مند اور پروم میں پاکستانی فوج پر حملوں میں دو اہلکار ہلاک، زیر حراست ڈی ایس پی کو رہا کردیا۔ بی ایل ایف

 
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا ہے کہ سرمچاروں نے 9 اپریل 2026 کو مند کے علاقے ردیگ اور مہیر کے درمیان کُڈومب کے مقام پر پاکستانی فوج کے قافلے کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو آئی ای ڈی (IED) دھماکے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
 
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 8 اپریل 2026 کو پنجگور کے علاقے پروم میں ٹوبہ کے مقام پر قائم فرنٹیر کور (ایف سی) کے کیمپ پر حملہ کیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب اہلکار کیمپ کیلئے حفاظتی باڑ لگانے میں مصروف تھے۔ سرمچاروں نے ان پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
 
انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں، بی ایل ایف کی تحویل میں موجود پولیس افسر، ڈی ایس پی انور علی کو ان کے بیٹے سمیت رہا کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے علاقے بھرام کے رہائشی ڈی ایس پی انور علی کو گزشتہ ماہ خضدار کے علاقے کرخ سے ایک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ بی ایل ایف نے اپنی روایتی بلوچ قومی اخلاقیات اور اعلیٰ انسانی مقاصد کے  پیشِ نظر، انور علی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا۔ سرمچاروں نے اسے  سخت تنبیہ کی کہ آئندہ تحریک آزادی اور عوام کی دشمنی سے گریز کرے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جنگ کسی فردِ واحد سے نہیں بلکہ سرزمین پر قابض استعماری نظام کے خلاف ہے، تاہم تحریک کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح رہے گی۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کوئٹہ: وی بی ایم پی کا احتجاج 6130ویں روز میں داخل، کراچی سے بلوچ خاتون سمیت 9 افراد کی جبری گمشدگی پر تشویش

جمعہ اپریل 10 , 2026
جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6130ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق 8 اپریل کی رات کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ سے ایک بلوچ خاتون […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ