
کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری طویل احتجاجی تحریک کے تحت وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6117 دن مکمل ہو گئے ہیں، جو دنیا کے طویل ترین پرامن احتجاجوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اس موقع پر کہا کہ یہ کیمپ کئی برسوں سے مسلسل جاری ہے، جہاں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طویل جدوجہد کا مقصد جبری گمشدگیوں جیسے سنگین انسانی مسئلے کو اجاگر کرنا اور متعلقہ حکام کو اس پر مؤثر اقدامات کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
انہوں نے تنظیم کے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ:
• جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے
• تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے
• جن افراد پر الزامات ہیں، انہیں عدالتوں میں پیش کر کے قانونی دفاع کا حق دیا جائے
نصراللہ بلوچ نے مزید کہا کہ یہ احتجاج محض ایک دھرنا نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور آئین کی بالادستی کے لیے ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔ ان کے بقول، یہ کیمپ ان خاندانوں کے دکھ، امید اور استقامت کی عکاسی کرتا ہے جو برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
