
حب چوکی سے مبینہ طور پر پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کی جانب سے حراست کے بعد جبری طور پر لاپتہ کی جانے والی خاتون کے اہلِ خانہ نے حب لسبیلہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جبری لاپتہ فاطمہ بنت محمد قاسم کے بھائی نے بتایا کہ ان کی بہن کو 13 جنوری کو اکرم کالونی میں واقع ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی روز گزرنے کے باوجود اہلِ خانہ کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ فاطمہ کہاں ہے اور اسے کس الزام یا جرم کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق وہ حب چوکی کے مستقل رہائشی ہیں اور علاقے کے عوام اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کا خاندان کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر فاطمہ پر کوئی الزام ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔
اہلِ خانہ نے پاکستانی حکومت، عدلیہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ فاطمہ کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
