
تحریر: دوست محمد بلوچ
میں ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہوں۔ میں سوشل میڈیا کے ہر ہتھکنڈے اور ہر بیانیے سے بخوبی واقف ہوں، چاہے وہ ریاستی ہو یا عالمی سیاست سے متعلق۔ میں جانتا ہوں کہ الفاظ کو کیسے توڑا مروڑا جاتا ہے اور جھوٹ کو سچ بنا کر کیسے بیچا جاتا ہے۔ اسی لیے میں یہ بات پورے شعور اور ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ نوشکی میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سچ نہیں ہے؛ ریاست اپنی کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اب بلوچ قوم کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ سب ایک موڑ پر آ چکا ہے۔ یہ کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔ پہلے یہ طاقت بلوچ قوم سے ڈرتی تھی، اس کی آواز سے، اس کے شعور سے؛ اور آج حالت یہ ہے کہ بلوچوں کے خالی گھروں سے بھی خوف زدہ ہے۔ جب ڈر اس حد تک پہنچ جائے کہ ویران دیواریں بھی دشمن نظر آئیں، تو یہ طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی آخری علامت ہوتی ہے۔
اگر یہ کمزوری کی علامت نہیں، بے غیرتی نہیں، کم ظرفی نہیں، تو پھر یہ کیا ہے؟ ایک خالی گھر کو بارودی مواد سے اڑاتے وقت اس کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔ ویڈیو میں کچھ لوگ “سبحان اللہ، کمال ہو گیا” جیسے الفاظ کہہ رہے تھے اور فخر کا اظہار کر رہے تھے، گویا کوئی عظیم جنگ جیت لی گئی ہو۔ یہ فتح نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
نوشکی میں ٹینکوں کے سائے، کرفیو کی زنجیریں، اور گھروں کو بارود سے اڑانا یہ سب اس سچ کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ جب ریاست خالی گھروں سے لڑنے لگے اور اسے کارنامہ بنا کر پیش کرے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ دلیل ختم، سچ غالب اور جبر بے نقاب ہو چکا ہے۔
یہ بلوچ عوام کے لیے اجتماعی سزا ہے، انسانیت کی توہین ہے، اور تاریخ کے سامنے ایک کھلا اعترافِ شکست ہے۔ گھروں کو ملبہ بنایا جا سکتا ہے، مگر ایک قوم کے شعور، اس کے سوالوں اور اس کے زخموں کی گواہی کو نہیں مٹایا جا سکتا۔ یہ “کمال” تاریخ میں فتح کے طور پر نہیں، بلکہ شرمندگی کے طور پر لکھا جائے گا۔
