بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری بیان میں کہاہے کہ سرمچاروں نے آواران کے علاقے کولواہ میں قابض پاکستانی فوج کو دو مختلف حملوں میں نشانہ بنا کر سات اہلکاروں کو ہلاک کیا جبکہ تین اہلکاروں کو زخمی کرنے کے علاوہ سر ویلینس ڈرون طیارے کو مار گرایا۔
پہلے حملے میں سرمچاروں نے دس اگست کی شام سات بجے گیشکور کولواہ میں قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کو خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، حملے میں دشمن فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
ترجمان نے کہاہے کہ ایک اور حملے میں سرمچاروں نے دس اگست کی رات آٹھ بجے ڈنڈار کولواہ میں قائم قابض پاکستانی فوجی کیمپ کے قریب جا کر دونوں اطراف سے جدید و خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، حملے میں قابض فوج کے چھ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ حملہ تیس منٹ تک جاری رہا۔
حملے کے بعد دشمن فوج نے سرمچاروں کا تعاقب کرنے کے لئے سر ویلینس ڈرون فضا میں اڑائے لیکن سرمچاروں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈرون کیمرے کو مار گرایا۔
انھوں نے کہاہے کہ اپنی فطرت سے مجبور شکست خوردہ دشمن اپنی ناکامی کا غصہ عام آبادیوں پر نکالتی ہے جس کا نشانہ عام عوام بنتے ہیں۔ اس حملے میں بھی دشمن فوج کا مارٹر گولہ گھر میں گرنے سے ایک بچی ستارہ ولد شبیر شہید ہوئی ہے۔
بلوچستان ایک مقبوضہ خطہ ہے اور عوام اس جبری قبضے سے نفرت کرتے ہیں۔ بلوچستان بھر میں چودہ اگست یوم سیاہ کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ یہ کامیاب حملہ، بی ایل ایف کی ٹیکنیکل ٹیم، انٹیلیجنس ٹیم، اسپیشل فورس اور قربان یونٹ کی جانب سے انجام دی گئی ہے جو جدید دور میں تنظیم کی صلاحیتوں اور تنظیم میں ٹیم ورک اور طاقت کا مظہر ہے۔
بی ایل ایف ایک عوامی قوت ہے جو اپنے سیاسی مقاصد کو مسلح جنگ کی شکل میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان کے حصول تک ایسے منظم حملے جاری رہیں گے۔