
اسلام آباد: بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کا قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں جاری دھرنا آج نویں روز میں داخل ہو گیا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جائز اور واضح مطالبات کے لیے پُرامن اور منظم جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا عزم مزید پختہ ہو چکا ہے اور وہ یونیورسٹی انتظامیہ اور حکام سے فوری ردعمل کی توقع رکھتے ہیں۔
کونسل کے مطابق، آج ایک پُرامن واک کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ ان کی تحریک پُرامن مزاحمت، اصولوں اور اجتماعی اتحاد پر مبنی ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ گزشتہ نو دنوں میں ان کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور وہ کسی صورت اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
طلبہ نے اپنے مطالبات کو دو واضح نکات میں بیان کیا ہے: پہلی بات جبری لاپتہ ساتھیوں کی فوری بازیابی، اور دوسری بات بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ بند کرنے کا مطالبہ۔ مظاہرین نے کہا کہ ان کی تحریک حق کے لیے ہے اور وہ اپنے جائز حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کونسل کا کہنا تھا کہ اس پُرامن تحریک میں ہر گزرتے دن کے ساتھ طلبہ کا اتحاد مزید مستحکم ہو رہا ہے اور یہ اتحاد بلوچ قوم کے حقوق کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس جدوجہد میں اکیلے نہیں ہیں، بلکہ پورے بلوچ قوم کا ساتھ ان کے ساتھ ہے۔
