اگست کا درد نامہ

اگست وہ مہینہ ہے جس نے بلوچ کے نہ صرف قومی جسم بلکہ اجتماعی روح پر بھی دردناک کاری ضرب لگائے ہیں، درد ہی درد کے لامتناہی سلسلے، جس کا انت بظاہر دور نظر آتی ہے، سوائے ایک دن کے، گیارہ اگست، یعنی قومی آزادی کا دن، جس کی عمر سات ماہ سے نہ بڑھ پائی اور اس نوخیز آزادی کو دبوچ لیاگیا، دیگر دنوں میں ہمیں لہو رِستے زخم ہی ملے ہیں، ان کا زخموں کا اصل بنیاد چودہ اگست میں پیوست ہیں جب عظیم ہندوستان تقسیم ہوا، ہندو قیادت کی تاریخی منافقت، مصلحت کوشی اور بنیاد پرستانہ ہندتوائی سوچ سے عظیم ہندوستان کے گلے برطانوی چری پیرا گیا، ہندوستانی بطن کاٹ کوٹ کر ایک نیا ریاست تشکیل دیا، جب ہندوستانی پندرہ اگست کو آزادی کا دن خوشی سے مناتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ کہاں کی آزادی، آپ کا تو اسی دن وطن تقسیم ہوا، آپ کے حصے بخرے کیے گئے، آپ پھر بھی خوشی منارہے ہیں تو یہ اس بات کی ثبوت ہے کہ تقسیم ہند کے عمل میں آپ شریک تھے، آپ شریک جرم تھے، ورنہ اس میں کیسی اور کہاں کی خوشی

ہبدوستان یا برصغیر کی آزادی(حقیقت میں تقسیم) میں بہت سارے عوامل شامل تھے جس میں سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج، بھگت سنگھ اور ساتھیوں کی قربانیاں، کانگریس کی جدوجہد اور جنگ عظیم دوئم سے کمزور برطانوی سلطنت کے اپنے مسائل، مگر اس کا انجام تقسیم ہند کی شکل میں ایک ایسے سانحے پر ہوا جس نے لاکھوں انسانوں کو جلاوطنی، قتل و غارت اور فرقہ واریت کی آگ میں دھکیل دیا۔ آزادی کی تحریک کی سب سے بڑی جماعت آل انڈیا کانگریس نے نوخیز مسلم لیگ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر تقسیم کی مخالفت میں مولانا آزاد جیسے رہنماؤں کو اکیلا چھوڑ دیا۔ کانگریسی قیادت نے یا تو مصلحت یا ہندتو والی بنیاد پرستانہ سوچ کے تحت "جھگڑا” اور "جہادی” مسلمانوں سے جان چھڑانے کی اسکیم مان کر تقسیم ہند کا فارمولہ قبول کرلیا اور متحدہ ہندوستان یا "اکھنڈ بھارت” کے تصور سے عملی طور پر دست بردار ہوئے۔ یہ فیصلہ صرف ایک سیاسی کمزوری نہیں تھا بلکہ ایک ایسی سوچ کا نتیجہ بھی تھا جو عظیم ہندوستان یا خطے میں طاقت کے توازن کے بجائے ہندو اکثریتی ریاست اور اقتدار کی تقسیم پر رضا بہ رغبت ہوئی۔ ہندو بنیے کے حسابی دماغ نے سمجھوتے کو ترجیح دی، جس کا بلوچستان سمیت خمیازہ کروڑوں انسانوں نے بھگتا۔

ادھر برطانیہ عظمیٰ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی کمزور ہوتی سلطنت کو بچانے کے لیے برصغیر میں ایک نیا جغرافیائی کھیل کھیلا۔ پاکستان کا قیام برطانوی تزویراتی اسٹریٹجک مفادات کا حصہ تھا تاکہ خطے میں ایک ایسا ریاست وجود میں آئے جو برائے نام تو آزاد ہو مگر حقیقت میں ان کے سیاسی، فوجی اور معاشی اثر کو برقرار رکھ سکے۔ اس نئی ریاست کی سرحدیں اس انداز سے کھینچی گئیں کہ نہ صرف ہندوستان کو تقسیم کیا جائے بلکہ خطے میں مستقل عدم استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ اس عمل میں برطانیہ، ہندوستانی کانگریس بشمول نام نہاد "اہنسا وادی” باپو من موہن کرم چند گاندھی بخوشی شامل ہوئے، جس گاندھی کا ہم میں سے بہت سے لوگ آج بھی گُن گاتے ہیں، اس "عظیم انسان” کا رویہ دیکھ لیں کہ تقسیم ہند فارمولہ یا منصوبہ کے تحت پایا کہ برطانوی ہندوستان کی فوجی، مالی اور انتظامی اثاثے تقسیم کیے جائیں گے۔
تقسیم شدہ ہندوستان سے پاکستان کو ملنے والے 55 کروڑ روپے میں سے ابتدائی طور پر 20 کروڑ روپے ادا کیے گئے لیکن جونہی پاکستان نے کشمیر میں مداخلت کی تو پنڈت جواہر لال کی حکومت نے پاکستان کو ملنے باقی رقم روک دی اور نوتشکیل شدہ پاکستان مالی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہوا تو گاندھی جی نے اعلان کیا خواہ پاکستان کچھ بھی کرے لیکن باقی رقم فوری طور پر پاکستان کو دی جانی چاہیے۔اسی مطالبے کے لیے جنوری 1948 میں گاندھی جی نے بھوک ہڑتال شروع کی، ہندوستانی حکومت نے دباؤ میں آ کر باقی رقم پاکستان کو منتقل کر دی، اسی نفرت میں ایک بنیاد پرست ہندو ناتھورام گوڈسے نے گاندھی کے پاکستان کے لیے نرم رویے کو اپنے دیش سے غداری سمجھا اور 30 جنوری 1948 کو انہیں قتل کر دیا۔

پاکستان کے قیام کے فوراً بعد برطانیہ کی سرپرستی اور اس کے دفاعی منصوبوں کے تحت آزاد اور خودمختار ریاست بلوچستان پر قبضے کی راہ ہموار کی گئی۔ برطانیہ بخوبی جانتا تھا کہ بلوچستان کی جغرافیہ، خلیج فارس کی قربت، گوادر کی بندرگاہ اور خطے کے تیل کے راستوں پر کنٹرول یہ عالمی سیاست میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں لہٰذا پاکستان کو ایک فوجی اسٹیٹ کے طور پر استوار کر کے بلوچستان پر قبضہ کرایا گیا، اس قبضے نے بلوچ قوم کی سن سینتالیس کی مختصر اور پیچھے صدیوں پرانی آزادی کو چھین لیا اور انہیں ایک ایسے ریاستی ڈھانچے میں جکڑ دیا جو ان کی تاریخ، زبان اور شناخت کے لیے مسلسل مٹا رہا ہے، اب باقاعدہ نسلی صفائی کر رہا ہے۔

اس پورے کھیل میں بلوچ کا کیا حصہ تھا، کچھ بھی نہیں، تقسیم ہند کے اس پورے قضیے میں بلوچ قوم نہ اس فیصلے میں شریک تھی نہ کوئی فائدہ اٹھا سکی بلکہ اس کے برعکس سب سے بڑی سیاسی اور قومی سانحے کا شکار بنی۔ کانگریس کی کمزوری، برطانیہ کی سازش اور پاکستان کی جارحیت کے ملعونہ امتزاج نے بلوچستان کو غلامی کے ایک نئے باب میں دھکیل دیا۔ آج بلوچ قوم کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے تمام طاقتوں بشمول موجودہ ہندوستان کی ذہنیت کو بھی یاد رکھے، تقسیم ہند فارمولے میں ہندوستانی کردار بھی یاد رکھے ورنہ ہم پاکستانی حیوانیت کے باب میں وہ قصے بھی بھول جاتے ہیں جو پاکستان بنانے میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں، یہ بات اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر ہم ماضی کے ماضی کے تلخ اسباق کو نظرانداز کریں تو تاریخ خود کو ایک نئے روپ میں دہرانے میں دیر نہیں لگائے گی۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

وی بی ایم پی کا احتجاج 5911ویں روز میں داخل

جمعہ اگست 15 , 2025
کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 5911ویں روز میں داخل ہو گیا۔ تنظیم کا یہ طویل احتجاج لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے مطالبات کے لیے جاری ہے۔ […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ