
جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6130ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔
تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق 8 اپریل کی رات کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ سے ایک بلوچ خاتون سمیت 9 افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
لاپتہ افراد میں شکیلہ زوجہ نصیر، عمران ولد فیض، عدنان ولد فیض، رضوان ولد فیض، صابر ولد فیض، نصیر ولد خیر محمد، وسیم ولد خیر محمد، سلمان ولد شریف اور شہزاد ولد جامل شامل ہیں۔
وی بی ایم پی نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام افراد کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، یا اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
