خاران و واشک: شاہراہوں پر ناکہ بندی، پولیس اور فورسز کے قافلے پر حملے، جانی نقصان کی اطلاع

بلوچستان کے ضلع خاران میں مسلح افراد کی جانب سے مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندی اور چیک پوائنٹس قائم کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق خاران–کوئٹہ مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے کنٹرول حاصل کر کے ناکہ بندی کی، جبکہ خاران تا بسیمہ شاہراہ کو بھی مختلف مقامات پر بند کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق نوروز کے مقام پر پولیس کی ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، تاہم پولیس اہلکاروں نے واپس مڑنے کی کوشش کی جس پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں بلوچستان کانسٹیبلری کے دو اہلکار زخمی ہوگئے، جو اپنی گاڑی سمیت خاران ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں انہیں مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

دوسری جانب ضلع واشک میں پاکستانی فورسز کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق واشک–خاران روڈ پر دمگ کے قریب پانچ گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر پہلے آئی ای ڈی حملہ کیا گیا، جس کے بعد دیگر گاڑیوں پر گھات لگا کر فائرنگ کی گئی۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں فورسز کی متعدد گاڑیاں متاثر ہوئیں اور جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں، تاہم ان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

تربت: جدگال ڈن کے قریب ایک اور لاش برآمد، دو ہفتوں میں چوتھا واقعہ

بدھ اپریل 8 , 2026
بلوچستان کے شہر تربت علاقے جدگال ڈن (ڈی بلوچ) کے قریب ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے، جسے پولیس نے تحویل میں لے کر ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق لاش کی شناخت قمبر علی ولد خدا بخش، ساکن بٹ بلیدہ کے نام سے ہوئی […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ