
بلوچ آزادی پسند رہنما اختر ندیم بلوچ نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کی 122ویں سالگرہ کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ سائیں جی۔ ایم۔ سید کے نظریاتی کارکنان اور فکری ساتھی اس جدوجہد کے وہ روشن چراغ ہیں جنہوں نے ہر دور میں جبر، قید و بند اور ریاستی دباؤ کے باوجود سندھ کی قومی آزادی کے نظریے کو زندہ رکھا۔ ان کی ثابت قدمی، نظریاتی وابستگی اور قربانیاں سندھ کی سیاسی تاریخ کا ایک قابلِ فخر باب ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے نازک اور فیصلہ کن دور میں جی۔ ایم۔ سید کے کارکنان پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد، تنظیم اور نظریاتی پختگی کو مزید مضبوط کریں۔ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مقصد کو مقدم رکھا جائے اور سندھو دیش کے نظریے کو عوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔
بلوچ رہنما نے کہا کہ سائیں جی۔ ایم۔ سید کا فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قومیں طاقت سے نہیں بلکہ شعور، سیاسی بصیرت اور مسلسل جدوجہد سے آزادی حاصل کرتی ہیں۔ ان کے کارکنان کو چاہیے کہ وہ مزاحمتی سیاست اور جہدِ مسلسل کے ذریعے سندھ کے ہر طبقے کو اس تحریک میں شامل کریں اور قومی شعور کو ایک منظم قوت میں تبدیل کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک منظم مگر فیصلہ کن مزاحمتی تحریک ہی سندھ کی آزادی، قومی وقار اور مستقل خودمختاری کی ضامن بن سکتی ہے، اور جی۔ ایم۔ سید کے نظریاتی کارکنان ہی اس تاریخی جدوجہد کے اصل معمار ہیں۔
