقامت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسی تسلسل میں وہ جنرل شیروف مری کی جرأت مندی کا اعتراف بالغ نظری کے ساتھ کرتے ہیں۔
کتاب میں 1920 میں قائم ہونے والی بلوچ سیاسی تنظیم "اتحاد بلوچاں” کا ذکر بھی اہمیت کا حامل ہے۔ زرک میر اس تنظیم کو جدید بلوچ سیاسی شعور کی ابتدائی جھلک قرار دیتے ہیں اور اس کے معماروں، یوسف عزیز مگسی اور عبد العزیز کرد، کی گراں قدر قربانیوں اور خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان شخصیات کو زرک میر نے صرف ماضی کے ہیرو کے طور پر نہیں بلکہ آج کے فکری رہنماؤں کے طور پر پیش کیا ہے، جن کی فکر اب بھی تحریکِ بلوچ کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔
اس کتاب میں جہاں بلوچ تحریک کی جدلیاتی پیچیدگیاں بیان کی گئی ہیں، وہیں ان شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیاہے، جنہوں نے اپنے لہو سے تاریخ کے صفحات رقم کیے۔ مصنف نے جس درد مندی، فکری گہرائی، اور ادبی چابکدستی سے ان موضوعات کو برتا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔
زرک میر آزادی کے جہدکار اور اس راہ میں قربان ہونے والے فکری و عملی رہنماؤں کا ذکر کرتے ہوئے، ان ناموں کو تاریخ کے ضمیر میں ثبت کرتے ہیں: شہید بالاچ، غلام محمد شہید، آغا محمود جان، شہید صباء دشتیاری، میر غفار لانگو، ملک نور احمد قمبرانی، اور پروفیسر رزاق زہری۔ یہ صرف نام نہیں بلکہ ایک عہد کی علامتیں ہیں، جن کی قتل دراصل بلوچ قومی تحریک کے ذہن کا قتل ہے۔
مصنف نے آغا محمود جان کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آغا کا قتل قلات کا "تیسرا سقوط” تھا۔ زرک میر نے آغا محمود جان کی فکری ساخت، ان کی سوانح، اور ان کی سیاسی بصیرت کو جس لطیف انداز میں قلم بند کیا ہے، وہ نہ صرف تحقیقی قدر رکھتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک فکری مشعلِ راہ بھی ہے۔
آغا محمود جان کی ایک یادگار نشست کا حوالہ دیتے ہوئے زرک میر لکھتے ہیں:
"قلات کی سردی ناقابل برداشت ہے، لیکن جنگ کی گرمائش اسے ناقابلِ برداشت بناتی ہے۔”
یہ جملہ ایک فکری رمز رکھتا ہے، جو آغا کی مزاحمتی بصیرت اور تحریک سے ان کے گہرے تعلق کی غمازی کرتا ہے۔
کتاب میں کئی جگہوں پر تحریک کے نشیب و فراز، داخلی اختلافات، اور اس کے پیچیدہ پہلوؤں کو بھی بغیر کسی جانبداری کے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے جو "احوالیں” قلم بند کی ہیں، وہ نہ صرف یادداشتیں ہیں بلکہ ایک عہد کے قلب سے پھوٹی ہوئی سچائیوں کی بازگشت بھی ہیں۔
زرک میر نے اس کتاب کو صرف تحریر نہیں کیا بلکہ اس میں سانس لیا ہے، اس میں جیے ہیں، اور اسی لیے یہ کتاب قاری کو صرف پڑھنے نہیں بلکہ محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
یہ کتاب ان تمام ذہنوں کے لیے ایک خراجِ عقیدت ہے جو بلوچ قومی تحریک کی فکری بنیادیں تھے، اور جنہیں ایک ایک کر کے خاموش کیا گیا۔ زرک میر کی یہ کاوش یقیناً بلوچ تاریخ میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس پر ایک فکری دستاویز ہونے کا حق بجا طور پر ثابت کرتی ہے۔
"شال کی یادیں” بلوچستان کے دکھوں، آدرشوں، قربانیوں اور جدوجہد کی وہ روداد ہے جسے فراموش کرنا اپنی تاریخ کو بھول جانے کے مترادف ہوگا۔ زرک میر کی یہ تصنیف نہ صرف بلوچ قومی تحریک کے مطالعے کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ اسے فکری مزاحمت، تاریخی شعور، اور قومی بیانیے کی تشکیل کا سنگِ میل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ کتاب ان تمام ذہنوں کو متوجہ کرتی ہے جو بلوچ سیاسی تاریخ کو نوآبادیاتی نرسریوں کے پیداوار مورخوں کے بجائے زمینی سچائیوں اور قربانیوں کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔
زرک میر کی اس تصنیف پر لکھنے کے لیے الفاظ کا انتخاب گویا نخلِ صحرا سے شبنم کشید کرنے کے مترادف ہے۔ مصنف نے جس جرات، بصیرت اور تخلیقی مزاحمت کے ساتھ اپنی بات کہی ہے، وہ نہ صرف قاری کو چونکا دیتی ہے بلکہ مکالمے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے محض ایک بار پڑھ لینا کافی نہیں؛ ہر ورق، ہر سطر اور ہر لفظ بار بار غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔
اس کتاب پر ایک مفصل تبصرہ یقینا کئی اقساط پر محیط ہو سکتا ہے، مگر تحریر کی طوالت اور قاری کی مصروف طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسے دو اقساط میں پیش کرنا زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ اس ابتدائی تبصرے کا مقصد محض تعارف کرانا نہیں، بلکہ اس فکری سفر میں قاری کو پہلا قدم رکھنے کی ترغیب دینا ہے۔تاہم، باقی کتاب کا حسن اور گہرائی ایسی ہے کہ کوئی بھی تبصرہ یا تجزیہ مکمل ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ قاری جب اس کتاب میں خود غوطہ زن ہوتا ہے تو اسے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے الفاظ اور تبصرے اس شاہکار کی وسعتوں کے لیے کس قدر ناکافی ہیں۔