خضدار میں خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے 11 افراد فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ

بلوچستان کے ضلع خضدار سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے رواں ماہ 18 فروری کو علاقے گزگی میں ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کر مشکے نوکجو سے تعلق رکھنے والی معمر خاتون حیات بی بی کو تحویل میں لے لیا۔ اہل خانہ نے کہا ہے کہ خاتون کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے اور تاحال ان کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق حیات بی بی کے شوہر فضل کریم اور دو بیٹے، نواز اور داد شاہ فضل، کو بھی مختلف اوقات میں خضدار اور حب چوکی سے جبری گمشدگی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق 8 فروری کو حب میں چھاپوں کے دوران اسی خاندان کے مزید سات افراد کو بھی تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ لاپتہ افراد میں عبدالرب، محمد رحیم، عبدالرازق، عبدالمالک، شاہ زیب، جہانگیر، شاہ میر اور نوروز شامل ہیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ایک ہی خاندان کے 11 افراد کو تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم حکام کی جانب سے ان کی گرفتاری یا مقامِ حراست سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت کراچی سے بھی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جھاؤ اور پسنی حملوں میں چار اہلکار ہلاک واشک میں ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

ہفتہ فروری 21 , 2026
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 19 فروری کو پسنی کے علاقے کلانچ میں ڈوکی کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی اور […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ