حب چوکی سے کراچی جاتے ہوئے نوجوان طالب علم جبری لاپتہ

مشکے میانی قلات سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علم یاسر عرفات کو 2 فروری کو حب چوکی سے کراچی جاتے ہوئے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

یاسر عرفات پیشے کے اعتبار سے گومل یونیورسٹی میں ساتویں سمسٹر کے طالب علم ہیں۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ یاسر ایک پرامن طالب علم ہے اور اس کا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی گمشدگی نے پورے خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

اہلِ خانہ نے اعلیٰ حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ذمہ دار اداروں سے اپیل کی ہے کہ یاسر عرفات کو فوری طور پر بازیاب کر کے اہلِ خانہ کو اس کرب اور ذہنی کوفت سے نجات دلائی جائے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

تربت: نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے نوجوان ہلاک

بدھ فروری 4 , 2026
تربت کے علاقے سنگانی سر، مومن محلہ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان کی شناخت بالاچ ولد خالد، سکنہ سنگانی سر تربت کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نامعلوم […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ