
تحریر: ڈاکٹرجلال بلوچ
عمومی طور پر بیسویں صدی میں عالمی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کو قوموں کی آزادی اور خودمختاری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ اس دور میں کئی خطوں کو حقیقی آزادی بھی نصیب ہوئی، مگر یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ عالمی سامراج نے بعض علاقوں میں اپنی عملی طاقت کے خاتمے کے بجائے اسے نئے سانچوں میں ڈھال لیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی طاقتوں کی معاشی، عسکری اور سیاسی سکت اس حد تک کمزور ہوچکی تھی کہ ان کے لیے براہِ راست قبضہ برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ چنانچہ براہِ راست نوآبادیات کی جگہ بالواسطہ اجارہ داری، نیوکولونیل ازم، اور ایسی ریاستوں نے لے لی جن کا بنیادی فریضہ اپنے عوام کی خدمت کے بجائے عالمی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ تھا۔
ایسی ریاستیں کسی تاریخی، سیاسی یا مزاحمتی ارتقا کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتیں بلکہ ایک مخصوص عالمی مشن یا ٹاسک کی تکمیل کے لیے تشکیل دی جاتی ہیں۔ اسی لیے انہیں ٹاسک اورینٹڈ ریاستیں کہا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان کے قیام کی تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ ریاست بھی اسی زمرے میں آتی ہے، جسے عوامی خودمختاری، جمہوری ارتقا یا قومی آزادی کے لیے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ عالمی نظام کے تحفظ اور سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب برطانیہ دیگر خطوں کی طرح برصغیر سے بھی رخصت ہونے کی تیاری کر رہا تھا، اسی دوران عالمی طاقت کا مرکز عملاً برطانیہ سے امریکہ منتقل ہوچکا تھا۔ جاپان پر ایٹمی بم گرانے کے بعد امریکہ ایک نئی سامراجی قوت کے طور پر ابھرا، جو سوویت یونین کے مقابل ایک طاقتور عالمی متبادل بن چکا تھا۔ زارِ روس کے زوال اور بالشویک انقلاب کے بعد دنیا بھر کے محکوم اقوام کی نظریں سوشلزم پر مرکوز ہو چکی تھیں، اور کئی خطوں میں حقیقی آزادی اور خودمختاری کے خواب سوویت یونین سے وابستہ ہو گئے تھے۔ مغربی طاقتیں بخوبی آگاہ تھیں کہ ان کی نوآبادیات سوشلزم کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھنے لگی ہیں۔
انہی حالات میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع خطہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ مغرب کو ایک ایسی ریاست کی ضرورت محسوس ہوئی جو نہ صرف سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکے بلکہ خطے میں اس کے اسٹریٹیجک اور معاشی مفادات کی نگہبان بھی ہو۔ پاکستان اسی ضرورت کے تحت قائم کیا گیا، جس کا بنیادی فریضہ مغربی بلاک کے مفادات کا تحفظ تھا۔
پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی اس کی ریاستی سمت واضح ہونا شروع ہو گئی۔ یہ بات جلد ہی عیاں ہو گئی کہ یہ ایک سیکورٹی اسٹیٹ ہے، جسے عوامی فلاح، معاشی خودانحصاری اور سماجی ترقی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ اس غیر فطری ریاست میں فوج اور بیوروکریسی کو اقتدار کا مرکز بنایا گیا، جبکہ عوامی سیاست، بالخصوص قوم پرست تحریکوں کو شک اور دشمنی کی نگاہ سے دیکھا گیا اور اکثر اوقات بے رحمی سے کچلا گیا۔
قیام کے محض سات آٹھ برس بعد معاہدۂ بغداد میں شمولیت، جس کا مقصد سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنا تھا، اس حقیقت کو مزید نمایاں کر گئی کہ پاکستان خطے میں مغربی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ سیٹو اور سینٹو جیسے عسکری معاہدات میں شمولیت محض اتفاق نہیں تھی بلکہ پاکستان کے ٹاسک اورینٹڈ کردار کا کھلا اظہار تھی۔ انہی معاہدات کے ذریعے پاکستان نے اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیاں مغربی بلاک سے مشروط کر دیں، جس کے بدلے میں اسے فوجی امداد، سیاسی سرپرستی اور عالمی نظام میں ایک محدود کردار تو ملا، مگر عوامی خوشحالی، جمہوری استحکام اور قومی ہم آہنگی کبھی میسر نہ آ سکی۔
ٹاسک اورینٹڈ ریاستیں اپنے آغاز ہی سے اندرونی تضادات اور انتشار کا شکار رہتی ہیں، اور پاکستان کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ ایسی ریاست جو کسی تاریخی یا مزاحمتی ارتقا کے بجائے عالمی مشن کی تکمیل کے لیے قائم کی جائے، وہ اپنی ہی آبادی سے خوفزدہ رہتی ہے۔ یہی خوف جبر کو جنم دیتا ہے، اور جبر مزاحمت کو۔ قوم سازی کے فطری عمل کے بجائے مذہب کو ریاستی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ قومی اور سیاسی سوالات کو دبایا جا سکے اور مغربی مفادات کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
سرد جنگ کے دوران نام نہاد افغان جہاد اس پالیسی کا نقطۂ عروج تھا، جہاں پاکستان نے مغرب کے لیے فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں خطے میں مذہبی جنونیت کو فروغ ملا، جس کے اثرات سے مغرب بخوبی آگاہ تھا۔ جہاں مذہبی انتہاپسندی پروان چڑھے، وہاں کسی تعمیری، فلاحی یا ترقی پسند نظریے کے پنپنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس ٹاسک اورینٹڈ کردار کے ذریعے مغرب نے سوشلزم کو روکنے میں کامیابی ضرور حاصل کی، مگر اس کی قیمت پورے خطے نے ادا کی۔
اس سے قبل ۱۹۷۱ میں بنگلہ دیش کی آزادی بھی حقیقی اور ٹاسک اورینٹڈ ریاستی تضادات کا نتیجہ تھا، لیکن بنگلہ دیش کی آزادی مغرب کے لیے کوئی دردِ سر نہیں تھا کیوں کہ سوشلزم کو مشرقِ وسطیٰ اور گرم پانیوں تک روکنا تھا لہذا ایسے میں بنگلہ دیش کی اہمیت ختم ہوچکی تھی اسی لیے دنیا کے نقشے پر ایک اور ملک معرضِ وجود میں آگیا۔ اس کے برعکس بلوچستان کی اہمیت برقرار رہی، کیونکہ یہ خطہ مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ اسی لیے بلوچستان میں سوشلزم اور قومی آزادی کی تحریکوں کو روکنے کے لیے پاکستان کو مزید فعال کیا گیا۔
البتہ وقت گزرنے کے ساتھ خطے میں بسنے والوں کے درمیان تضادات مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اس بات کا پہلا بڑا ثبوت تھا کہ ایک ٹاسک اورینٹڈ ریاست زیادہ دیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔
بنگالیوں اور بلوچوں نے روزِ اول سے ہی مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ بنگال میں زبان کے مسئلے سے شروع ہونے والی جدوجہد نے آزادی کی صورت اختیار کی، جبکہ بلوچستان میں بلوچوں نے اپنی تاریخی ریاست پر جبری قبضے کے خلاف مزاحمت کی بنیاد رکھی۔ آج بلوچستان کے ساتھ ساتھ سندھ، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں بھی ریاست اور عوام کے درمیان خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔ خصوصاً بلوچستان میں قومی مزاحمت ایک اجتماعی شعور میں ڈھل چکی ہے، جو محض احتجاج نہیں بلکہ ایک منظم قومی آزادی کی تحریک ہے۔ جو ٹاسک اوینٹڈ ریاست کی بنیادوں کو چیلنج کر رہا ہے۔
اسی دوران دیگر اقوام بھی پاکستان کے ریاستی ڈھانچے سے شدید نالاں ہیں۔ سندھ کی قومی تحریک آزادی بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے جہاں عوام نے اب یہ ادراک کرلیا ہے کہ پاکستان ایک ٹاسک اوینٹڈ ریاست ہے جس کی اشرافیہ جنہوں نے نوآبادیاتی دور میں برطانیہ کے لیے سہولت کاری کی یا پھر اسٹبلشمنٹ فقط اپنے آقاؤں کے مقاصد کی تکمیل کے لیے بیٹھی ہیں، اسی لیے آج وہ بھی عوام وسائل، دریاؤں، قومی شناخت اور قومی آزادی کے سوال پر ریاستی پالیسیوں سے متصادم ہیں۔
پشتون علاقے جن میں اولذکر برطانیہ نے مذہبی سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش کی، ازاں بعد اس ٹاسک اورینٹڈ ریاست نے مغربی مفادات کے تحفظ کے لیے جس میں سوشلزم کی روک تھام سرِفہرست تھا، مذہبی جنونیت کو فروغ دیا۔ سویت یونین کے انہدام کے کچھ ہی عرصے بعد اس سوچ نے پشتون سماج میں کو مستقل عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا ہے، اور نتیجہ خطے میں مذہبی عسکریت پسندی کی صورت میں سامنے آیا، اور ریاست نے اپنے تشکیل کردہ جھتوں کو کچلنے کے لیے اقدامات شروع کیے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ مہاجرت پر مجبور ہوگئے۔ پشتونوں کی اس صوررتحال نے قوم پرستی کو فروغ دیا جس کے بعد گزشتہ کچھ عرصے سے وہاں ریاست کے خلاف تحریک بھی شروع ہوئی، اس کے ساتھ ریاستی جبر کی وجہ سے مذہبی عسکریت پسندی میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ اسی طرح کشمیر میں بھی ریاست کا مؤقف اور زمینی حقائق ایک دوسرے سے متصادم ہیں، جہاں عوام کی خواہشات کو سیکورٹی بیانیے کے نیچے دبایا جاتا ہے۔ یہ سب اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان ایک ٹاسک اورینٹڈ ریاست ہے، جو اپنی داخلی قومیتوں کے ساتھ فطری تعلق قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسی ریاست کا انجام کیا ہو سکتا ہے جو اپنی داخلی قومیتوں سے برسرِپیکار ہو، سیاسی، معاشی اور سماجی حوالے سے مسلسل بحران کا شکار ہو اور جس کی معیشت بیرونی قرضوں اور عالمی اداروں کے رحم و کرم پر ہو، جس کی پالیسیاں اس کے آقا بناتے ہوں، جس کے رہنماؤں کا انتخاب بھی مغرب کے ہاتھ ہو۔ ایسی صورتحال میں سیاست اور تاریخ کا طالب علم یہ نتیجہ اخذ کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ٹاسک اورینٹڈ ریاستیں اسی وقت تک قائم رہتی ہیں جب تک وہ اپنے آقاؤں کے لیے مفید رہیں۔ جیسے ہی عالمی ترجیحات بدلتی ہیں یا مطلوبہ ٹاسک مکمل ہو جاتا ہے، ایسی ریاستیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔ آج عالمی سیاست میں سوشلزم کی جگہ وسائل، معدنیات اور اسٹریٹیجک راہداریوں نے لے لی ہے، اور اسی تناظر میں بلوچستان کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔
بلوچستان کے قدرتی وسائل عالمی طاقتوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتے ہیں، یہاں ایک اندازے کے مطابق سیکڑوں قسم کے معدنیات وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جن میں سونا، تانبہ، تیل، گیس، کاپر، سفلائیٹ، یورینیم، میگنشیم، کوئلہ اور دیگر، جو عالمی منڈی کے لیے باعث کشش ہیں۔ یہ معدنی وسائل اب عالمی طاقتوں کے لیے موت و زیست کی صورت اختیار کرچکی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اب مغرب کو محض ایک چوکیدار ریاست کی نہیں بلکہ ایسی ریاست کی ضرورت ہے جو مقامی آبادی کی رضامندی کے ساتھ وسائل تک رسائی ممکن بنا سکے۔
ان وسائل تک رسائی کے لیے پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے سرمایہ کاری بھی ہورہی ہے، لیکن نتیجہ حوصلہ افزا نہیں۔ انہیں چونکہ ان وسائل تک بلا روک ٹوک رسائی درکار ہے لہذا یہ امکان رد نہیں کیا جاسکتا کہ اب وہ اپنے قائم کردہ اس ٹاسک اورینٹڈ ریاست کی بجائے متبادل راستہ تلاش کریں، جو خطے میں قومی ریاستوں کے ظہور کی صورت میں رونما ہوسکتا ہے۔
بلوچ قومی ریاست کے قیام کے لیے بلوچوں کی مزاحمت نے کسی حد تک راستہ بھی ہموار کرلیا ہے اور دنیا کو یہ یقین دہانی بھی کروالیا ہے کہ بلوچوں کے وسائل بلوچوں کی مرضی کے بغیر نکالنا ناممکن ہے۔ جیسے سی پیک جیسے پینسٹھ بلین ڈالر کے میگا پروجیکٹ کی زبوحالی اور حالیہ دنوں مسلح مزاحمت کے ذریعے پہلے نوکنڈی میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کا منظم حملہ اور اس کے فوراً بعد رخشان کے شہر خاران میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کا ایک دن کے لیے مکمل کنٹرول اور نوے سے زائد ہتھیاروں کو قبضے میں لینا اور درجنوں فوجیوں کو ان کے انجام تک پہنچانا۔۔۔ ان دو منظم حملوں کے بعد بلوچ لبریشن آرمی کا آپریشن ہیروف ٹو جہاں بلوچ لبریشن آرمی نے بارہ اضلاع میں مربوط حملوں کے ذریعے دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ بلوچستان کی آزادی نہ صرف خطے میں امن کی ضمانت ہے بلکہ تعمیر کے در بھی اسی سے نتھی ہیں۔ لہذا اب بلوچوں نے اپنی جدوجہد سے یہ ثابت کردیا کہ بلوچ مسئلہ محض ایک داخلی معاملہ نہیں بلکہ قومی آزادی کی تحریک ہے، جسے عالمی مسئلہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس بات سے بھی انکار کی گنجائش نہیں ایسی ریاست وقت کے ساتھ وہ اندرونی انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے یا پھر اس کے آقا اس کے ختم ہونے کا فرمان جاری کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ٹاسک اورینٹڈ ریاستیں اپنے اختتام کے قریب پہنچتی ہیں تو وہ مزید جارح ہو جاتی ہیں۔ جیسے میں بنگال میں تیس لاکھ بنگالیوں کا قتلِ عام ہوا۔ اسی طرح بلوچستان کی صورتحال بھی ہمارے سامنے جہاں بکھری ہوئی آبادی کے باجود اب تک ستر ہزار سے زائد لوگ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو قتل کیا جاچکا ہے، جسے نسل کشی نہیں تو اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ یہ سب اسی آخری مرحلے کی علامتیں ہیں، اور بالآخر یہی جبر ایسی ریاست کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا ہے۔
سیاسی، نظریاتی اور منطقی اعتبار سے دیکھا جائے تو ٹاسک اورینٹڈ ریاست بالآخر اپنی افادیت کھو دیتی ہے، اور اس کی جگہ قومی ریاستوں کا قیام ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ جو ریاستیں قوموں کی مرضی، جدوجہد، اجتماعی شعور اور تاریخی ارتقا کے برخلاف قائم کی جاتی ہیں، وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتیں۔
آج پاکستان کے اندر موجود مختلف اقوام اس ریاست کے اصل محرکات کو سمجھ چکی ہیں۔ بلوچ تحریک اس شعور کی سب سے واضح مثال ہے، جبکہ یہی کیفیت سندھی، پشتون اور کشمیری سماج میں بھی پائی جاتی ہے۔ ٹاسک اورینٹڈ ریاست کا بنیادی تضاد یہی ہے کہ وہ جغرافیے کو محض عسکری نقشہ سمجھتی ہے، جبکہ قومیں اسے اپنی تاریخ، شناخت اور مستقبل تصور کرتی ہیں۔ یہی تضاد بالآخر جغرافیائی تبدیلی کو جنم دیتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی اس خطے میں ترجیحات تبدیل ہوچکی ہیں، جیسے پہلے سوشلزم کی روک تھام اولین فریضہ تھا، لیکن اب معدنیات کا حصول اور عسکری سٹریٹجیک ترجیحات کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان جیسا خطہ اس نئی عالمی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ایسے میں مغرب کے لیے ایک ایسی ریاست زیادہ سودمند ہو سکتی ہے، جو فطری ہو۔ نہ کہ ایک ایسی ریاست جو ٹاسک اووینٹڈ ہو اور جس کا کوئی تاریخی پسِ منظر ہی نہ ہو۔ اسی لیے یہ حقیقت بھی پاکستان جیسی ٹاسک اورینٹڈ ریاست کے مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا دیتی ہے۔
معروضی حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کا موجودہ بحران کسی ایک ریاست کے خاتمے کا نہیں بلکہ ایک نوآبادیاتی، مصنوعی اور ٹاسک پر مبنی ڈھانچے کے اختتام کا اشارہ ہے۔ اگر خطے کی اقوام اپنی قومی آزادی کی جدوجہد کو منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھائیں، تو یہ عمل ایک نئے، زیادہ فطری اور مستحکم سیاسی نقشے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومی آزادی تکلیف دہ ضرور ہوتی ہے، مگر ناگزیر بھی، اور یہی اس خطے کے تاریخی تضادات کا واحد منطقی حل ہے۔
