
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں بلوچ نیشنل موومنٹ نیدرلینڈز چیپٹر کی جانب سے شہدائے مرگاپ کی برسی پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں بی این ایم، ورلڈ سندھی کانگریس، پشتون تحفظ موومنٹ اور انسانی حقوق کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ ایک ایسی نظریاتی و سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد جدوجہد، قربانی اور مضبوط نظریے پر رکھی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ چیئرمین غلام محمد بلوچ اور ان کے رفقاء نے نہایت کٹھن حالات میں اس جماعت کی بنیاد رکھی اور اسے منظم کیا۔ اس دوران انہیں ریاستی جبر، سیاسی مخالفت اور اندرونی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے ہر دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہتے ہوئے سیاسی و نظریاتی مزاحمت کو مزید مضبوط بنایا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں بی این ایم کی قیادت نے ہمیشہ خود قربانی دی ہے۔ شہید غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کی شہادت اسی جدوجہد کا تسلسل ہے۔
شہید غلام محمد بلوچ کو مسلسل ریاستی جبر کا سامنا رہا۔ ان کی جبری گمشدگی اور تشدد دراصل انہیں جدوجہد سے باز رکھنے کی کوشش تھی، مگر وہ تمام خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے اور آخری لمحے تک اپنے نظریے پر قائم رہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم میں آزادی کے حوالے سے شعور، اعتماد اور قربانی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ تاہم اس جدوجہد کو مؤثر اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے سیاسی کارکنوں کو اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور احساس ہونا چاہیے۔ ہر کارکن کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ جدوجہد ایک قومی امانت ہے، جس کے لیے بلوچ قیادت نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں اجتماعی سزا کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت پورے خاندانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں اور جبری گمشدگیاں معمول بن چکی ہیں، جبکہ بزرگوں، خواتین اور بچوں کو بھی ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبری گمشدگیاں اور اجتماعی سزا جیسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ ہے کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ان خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ شہید غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کی قربانیاں بلوچ قومی تحریک کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی جدوجہد نے بلوچ سیاست کو نئی سمت دی اور کارکنوں کو مزاحمت، نظریاتی وابستگی اور ثابت قدمی کا راستہ دکھایا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہداء مرگاپ کی یاد میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے خارجہ سیکریٹری فہیم بلوچ، فارن ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈینیٹر نیاز بلوچ، ورلڈ سندھی کانگریس کے رہنما کامران جتوئی، بی این ایم نیدرلینڈز چیپٹر کے صدر مہیم عبدالرحیم، پی ٹی ایم وومن برانچ کی سرگرم کارکن محترمہ ژلی ولی، اور پانک کے میڈیا کوآرڈینیٹر جمال بلوچ نے مشترکہ طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء مرگاپ کی قربانیاں بلوچ قومی تحریک کی تاریخ کا ایک درخشاں اور ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ ان عظیم قربانیوں نے نہ صرف بلوچ قوم کی جدوجہد کو نئی سمت دی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک واضح نظریاتی راستہ بھی متعین کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہداء مرگاپ نے جس جرات، استقامت اور نظریاتی وابستگی کا مظاہرہ کیا وہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ قومی آزادی کی تحریکیں قربانی، شعور اور مستقل مزاجی کے بغیر کامیاب نہیں ہوتیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شہداء محض افراد نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ، مزاحمت کی علامت اور قومی بیداری کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کی قربانیاں آج بھی بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کو مضبوط کر رہی ہیں۔
مقررین نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک کو درپیش چیلنجز کے باوجود شہداء کی جدوجہد کارکنوں کے لیے حوصلہ اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ کارکن محض جذباتی وابستگی تک محدود نہ رہیں بلکہ سیاسی شعور، تنظیمی نظم و ضبط اور عملی جدوجہد کو اپنی ترجیح بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور منظم تحریک ہی اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے، اور اس کے لیے ہر کارکن کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جلاوطنی میں رہ کر جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ بیرونِ ملک پلیٹ فارمز پر آواز اٹھانا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا ایک اہم فریضہ ہے، جسے سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ انجام دینا ضروری ہے۔
شہداء مرگاپ کی یاد منانے کا مقصد صرف خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ ان کے مشن کو سمجھ کر اسے عملی طور پر آگے بڑھانا ہے۔ خود احتسابی، نظریاتی وابستگی اور تنظیمی مضبوطی ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قومی تحریک کو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔
انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء مرگاپ کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور بلوچ قومی تحریک کو مزید منظم، مربوط اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کی آزادی حصول تک یہ جدوجہد جاری رہے گی، اور اس راستے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
جبکہ سیمینار کے فرائض بلوچ نیشنل موومنٹ نیدرلینڈز چیپٹر کے جنرل سیکرٹری دیدگ بلوچ اور ماہرہ بلوچ نے ادا کئے۔
