تربت: بلوچ خاتون لیڈی ہیلتھ ورکر پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ سے تعلق رکھنے والی ایک بلوچ خاتون کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، لاپتہ خاتون کی شناخت روبینہ بلوچ دختر محب اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر 30 سال بتائی جاتی ہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک سرکاری لیڈی ہیلتھ وزیٹر (LHV) ہیں اور گورکوپ میں رہائش پذیر تھیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ روبینہ بلوچ کو آج شام چار بجے کے قریب اوورسیز کالونی، تربت سے ایف سی اور ملٹری انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

خضدار: زیدی سے جبری لاپتہ نوجوان کی مسخ شدہ لاش برآمد

منگل جولائی 1 , 2025
ضلع خضدار کے علاقے زیدی سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے نوجوان خالد ولد صالح محمد زہری کی مسخ شدہ لاش گزشتہ روز کھوڑی زیدی سے برآمد ہوئی ہے۔ مقتول کو تین ماہ قبل سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ ذرائع کے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ