
جنیوا: بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی رکن مہرہ بلوچ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے جیسے واقعات مسلسل جاری ہیں۔ ان کے مطابق “انسدادِ دہشت گردی” کے نام پر قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو خاموش کرایا جا رہا ہے۔
مہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے بلوچ کارکنوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو نام نہاد “ممنوعہ افراد” قرار دے کر ان کی آزادی سلب کی جا رہی ہے اور انہیں مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 کے دوران BNM کے شعبہ انسانی حقوق “پانک” نے 1,355 جبری گمشدگیوں اور 225 ماورائے عدالت قتل کے واقعات ریکارڈ کیے۔ ان کے بقول یہ صرف اعداد نہیں بلکہ حقیقی انسانی زندگیاں ہیں جو متاثر ہو رہی ہیں۔
تقریر کے دوران انہوں نے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پُرامن جدوجہد کے باوجود حراست میں لیا گیا اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔
مہرہ بلوچ نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ بندش، نگرانی اور اجتماعی سزائیں معمول بن چکی ہیں تاکہ بلوچستان کی صورتحال عالمی سطح پر سامنے نہ آ سکے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر نوٹس لے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے، زیر حراست افراد کو رہا کیا جائے اور جبری گمشدگیوں و ماورائے عدالت قتل کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خاموشی ایسے اقدامات کو مزید تقویت دیتی ہے اور عالمی سطح پر فوری کارروائی ناگزیر ہے۔
