شَالْ کی یادیں: بَلُوچْ تَارِیْخ، جِدُوجُہْد اور شُعُوْر کی اَمَر دَسْتَاوِیْز

تَحْرِیْر: رَامِیْن بَلُوچْ ( پہلا حصہ)
زرمبش مضمون

زرک میر کی کتاب شال کی یادیں کا تیسرا ایڈیشن مجھے مصنف کی جانب سے، میری ذاتی درخواست پر، اعزازی طور پر کافی عرصہ قبل موصول ہوا۔ اس ایڈیشن میں 1992 سے 2015 تک کے درمیانی عرصے کی وہ یادیں، مشاہدات اور شعوری کیفیات شامل ہیں جو صرف مصنف کی ذاتی زندگی یا حافظے کا بیان نہیں، بلکہ ایک مقبوضہ سماج کے اندر جاری تحریکی عمل کی تصویری جھلکیاں ہیں۔
یہ محض ایک فرد کے احساسات، تجربات یا واقعات کا سلسلہ نہیں، بلکہ بلوچ سیاسی تاریخ کے نشیب و فراز کے اجتماعی پس منظر کی عکاسی ہے۔ زرک میر کی یہ تصنیف فرد کی داخلی کیفیات سے نکل کر اجتماعی ضمیر کا حصہ بن جاتی ہے۔ ان یادداشتوں میں ذاتی دکھ اور قومی زخم اس طرح باہم پیوست ہو چکے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔
اسی وحدت اور شعوری یکجائی کے باعث یہ کتاب محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ بلوچ قوم کی سیاسی تاریخ کا ایک معتبر دستاویز بن چکی ہے۔ یہ ان غیر تحریری، مگر ذہنوں میں محفوظ تاریخی تجربات کو قرطاس پر منتقل کرتی ہے، جنہیں اب تک صرف سنا یا محسوس کیا گیا تھا، مگر لکھا نہیں گیا تھا۔

زرک میر کی کتاب شال کی یادیں صرف شال (کوئٹہ) کی جغرافیائی یا شخصی یادوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ پورے بلوچ وطن کی ایک استعاراتی علامت ہے۔ یہاں "شال” محض ایک شہر نہیں، بلکہ ایک ایسا جغرافیائی، تہذیبی اور سیاسی سنگم ہے جسے شہید نواب اکبر خان بگٹی نے بجا طور پر "یروشلم” قرار دیا تھا، ایک ایسا مرکز، جو نہ صرف مقام ہے بلکہ ایک معنوی علامت بھی، جو پوری قوم کے دکھ، خواب، زخم اور جدوجہد کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔

یہ یادیں محض ماضی کے چند مناظر نہیں، بلکہ ایک بحرِ بیکراں ہیں، جذبات، تجربات اور مشاہدات کا ایک اتھاہ سمندر، جو صرف محسوس کرنے کی چیز نہیں بلکہ یاد رکھنے اور محفوظ کرنے کے لائق ہے۔ ان میں ایک مکمل عہد، ایک نظریاتی سفر، اور ایک ایسا "پلِ صراطی” راستہ چھپا ہے جو نسلوں کی ذہنی میموری میں کسی یو ایس بی یا چِپ کی مانند محفوظ ہے۔

ان یادداشتوں میں غلامی کی تہہ در تہہ پرتیں بھی ہیں اور شہداء کی جاں گداز یادیں بھی۔ کہیں راہبروں کی زندگی کے سنہری اور خوں رنگ ورق پلٹے جاتے ہیں، تو کہیں بولان تا چترال تک گونجتے مفروضاتی نعرے فضا میں بکھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نوآبادیاتی جبر کی سیاہی بھی ان صفحات پر موجود ہے، اور آزادی کی روشن امیدیں بھی، جن کی لو میں راہ تلاش کرتے مسافر دکھائی دیتے ہیں۔

شال کی یادیں ایک فرد کی آپ بیتی نہیں، بلکہ ایک قوم کی شعوری سرگزشت ہے۔ یہ کتاب ان منتشر یادوں کو فکری تسلسل میں بدل دیتی ہے، اور ان خوابوں کو نظریاتی اساس فراہم کرتی ہے جو اجتماعی حافظے میں تو زندہ تھے، مگر صفحۂ قرطاس پر ابھی منتقل نہ ہو سکے تھے۔
میں زرک میر کی شال کی یادیں کے پچلھےدو ایڈیشنز پہلے پڑھ چکا ہوں۔ تب بھی دل میں بہت کچھ تھا، لکھنے کی خواہش بھی جاگی تھی، لیکن کبھی وقت نے مہلت نہ دی، کبھی قلم نے ساتھ نہ دیا، اور کبھی جذبہ خود اپنے ہی خول میں سست پڑ گیا۔ شاید ہمت کی کمی تھی، یا شاید زرک میر کی تحریر کے سامنے اپنے لفظ بے معنی محسوس ہوتے تھے۔

لیکن تیسرے ایڈیشن ملنے کے بعد دل میں یہ خیال آیا کہ اس فکری سرمایہ کو صرف پڑھ کر جذب کر لینا کافی نہیں؛ اسے دوسروں تک پہنچانا بھی ضروری ہے، تاکہ مزید قارئین اس کتاب کی گہرائی میں اُتریں، اسے محض ایک یادداشت نہ سمجھیں بلکہ اپنی یادداشت کا حصہ بنائیں۔

اگرچہ یہ کتاب میرے جیسے قاری کے تبصرے کی محتاج نہیں۔کیونکہ مارکیٹ میں اس کی ایڈوانس بُکنگ ہوتی ہے، اور ہر اشاعت کے ساتھ یہ یوں غائب ہو جاتی ہے جیسے بارش کے بعد مٹی میں جذب ہونے والے قطرے،پھر بھی کچھ کہنا اس لیے ضروری ہے کہ زرک میر کو پڑھنا ہر باشعور بلوچ کے لیے محض ایک ادبی ذوق نہیں، ایک فکری ضرورت ہے۔

شال کی یادیں کے علاوہ زرک میر کی متعدد تحریریں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب ہیں۔ وہ صرف ہمارا مورخ نہیں، ہمارے عہد کا ایک حساس اور سچ بولنے والا "منٹو” بھی ہے۔ اسے محض اس لیے نہیں پڑھا جانا چاہیے کہ وہ بلوچ سماج میں ایک معروف نام ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک "تراژدی تخلیق کار” ہے۔ اُس کی تخلیقی فکر، اس کا اسلوب، اس کی "آدرش”یہ سب کچھ بلوچ اجتماعی شعور کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔

زرک میر کا کمال یہ نہیں کہ وہ صرف لکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ لکھتا ہے، اسے سائنسی اصولوں، جدلیاتی منطق، اور تنقیدی شعور کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ وہ کسی اندھے عقیدے کا پرچارک نہیں بلکہ شعور اور سوال کا پیروکار ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ وہ ہمیں دوسروں سے الگ دکھائی دیتا ہے،ایک ایسا ادیب، جو نرگسیت، رومانویت اور شہرت کے سراب سے دُور، اپنی شناخت کی دھند میں گم ہو کر بھی، اپنے قلم کی روشنی سے نمایاں ہوتا ہے۔

زرک میر ایک ایسے جبر زدہ سماج میں لکھتا ہے، جہاں "لکھنا” خود ایک جرم اذیت اور قابل سزا بن چکا ہے، اور قلم اٹھانا سرکشی کے زمرے میں آتا ہے ۔لیکن وہ ان خطروں، اذیتوں اور نتائج کے باوجود تخلیق کرتا ہے، اور یہی وہ جوہر ہے جو اسے محض ایک ادیب نہیں بلکہ ایک فکری مورچہ بنا دیتا ہے۔

زرک میر سے ملاقات کا امکان اپنی جگہ موجود ہے، اور شاید کسی روز گفتگو کا در کھلے۔ لیکن ان کے قلمی نام کی وجہ سے ذاتی شناسائی کی ایک دھند سی چھائی رہتی ہے۔ کئی بار سوشل میڈیا پر مختصر رابطہ ہوا،ممکن ہے وہ مجھے بھی پہچانتے ہوں، کیونکہ میرا وجود بھی ایک قلمی شناخت کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔ شاید یہی قلمی نام رکھنا ایک مقبوضہ سماج کی ریت و روایت بن جاتی ہے
زرک میر جیسے تخلیق کار ہمارے عہد کے تاریخ ادب،اور فکر کے کینوس پر مل ایک قندیل کی مانند ہیں، جو خاموشی سے جل رہا ہے، راہ دکھا رہا ہے، اور بتا رہا ہے کہ سچ بولنے اور تاریخی و زمینی حقائق بیان کے لیے شناخت کی نہیں، اظہار جرائت ناگزیر ہوتی ہے ۔

ممکن ہے کہ ماضی میں میری اس سے ملاقات ہو چکی ہو۔ شاید ہم نے کسی لمحے، کسی سائبان کے سائے میں، ایک دوسرے کے بہت قریب بیٹھ کر گفتگو کی ہو۔ لیکن ہماری یہ قربت کسی ظاہری تعارف،پہچان کے تابع نہ ہو۔ ایک نظریاتی رشتہ ایک کمٹمنٹ ایک فکری سیالی میں ہم جڑے رہے ہوں گے اس سب کے باوجود، ہمارے درمیان جو نظریاتی رشتہ قائم ہے وہ خونی یا علاقائی رشتہ سے بڑھ کر گلزمین سے وفا کی ہے جو ایک معتبر رشتہ ہے جس میں سارے رشتے تحلیل ہوتے ہین۔ وہ کسی اصلی شناخت کا محتاج نہیں ہے کیونکہ اس کی دانش علم فکر و ذہنی ہم آہنگی، فکری قربت اور مشترکہ قومی مقاصد کے دھاگے سے بُنا گیا ہیں ۔

اگر چہ فرضی شناختیں بظاہر اجنبیت کا تاثر دیتی ہیں، لیکن جب ان کے پیچھے موجود ذہن ایک جیسا سوچنے لگے، تو یہی اجنبیت قربت میں بدل جاتی ہے۔ قلمی نام،جو وقت اور تاریخ کے بہاؤ میں ایک کامل اور اٹل۔وجود کی علامت بن جاتے ہیں۔ یہ فرضی پہچانیں ہمیں وہ آزادی دیتی ہیں جو حقیقی شناخت میں اکثر ممکن نہیں ہوتی

یہ رشتے جو فرضی شناختوں کے پردے میں پروان چڑھتے ہیں، اکثر لگژری رشتوں سے کہیں زیادہ پائیدار، گہرے اور بامعنی ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کی بنیاد مفادات، ظاہری حیثیت یا زاتی تعلقات پر مبنی نہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی پر استوار ہوتی ہے۔ جب دو ذہن ایک جیسا سوچتے ہیں، ایک جیسے سوالات اٹھاتے ہیں، اور ایک جیسے فکر رکھتے ہیں، تو ان کے درمیان فاصلہ محض ایک سراب رہ جاتا ہے۔
ان نظریاتی رشتوں کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ یہ ہر قسم کے مادی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ یہ صرف "فکر ” کی بنیاد پر ، یہ رشتے جنم لیتے ہیں
ایسے رشتوں میں اکثر خاموشی ہوتی ہے، مگر یہ خاموشی بےرنگ نہیں ہوتی۔ اس میں بے شمار معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ کبھی ایک کتاب کھبی ایک بول کھبی ایک سطر، ایک فقرہ، یا ایک خیال ہی اتنا اثر رکھتا ہے کہ دل میں نقش بن جائے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا، قلمی دنیا، اور ڈیجیٹل گفتگو نے ہمیں نئے چہرے، نئے نام، اور نئے رشتے عطا کیے ہیں۔ مگر ان سب کے بیچ ایک وژ نری سچ موجود ہے جہان فرضی شناخت کے فاصلے نظریاتی رشتوں میں حائل نہیں ہوتے۔

اگر چہ فرضی ناموں کی یہ اوٹ ہمیں اصلی شناخت سے محروم رکھتی ہے۔ لیکن یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ اس استعماری جبر کی علامت ہے جس میں قلم کار کو بھی زیرِ زمین زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ قلمی نام رکھنا مقبوضہ سماج میں ایک سیاسی یا ادبی روایت نہیں، بلکہ ایک حفاظتی رازداری بن جاتی ہے۔

پاکستانی ریاست، جو بلوچ سرزمین پر ایک قابض قوت کی حیثیت رکھتی ہے، نہ صرف بندوق سے خوف کھاتی ہے بلکہ ان ذہنوں سے بھی لرزتی ہے جو لکھتے ہیں، جو سچ بولتے ہیں، جو شاعری کرتے ہیں
بلوچ وطن میں اظہارِ رائے کی آزادی پر اس حد تک بندشیں ہیں کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی بھی بلوچ کا گھرانہ پرسہ نہیں لیتا

پنجابی استعمار جس طرح بندوق کی گرج سے خائف ہوتا ہے، اسی طرح ایک باضمیر قلمکار سے بھی لرزاں ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک قلم کی نوک اور بندوق کی نالی دونوں یکساں خطرہ رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زرک میر جیسے ادیب صرف لکھنے والے نہیں، بلکہ خاموش مزاحمت کے علمبردار ہوتے ہیں۔

شال کی یادیں محض یادداشتوں کی کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسے سماج کی تاریخی جھلک ہے جہاں لفظ زندہ ہوتے ہیں، اور لکھنے والا اپنی ذات کی نفی کرکے ایک قوم کی تاریخ بیان کرتاہے ۔ زرک میر کا قلم، ان خاموش چیخوں کا ترجمان ہے جنہیں سننا استعماری قوتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم۔نہیں ۔
۔ کیونکہ جہاں بندوقیں بولتی ہیں، وہاں قلم اگر خاموش ہو جائے تو ظلم کی فتح مکمل ہو جاتی ہے۔ لیکن زرک میر جیسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ لفظ کبھی نہیں مرتےوہ مزاحمت کرتے ہیں، زندہ رہتے ہیں، اور بالآخر سچ کا زمین ہموار کرتے ہیں۔

زرک میر اپنی کتاب کے پیش لفظ میں اگرچہ ان یادداشتوں کو محض ذاتی تجربات کا مجموعہ قرار دیتے ہیں اور ان کی "تاریخی حیثیت” سے انکار کرتے ہیں، تاہم جب قاری ان صفحات سے گزرنے لگتا ہے تو رفتہ رفتہ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تحریر صرف فرد کی یادیں نہیں، بلکہ ایک قوم کی اجتماعی یادداشت، ایک جدوجہد کی زندہ تصویر، اور تاریخ کا معتبر حوالہ ہے۔
یہ یادداشتیں محض واقعات کی فہرست نہیں بلکہ سیاسی شعور، قومی شناخت اور فکری ارتقاء کا ایسا سفرنامہ ہیں جو ہر باضمیر قاری کو لمحہ بہ لمحہ سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ سیاسیات کا کوئی بھی سنجیدہ طالب علم ان اوراق میں گم ہوکر زرک میر کے حافظے کی غیرمعمولی گہرائی اور بصیرت کا قائل ہو جاتا ہے۔

زرک میر کی یادداشتوں کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب وہ صرف گیارہ برس کے تھے—ایک ایسا نازک عمر جس میں زیادہ تر ذہن ابھی دنیا کو جاننے کے ابتدائی مرحلے میں ہوتے ہیں۔ مگر زرک میر اس کم عمری میں بھی بلوچ سیاست کی نبض کو پہچاننے لگے تھے۔
ان کا پہلا شعوری مشاہدہ وہ لمحہ تھا جب بابا خیر بخش مری افغانستان سے وطن واپس آئے اور شال ایئرپورٹ پر ان کا تاریخی استقبال ہوا۔ اس اجتماع کو زرک میر نے محض ایک سیاسی جلسہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور فکری احیاء کا لمحہ قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی نبی آرہا ہو،عیسیٰ یا مہدی! اور سچ پوچھیں تو حقیقت بھی کچھ مختلف نہ تھی۔ بابا مری صرف ایک سیاسی رہنما نہ تھے، وہ بلوچ قوم کے لیے ایک پیغمبرانہ کردار کے حامل تھے؛ ایک ایسے فکری پیشوا، جنہوں نے غلامی کی راتوں میں مزاحمت کے چراغ روشن کیے۔
(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نوشکی: این ڈی پی رہنما غنی بلوچ کی بازیابی کے لیے دھرنا، تفتان روڈ بند

اتوار جون 29 , 2025
نوشکی میں این ڈی پی کے مرکزی رہنما غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف اہل خانہ اور شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے تفتان روڈ “سرمل” کے مقام پر دھرنا دے کر مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا۔ غنی بلوچ کو لاپتہ ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ