چھ ہزار دن کا نوحہ: انسانی ضمیر کی طویل ترین خاموشی

تحریر: نصیر بلوچ
زرمبش مضمون

چھ ہزار دن کا نوحہ :  انسانی ضمیر کی طویل ترین خاموشی

 دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا پرامن اور مستقل احتجاج ملے جو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے کیمپ کی طرح چھ ہزار دن تک قائم رہا ہو۔ یہ احتجاج صرف ایک کیمپ نہیں، بلکہ بلوچ قوم کے ہزاروں زخموں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہ اُن والدین، بہنوں، بیٹیوں اور بیواؤں کی خاموش چیخیں ہیں جن کے پیارے برسوں سے نہ واپس آئے اور نہ ان کی کوئی خبر ملی۔ یہ کیمپ ظلم کے خلاف مظلوم کی آخری پناہ گاہ بھی ہے اور دنیا کے اجتماعی ضمیر پر ایک کاری سوال بھی۔ دنیا میں کوئی اور مثال شاید ہی ملے جہاں کسی قوم نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے اتنی طویل جدوجہد کی ہو جتنی بلوچ قوم نے کی ہے۔

یہ احتجاجی کیمپ انسانی تاریخ کے اُن چند بابوں میں شامل ہو چکا ہے جو طاقتوروں کی بے حسی اور مظلوموں کے حوصلے، دونوں کو ایک ساتھ بے نقاب کرتے ہیں۔یہ کیمپ چھ ہزار دنوں سے قائم ہے لیکن بہت سے عالمی ضمیروں پر چھ ہزار دنوں سے بھی طویل خاموشی قائم ہے۔ لیکن صد افسوس! اس کیمپ کا درد جسے دنیا نے نہیں دیکھا۔ پاکستان کے جبری گمشدگیوں کے شکار خاندانوں کا یہ کیمپ کسی شہر کی عام احتجاجی جگہ نہیں، بلکہ صبر، اذیت، امید اور انسانی تکلیف کا مرکز بن چکا ہے۔ اس میں بیٹھنے والی مائیں، بیوہ عورتیں اور یتیم بچے کسی سیاسی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے پیاروں کے جنازے تک کی خبر لینے کے لیے بیٹھے ہیں۔ یہ کیمپ کبھی کوئٹہ کبھی  کراچی  اور کبھی اسلام  آباد کے پریس کلبوں کے سامنے اپنی فریاد دنیا کو سنانے آتا ہے ۔

ماما قدیر بلوچ نے ہزاروں کلومیٹر طویل پیدل مارچ کیا، سمی دین بلوچ نے اپنی ساری جوانی فریادی کیمپ میں گزار دی، اور فرزانہ مجید نے ہرپلیٹ  فارم میں ماوں کے گرتے آنسو میڈیا کے سامنے دکھائے ، مگر پھر بھی دنیا کی ضمیر نہیں جاگی۔

لیکن دنیا کا میڈیا کو یوکرین سے فلسطین تک کی ہر جگہ کی تصاویر دکھانے کی جلدی ہوتی ہے مگر بلوچستان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ یہ خاموشی بدترین بے حسی ہے۔ ان چھ ہزار دنوں میں نہ کسی عالمی انسانی حقوق کے ادارے نے اپنے قلم کو حرکت دی، نہ کسی بڑے میڈیا نے اپنی کیمرہ آن کیا، نہ کسی عالمی تنظیم نے ایک سطر کے بیان کی زحمت اٹھائی۔ یہ عالمگیر خاموشی خود ایک جرم ہے ایک ایسا جرم جو ہر اُس آواز کو بے نقاب کرتا ہے جو انسانیت کا درس دیتی ہے مگر خود مظلوموں پر آنکھیں بند رکھتی ہے۔

کیمپ کے پیچھے رونے والی مائیں، بوڑھے باپ اور یتیم بچوں کا یہ کیمپ مٹی کے فرش پر نہیں بنایا گیا یہ ماؤں کے دلوں کے ٹکڑوں پر رکھا گیا ہے۔ اس کی دیواریں بیواؤں کی سسکیوں سے بنی ہیں، اور اس کی چھت وہ امید ہے جو ہر دن ٹوٹ کر دوبارہ جڑ جاتی ہے۔ دنیا شاید نہ سمجھے، لیکن ہر گمشدہ بلوچ نوجوان کے والدین کی ایک رات پورے انسانی ضمیر سے زیادہ بھاری ہوتی ہے۔ یہ کیمپ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان صرف خون بہانے کے لیے طاقتور نہیں بنتا، بلکہ ظلم سہنے کے لیے بھی مظلوم بنتا ہے۔یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ عالمی ادارے صرف طاقتوروں  کے محافظ ہیں، مظلوم کے نہیں۔جب ہم عالمی طاقتوں کی طرف دیکھتے ہیں امریکا ہو یا روس، چین ہو یا یورپ سب کے ہونٹوں پر “انسانی حقوق” کی لاریب باتیں، لیکن ہاتھوں میں ہتھیاروں کی تجارت کے سودے!

 دنیا کے یہ بڑے ممالک روز نئی ٹیکنالوجی، نئے میزائل اور نئے قاتلانہ ہتھیار بنا کر کمزور خطوں کو ڈراتے ہیں۔ جنہیں امن کا پرچار کرنا تھا، وہی موت کے سوداگر بن چکے ہیں۔ جنہیں مظلوموں کی آواز بننا تھا، وہی ظالموں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسے میں مظلوم اقوام کا یقین ٹوٹ جانا کوئی حیرت نہیں۔دنیا کا یہ رویہ صرف بلوچوں کے ساتھ نہیں بلکہ پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عالمی ادارے ہمیشہ طاقتوروں  کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، مظلوم کے ساتھ  نہیں۔

فلسطین 76 سالہ مظلومیت اور اقوام متحدہ کی بے بسی ، فلسطین پر جاری قبضے اور نسل کشی کے خلاف اقوام متحدہ نے سیکڑوں قراردادیں پاس کیں، لیکن آج تک ایک بھی نافذ نہ ہو سکی۔   یہ اسرائیل کی طاقت  ہے  کہ اس  نے  اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کو نظر انداز کر دیا۔

بنگلہ دیش 1971  عالمی طاقتیں خاموش تھیں 1971 میں جب ڈھاکہ کی گلیوں میں لاشیں بچھ گئیں، جب بنگالی عورتوں کی عصمت دری منظم پالیسی بن گئی، جب ریاستی فوج نے لاکھوں لوگوں کو مار دیا اس وقت بھی امریکہ نے جنرل یحییٰ خان کی حمایت کی اور اس ظلم پر آنکھیں بند رکھیں۔  عالمی ضمیر اس وقت بھی مردہ تھا، جیسے آج بلوچوں کے معاملے میں ہے۔

روہنگیا نسل کشی دنیا تماشائی بنی رہی میانمار کی فوج نے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو جلا وطن کیا، گاؤں جلا دیے، عورتوں کو اغوا کیا، ہزاروں کو مار دیا مگر دنیا نے صرف “تشویش” کا اظہار کیا۔

الجزائر 132 سالہ نوآبادیاتی ظلم فرانس نے الجزائر میں 10 لاکھ سے زائد لوگوں کو قتل کیا۔ اقوام متحدہ نے دہائیوں تک کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا۔ آخرکار الجزائر نے مزاحمت اور قربانی کے ذریعے آزادی حاصل کی۔  

چھ ہزار دنوں کے اس احتجاج نے ایک تلخ حقیقت کو واضح کر دیا ہے:

دنیا میں انصاف صرف طاقت والوں کے لیے ہے۔ مظلوم چاہے برسوں فریاد کرے، ان کی چیخیں سلامتی کونسل کی دیواروں تک نہیں پہنچتیں۔ یہ اس عالمی نظام کی افسوسناک تصویر ہے جو انصاف کے نام پر قائم ہوا مگر طاقت کے آگے سجدہ ریز ہو چکا ہے۔

  ظالم کی زبان میں جواب دیے بغیر انصاف نہیں ملتا ،تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جو اقوام اپنی بقا کے لیے اٹھ کھڑی نہ ہوں، دنیا انہیں کبھی انصاف نہیں دیتی۔ الجزائر، ویتنام، بنگلہ دیش، روانڈا ہر جگہ مظلوم کو تب ہی تسلیم کیا گیا جب اس نے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی قسم اٹھائی، قربانی دی، اور اپنی زمین کی قیمت خون سے ادا کی۔ اسی لیے بلوچ قوم بھی جان چکی ہے کہ اگر وہ اپنی آواز کو دنیا تک پہنچانا چاہتی ہے تو اسے اپنی قوت، اتحاد اور مزاحمتی شعور کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ عالمی ادارے صرف اسی مظلوم کو سنتے ہیں جو اپنی طاقت کو منوا لے۔

کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل لانگ مارچ کا مقصد گونگے بہرے حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجوڑنا تھا، ماماقدیر بلوچ ، ریاست کے تمام اداروں کے دروازوں کو انصاف کیلئے کھٹکھٹا چکے مگر کہیں سے  داد رسی نہیں ہوئی

 ماما قدیر کی قیادت میں تاریخ ساز لانگ مارچ اور عالمی ضمیر کی وہی خاموشی:

 بلوچستان کے گمشدہ افراد کے لیے جدوجہد محض ایک کیمپ تک محدود نہیں رہی۔ اس جدوجہد نے اُس دن عالمی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی جب ماما قدیر بلوچ اور بلوچ بیٹیوں نے ایک ایسا لانگ مارچ شروع کیا جو اپنی نوعیت کا پہلا، طویل ترین اور سب سے دردناک احتجاج تھا۔ یہ مارچ شال (کوئٹہ) سے کراچی اور وہاں سے اسلام آباد تک تقریباً 2500 کلومیٹر پر مشتمل تھا۔ دنیا میں کوئی اور قوم، کوئی اور مظلوم طبقہ، اور کوئی اور بزرگ اس طرح اپنے گمشدہ بچوں کی تلاش میں قدم بہ قدم ملک کی جغرافیائی ریڑھ کی ہڈی کو عبور نہیں کرتا مگر بلوچوں نے یہ کر دکھایا۔

 یہ مارچ کیوں تاریخی تھا؟

 1. دنیا کا طویل ترین انسانی حقوق لانگ مارچ : دنیا میں بہت سے مارچ ہوئے گاندھی کا نمک مارچ (240 میل) -امریکہ میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کا مارچ (54 میل) -ماؤ کے “لانگ مارچ” کو سیاسی قوت حاصل تھی مگر بلوچ ماں بیٹیوں اور ایک بوڑھے باپ کا 2500 کلومیٹر پیدل سفر دنیا کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔

 2. یہ مارچ طاقت کے خلاف نہیں انسانیت کی تلاش میں تھا ان کا مطالبہ کوئی سیاسی مراعات نہیں تھا، کوئی عہدہ نہیں، کوئی طاقت نہیں صرف اتنا کہ ہمارے بچوں کی قبریں تو دکھا دو۔ یہ دنیا کے ہر انسانی ضمیر کے لیے ایک امتحان تھا۔

ماما قدیر بلوچ : بوڑھا بدن، مگر فولاد جیسا حوصلہ ماما قدیر کی عمر اُس وقت ستر کے قریب تھی، پاؤں میں کوئی جوانی کی طاقت نہیں تھی ، مگر دل میں وہ درد تھا جو پہاڑوں کو بھی ہلا سکے۔ ان کے ساتھ چلنے والی خواتین سمی دین بلوچ، فرزانہ مجید،  اور کمسن بچہ علی حیدر ہر ایک اپنی زندگی کا داغ سینے میں لیے لاکھوں قدموں کا سفر کر رہی تھیں۔ یہ منظر صرف بلوچ تاریخ کا نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا اثاثہ ہے۔

  لیکن… دنیا خاموش رہی جیسے آج چھ ہزار دنوں پر خاموش ہے سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح آج VBMP کے چھ ہزار دن مکمل ہونے پر عالمی طاقتیں، میڈیا اور ادارے خاموش ہیں، اسی طرح اس لانگ مارچ کے دوران بھی ایک قبری خاموشی نے پورے عالمی ضمیر کو ڈھانپ لیا تھا۔ عالمی میڈیا نے اس پیدل  مارچ کو بلیک آؤٹ کیا ،  اس پیدل  مارچ کو وہ جگہ نہ دی جو چند گھنٹوں کے احتجاجات کو دی جاتی ہے۔ CNN، BBC، Al Jazeera سب خاموش رہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں تماشائی بن گئیں Amnesty، HRW، UNHRC کسی نے باضابطہ وفد بھیجنے کی زحمت نہ کی۔ یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ مظلوم کی تکلیف طاقتوروں کے لیے “خبر” نہیں ہوتی۔

 پاکستانی میڈیا نے دانستہ نظرانداز کیا ، ملک کے اندر میڈیا جبر، سینسرشپ اور اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے آزاد نہیں ہے۔ وہاں سچ صرف تب دکھایا جاتا ہے جب طاقتور اسے دکھانے کی اجازت دیں۔ بلوچ لانگ مارچ ان طاقتوں کے “بیانیے” کے خلاف تھا، اس لیے مکمل بلیک آؤٹ کیا گیا۔ یہ خاموشی نئی نہیں تاریخ بھر میں مظلوموں کے ساتھ ایسا ہوا ہے ،  دنیا ہمیشہ طاقتور کی آواز سنتی ہے، مظلوم کے آنسو نہیں۔

 نیلسن منڈیلا نے کہا: “

The world remains silent until the oppressed rise.”

جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز 40 سال رہا، دنیا 35 سال تک خاموش رہی۔

 الجزائر  میں  132 سال فرانس کا قبضہ رہا، دنیا صرف آخری 10 سال میں بولی جب الجزائر نے خود لڑنا شروع کیا۔ بوسنیا نسل کشی (1995) 8000 مسلمان دن دہاڑے قتل ہوئے، یورپ خاموش رہا، اقوام متحدہ خاموش رہا۔ بلوچستان پر خاموشی بھی اسی عالمی روایت کا حصہ ہے۔

پیدل   لانگ مارچ  اور 6000 دن کی احتجاج پر خاموشی  ایک ہی کہانی  :

یہ دونوں واقعات ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں دنیا مظلوم کی تکلیف نہیں دیکھتی، صرف طاقت  کودیکھتی ہے جب تک مظلوم اپنی طاقت نہیں دکھاتا، دنیا اسے سنجیدہ نہیں لیتی۔ عالمی سیاست  کبھی اخلاق اور انصاف پر نہیں چلتا ، وہ ہمیشہ  اپنی ملکی اور قومی مفادات  دیکھ کر چلتی ہے اگر بلوچستان کسی عالمی طاقت کا “اسٹریٹجک کارڈ” ہوتا  تو آج دنیا انہیں ڈھونڈنے نکل پڑتی۔

  دنیا کی بے حسی: چھ ہزار دن کا تماشہ، دنیا کی اس بے حسی کو کیا نام دیا جائے؟

 کیا اس انسانیت کا ماتم لکھا جائے؟ یا اس عدالتی نظام کی قبر پر پھول رکھے جائیں؟ جو چھ ہزار دن کے احتجاج کو بھی نہ دیکھ سکا؟ کیا بین الاقوامی میڈیا کو یہ چھ ہزار دن نظر نہیں آئے؟ کیا انہیں  نے وہ معصوم مائیں نہیں دکھیں جو اپنے بچوں کے نام پکارتے پکارتے اس دنیا سے چلے گئے؟، یا ان معصوم بچوں کے سوال کہ  ہمارے ابو کہاں ہیں ؟سوال کرتے کرتے جوان ہو چکے ہیں ۔

   طاقتور ممالک کا اصل چہرہ: لفظ انسانیت، عمل بربریت ۔

امریکہ جمہوریت کے علمبردار مگر عراق، افغانستان، لیبیا اور شام میں انسانیت کے جنازے خود اٹھائے۔روس ، انسانی ہمدردی کی زبان مگر چیچنیا اور یوکرین میں انسانیت کو روندتا رہا۔چین امن کی بات ،مگر سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے لیے “ری ایجوکیشن کیمپس” قائم کیے۔یورپ انسانی حقوق کے تاجدار، لیکن افریقہ میں نوآبادیاتی قتلِ عام کے اصل قصوروار ہیں ۔

عالمی صحافت کی تحقیقات

 بلوچ پیدل لانگ مارچ اور 6000 دن کا احتجاجی کیمپ  کیوں نظرانداز کیا گیا؟

ماما قدیر اور بلوچ بیٹیوں کے 2500 کلومیٹر کے تاریخی لانگ مارچ اور VBMP کے 6000 دنوں کے احتجاجی کیمپ پر عالمی میڈیا کی خاموشی کوئی حادثہ نہیں تھی یہ طاقت، مفادات، جیو پولیٹکس اور ریاستی بیانیے کے گہرے جال کا نتیجہ ہے۔ دنیا کے بڑے میڈیا ادارے جنہیں “آزاد صحافت” کہا جاتا ہے، حقیقت میں بڑی طاقتوں کے سیاسی و معاشی مفادات سے بندھے ہوئے ہیں۔ بلوچ جدوجہد کی مثال اس حقیقت کی سب سے واضح اور زندہ علامت ہے۔

. بین الاقوامی میڈیا کا جیو پولیٹیکل ایجنڈا ،  دنیا کے بڑے میڈیا ہاؤسCNN ، BBC، Al Jazeera ، DW،  France 24 سب کے اپنے حکومتی، سفارتی اور معاشی اہداف ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں میڈیا کی پابندیاں کیوں بڑھ جاتی ہیں؟ اس کی  بہت سی وجوہات ہیں مثلا :

چین کا سی پیک اور مغربی مفادات  :بلوچستان چین کے لیے “اسٹریٹجک روٹ” ہے۔ مغربی طاقتیں، خصوصاً امریکہ، پاکستان کے خلاف کھل کر رپورٹنگ سے احتیاط کرتی ہیں تاکہ چین کے خلاف توازن برقرار رہے۔بلوچستان میں میڈیا یا غیر ملکی رپورٹرز کو داخلہ تک نہیں دیا جاتا۔

 پاکستان کا دنیا کی ایٹمی طاقت ہونا ، بین الاقوامی میڈیا ہمیشہ ان ممالک کے خلاف کمزور رپورٹنگ کرتا ہے جن کے ساتھ عالمی طاقتوں کے فوجی یا سٹرٹیجک تعلقات ہوں۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک کے پاکستان کے ساتھ فوجی روابط، اسے “سٹریٹجک کلائنٹ اسٹیٹ” بناتے ہیں۔

  بلوچستان کی خبروں کو جان بوجھ کر نظروں سے دور رکھا جاتا ہے۔ عالمی صحافت کی تحقیق: کیوں بلوچوں کو جگہ نہیں ملتی؟ دنیا کے بڑے تحقیقاتی اداروں نے اس چیز پر کھل کر نہیں لکھا، مگر کچھ آزاد صحافیوں اور شائع شدہ دستاویزات نے سچائی کے دروازے ضرور کھولے۔

  نیویارک ٹائمز (NYT) کی سینسرشپ کے بارے میں خفیہ انکشاف NYT کے ایک سابق رپورٹر Declan Walsh نے اپنی کتاب “The Nine Lives of Pakistan” میں لکھا ہے کہ "بلوچستان پاکستان کا وہ حصہ ہے جس پر لکھنے کی قیمت اکثر جان سے چکانی پڑتی ہے۔”

اس کتاب میں بلوچ لانگ مارچ کا ذکر نہ کر پانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ صحافیوں کو بلوچستان پر “لکھنے کی اجازت” نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ ماما قدیر کا 2500 کلومیٹر کا تاریخی مارچ بھی عالمی خبروں میں جگہ نہیں پا سکا۔

عالمی میڈیا کے دوہرا معیار: ایک تلخ حقیقت جب فرانس میں کوئی کتا گم ہو جائے تو CNN اور BBC اس پر بھی سٹوری چلاتے ہیں۔ جب پیرس میں 200 افراد احتجاج کریں تو دنیا بھر کے صحافی پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن… جب بلوچ قوم کے ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوں، جب بلوچ بیٹیاں  2500 کلومیٹر پیدل چلیں، جب 6000 دن کا  وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا  احتجاجی کیمپ دنیا کے سامنے ہو،  پھر بھی خاموشی؟یہ دوغلا پن صرف حکمت عملی نہیں، بلکہ عالمی سیاست کی دو رخی حقیقت ہے۔

عالمی صحافیوں کے انفرادی بیانات مگر ادارے خاموش چند بہادر صحافیوں نے انفرادی طور پر بلوچ مسئلے پر بات کی:

عالمی صحافیوں کے انفرادی بیانات مگر ادارے خاموش بلوچستان کی صورتحال پر ریاستی پابندیوں، فوجی نگرانی اور معلوماتی سنسرشپ کے باعث عالمی ذرائع ابلاغ اس خطے کی حقیقت تک رسائی نہیں رکھتے۔ تاہم، چند بین الاقوامی صحافیوں، محققین اور انسانی حقوق کے مؤثر مبصرین نے انفرادی طور پر بلوچستان کی زمینی حقیقت کو نہ صرف دیکھا بلکہ بے خوف ہو کر بیان بھی کیا۔ اگرچہ ان کی آوازیں طاقتور میڈیا اداروں کا حصہ نہیں بن سکیں، مگر ان کے الفاظ بلوچستان کی مظلومیت کا تاریخی ریکارڈ بن چکے ہیں۔

 . ہسپانوی صحافی پاؤ میراندا (EFE)“بلوچستان پاکستان کا سب سے بند صوبہ ہے” الجزیرہ (Al Jazeera English) میں 2014 کو شائع ہونے والی مشہور رپورٹ “A Black Hole for Media in Balochistan” میں ہسپانوی نیوز ایجنسی EFE کے نامہ نگار Pau Miranda نے بلوچستان پر رپورٹنگ کی حقیقی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا: “یہ پاکستان کا سب سے زیادہ بند اور مقفل صوبہ ہے… اگر کوئی صحافی بغیر اجازت بلوچستان میں داخل ہو جائے تو اسے فوراً ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔” (Al Jazeera English, 2014) یہ بیان واضح کرتا ہے کہ بلوچستان صحافت کے لیے ایک ایسا بند قلعہ ہے جس پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل گرفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے میڈیا ادارے اس خطے کی سچائی بیان کرنے سے کتراتے ہیں۔

 2. برطانوی اخبار The Guardian

“بلوچستان ایک Information Black Hole ہے”

 The Guardian نے 2016 Jon Boone اور Kiyya Baloch کی مشترکہ تحقیق میں لکھا: “بلوچستان کو دانستہ طور پر ‘Information Black Hole’ بنا دیا گیا ہے تاکہ جبری گمشدگیوں اور ریاستی تشدد کی خبریں دنیا تک نہ پہنچ سکیں۔” (The Guardian, 2016) گارڈین جیسے عالمی معیار کے اخبار کی جانب سے بلوچستان کو “بلیک ہول” قرار دینا اس حقیقت کی تصدیق ہے کہ یہ خطہ دنیا کی نظروں سے جان بوجھ کر پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔

 3. تحقیقی جریدہ Media and Communication

“بلوچستان ایک ایسا بلیک ہول ہے جہاں رپورٹنگ ناممکن ہے”

عالمی تحقیقاتی جریدہ Media and Communication (2020) میں چھپنے والی ایک سائنسی تحقیق میں ایک مغربی صحافی کو یوں کوٹ کیا گیا: “بلوچستان ایک ایسا بلیک ہول ہے جہاں صحافیوں کے لیے آزادانہ رسائی یا رپورٹنگ تقریباً ناممکن ہے؛ اس خطے میںداخل ہونا بھی ایک خطرہ ہے۔” (Media & Communication Journal, 2020) یہ تحقیق صحافتی آزادی، خطرات اور تنازعات میں رپورٹنگ کے موضوع پر عالمی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

4. انسانی حقوق کی رپورٹ

“بلوچستان جنگ زدہ علاقہ ہے… میڈیا کے لیے Black Hole” انسانی حقوق کی مفصل رپورٹ: “Balochistan: The State of Human Rights – Bi-Annual Report 2019” میں بلوچستان کی صورتحال کو یوں بیان کیا گیا

بلوچستان ایک جنگ زدہ خطے کی طرح دکھائی دیتا ہے… یہ میڈیا کے لیے ایک بلیک ہول ہے، جہاں رپورٹنگ ممنوع، انٹرنیٹ محدود اور آزادیِ اظہار پر مکمل قدغن ہے۔” (BHRC Human Rights Report, 2019) یہ بیان عالمی سطح پر اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچستان میڈیا سے چھپایا ہوا سب سے بڑا انسانی بحران ہے۔

انفرادی صحافی سچ بولتے ہیں، ادارے خاموش رہتے ہیں ان عالمی حوالہ جات کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ: • بلوچستان دنیا کے بدترین میڈیا بلیک آؤٹ کا شکار ہے

• صحافی وہاں جانے سے ڈرتے ہیں

 • بڑے نیوز ادارے رپورٹنگ سے جان بوجھ کر گریز کرتے ہیں

 • ریاستی دباؤ اور جیو پولیٹیکل مفادات سچائی کو دبا دیتے ہیں

 • مگر کچھ بہادر صحافی اور محققین اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر حقیقت کا ایک دروازہ کھول دیتے ہیں یہ وہ حقیقی آوازیں ہیں جو بلوچستان کی اصل صورتحال کو دنیا کے سامنے لاتی ہیں— چاہے ادارے خاموش رہیں، مگر ضمیر والے صحافی ہمیشہ سچ لکھتے ہیں۔

  بلوچ لانگ مارچ اور 6000 دن کا احتجاج میڈیا کی اخلاقی شکست ہے ماما قدیر  بلوچ کا  پیدل لانگ مارچ دنیا کے لیے ایک آئینہ تھا— جس میں طاقتوروں کا اصل چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر دنیا نے اس آئینے میں دیکھنے کے بجائے اسے دھندلا چھوڑ دیا۔ یہ خاموشی… ایک جرم ہے۔ یہ وہی جرم ہے جو فلسطین، روہنگیا، افریقہ اور جنوبی ایشیا کے مظلوموں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ مگر آخرکار تاریخ نے ہمیشہ مظلوم کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ بلوچ بھی اسی تاریخ کا حصہ ہیں۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

تربت: خیر آباد میں فائرنگ سے شخص ہلاک

جمعرات نومبر 20 , 2025
بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے خیر آباد میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق فہد ولد عبدالصمد اپنی پرچون کی دکان میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم حملہ […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ