اسلام آباد: بلوچ اسیران کے لواحقین کا دھرنا 41ویں روز میں داخل، مزید خاندان شریک

اسلام آباد: بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کے رہنماؤں کی رہائی اور جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد میں جاری بلوچ لواحقین کا احتجاجی دھرنا آج مسلسل 41ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔

دھرنے میں شریک خاندانوں میں مزید متاثرہ فیملیز بھی شامل ہوگئی ہیں، جن میں جبری گمشدگی کے شکار صغیر احمد اور اسرار بلوچ کے اہل خانہ بھی موجود ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ طویل انتظار اور مشکلات کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی بازیابی تک یہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو فی الفور رہا کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔ اس موقع پر مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر #ReleaseBYCLeaders اور #EndEnforcedDisappearances جیسے نعرے درج تھے۔

دھرنے میں شریک بی وائی سی کی رہنما سمی دین بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج اُن خاندانوں کی برسوں پر محیط جدوجہد کا تسلسل ہے جو اپنے پیاروں کی بازیابی اور انصاف کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “جبری گمشدگی کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان کو مستقل اذیت اور خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہی دکھ اور کرب متاثرہ لواحقین کو سڑکوں پر لے آیا ہے۔”

سمی دین بلوچ نے مزید کہا کہ مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور معصوم بچے روزانہ اپنے گمشدہ عزیزوں کی تصاویر اٹھائے حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کے پیاروں کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ احتجاج پرامن انداز میں جاری رہے گا اور کسی بھی دباؤ کے تحت ختم نہیں کیا جائے گا۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بلوچستان: پاکستانی فورسز پر حملے اور شاہراہوں پر ناکہ بندیاں

پیر اگست 25 , 2025
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بلوچ آزادی پسندوں نے مختلف مقامات پر فورسز کو حملوں میں نشانہ بنایا جبکہ شاہراہوں پر گھنٹوں تک ناکہ بندی کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سبی کے علاقے میتھری میں مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا اور کافی دیر تک […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ