
بلوچستان میں 27 مارچ کو متوقع سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بلوچستان بھر میں ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ تعلیمی ادارے پہلے ہی 31 مارچ تک بند کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان ریلویز کے مطابق 27 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس روانہ نہیں ہوگی، جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد سے واپس کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل اور چمن پسنجر ٹرین پہلے ہی معطل کی جا چکی ہیں۔
سرکاری سطح پر ان فیصلوں کی وجہ فنی مسائل اور عمومی حالات کو قرار دیا گیا ہے، تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 27 مارچ کو بلوچستان میں ایک حساس دن سمجھا جاتا ہے، جسے بلوچ قوم یومِ قبضہ کے طور پر مناتی ہے۔ ماضی میں اس دن سمیت دیگر قومی مواقع پر بھی مسلح کارروائیوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جس کے باعث سیکیورٹی ادارے اس موقع پر ہائی الرٹ رہتے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان حکومت نے بلوچستان بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، بشمول اسکولز، کالجز، جامعات، پولی ٹیکنک ادارے، بی آر سیز اور کیڈٹ کالجز، 31 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اگرچہ سرکاری نوٹیفکیشن میں عمومی حالات اور انتظامی وجوہات کا حوالہ دیا گیا ہے، تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بھی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 27 مارچ کے تناظر میں بلوچستان بھر میں حساس تنصیبات، ٹرانسپورٹ روٹس اور تعلیمی مراکز کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ واقعے سے بچا جا سکے۔
