
جبری لاپتہ افراد، شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5862 دن مکمل چکے ہیں۔ اظہارِ یکجہتی کرنے والوں میں مستونگ سے خلیل بلوچ، عبداللہ بلوچ، اور سلام بلوچ نے کیمپ آ کر یکجہتی کا اظہار کیا۔ وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج کل بلوچستان میں حریت پسندوں کے باہمی اختلافات کا چرچا ہے۔ پارلیمانی جماعتیں اور ردِ انقلابی عناصر اس صورتِ حال سے بہت خوش ہیں۔ وہ اپنی نجی محفلوں میں بڑی مسرت سے اس بات کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا یہ بلوچ قومی تحریک کے لیے نیک شگون ہے؟
یہ درست ہے کہ اختلافات ہر تحریک میں ہوتے ہیں۔ بڑے سے بڑا انقلابی رہنما بھی غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ لیکن جس انداز سے ان مسائل کو آج کل سوشل میڈیا پر اٹھایا جا رہا ہے، اس کے باعث کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ اصل بات یہ نہیں ہے کہ کون کیا کر رہا ہے یا کس کا مظاہرہ ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سمجھیں کہ بلوچ قومی تحریک ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ہر گلی، ہر کوچے میں بلوچوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ بے شمار بلوچ جبری طور پر لاپتہ ہیں اور خفیہ اداروں کے اذیت خانوں میں ظلم سہہ رہے ہیں۔ اکثر کے بارے میں وثوق سے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ زندہ ہیں یا اجتماعی قبروں میں پھینک دیے گئے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے، اور قبائلی جھگڑوں کے نام پر بلوچ معاشرے کو منظم طریقے سے تقسیم کیا جا رہا ہے۔
ہر جانب آگ لگی ہوئی ہے۔ لاکھوں بلوچ فوج کشی کے باعث اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایرانی خفیہ ایجنسی “ساواک” کی طرز پر گھروں میں مخبر پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں بعض بلوچ حریت پسندوں کو الگ تھلگ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اور یہ تضاد کا کھیل سوشل میڈیا پر کھیلا جا رہا ہے۔ کیا ایسے لوگ بلوچستان کی محبت کے جنون میں ریاستی ایجنڈے کو آسان نہیں بنا رہے؟
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ عام بلوچوں نے اپنی ساری امیدیں، حتیٰ کہ اپنی زندگیاں اور خاندان کی عزت و آبرو داؤ پر لگا رکھی ہے۔ وہ ان سوالات کو سن کر اور ان سے جنم لینے والے اختلافات کو گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔ نفسیاتی جنگ، جو ہر مرحلے پر بلوچ عوام جیت چکے ہیں، اب اسے شکست میں بدلنے کے لیے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں۔
کوئی باشعور شخص یہ قبول نہیں کر سکتا کہ لاکھوں جانوں کی قربانیوں کو نرگسیت اور بیمار ذہنیت کی نذر کر دیا جائے۔ لیکن ہر شہید کا بہتا لہو ہم سے ضرور پوچھ رہا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم کس حد تک اپنی ذمہ داری کا ثبوت دے رہے ہیں۔