وی بی ایم پی کے احتجاج کو 6044 دن مکمل، جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کی شرکت

کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ کو آج 6044 دن مکمل ہوگئے۔ احتجاجی کیمپ کی قیادت تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کر رہے ہیں۔

آج کے احتجاج میں جبری لاپتہ غنی بلوچ اور فرید بلوچ کے لواحقین نے شرکت کی اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ شرکاء نے جبری گمشدگیوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظرعام پر لایا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اس موقع پر جبری لاپتہ غنی بلوچ کے بھائی پروفیسر عبدالقیوم بادینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی غنی بلوچ کو گزشتہ سال 27 مئی کو کوئٹہ سے کراچی جانے والی المنیر کوچ سے خضدار کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا، جس کے بعد وہ جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان نے غنی بلوچ کی بازیابی کے لیے آئینی اداروں اور متعلقہ فورمز سے مسلسل رجوع کیا، تاہم تاحال ملکی قوانین کے مطابق انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

پروفیسر عبدالقیوم بادینی کا کہنا تھا کہ انصاف کی عدم فراہمی کے باعث ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جبری لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل نکالیں۔

احتجاجی کیمپ کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پانچ ماہ کی جبری گمشدگی کے بعد چنگیز بلوچ بازیاب

جمعہ جنوری 2 , 2026
کراچی کے معروف کتب بازار اردو بازار میں واقع اشاعتی ادارہ علم و ادب کے مرکزی دفتر کے رکن چنگیز بلوچ 165 دنوں کی جبری گمشدگی کے بعد بازیاب ہو گئے ہیں، جس پر اہلِ خانہ، دوستوں اور ادبی حلقوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ تفصیلات کے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ