
تحریر: لال خان بلوچ
یہ 2 مارچ 2014 کا دن ہے۔ بارکھان میں “بارکھان ترقی پسند آرگنائزیشن” (BTO) کی جانب سے ایک عظیم الشان پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔ پورا ہائی اسکول گراؤنڈ بلوچ عوام سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ لوگوں نے ثقافتی بلوچی لباس پہن رکھا ہے اور سروں پر سفید بلوچی پاگ (دستار) سجی ہوئی ہے۔ دیواروں تک لوگ ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہیں اور جشن کا سماں ہے۔
ایسے میں ایک بڑا جلوس، جو بازار اور شہرِ بارکھان کا چکر لگا کر ابھی گراؤنڈ میں پہنچ رہا ہے، نمودار ہوتا ہے۔ جلوس کے آگے دو اونٹ ہیں۔ ایک اونٹ پر بلوچی ثقافتی لباس میں ملبوس اور سر پر سفید پاگ (پگڑی) سجائے ثناء بلوچ، جو اس وقت نویں جماعت کا طالب علم ہے، اور دوسرے اونٹ پر حفیظ بلوچ سوار ہیں۔ دونوں پورے جلوس کی رہنمائی کرتے ہوئے گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہیں۔ اسٹیج سے کھیترانی زبان میں ان کا استقبال “اچو اللہ اوانک آنے” (خوش آمدید) کہہ کر کیا جاتا ہے اور پورا مجمع تالیاں بجا کر ان کا خیرمقدم کرتا ہے۔
مجھے وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے۔ شاید بارکھان کے ہر باشندے کو وہ عظیم تہوار یاد ہوگا۔ ثناء، جو بڑے رعب اور وقار کے ساتھ اونٹ پر سوار ہو کر پورے جلوس کی نمائندگی کر رہا تھا، اسے دیکھ کر مجھے اسی دن محسوس ہوا تھا کہ اس نو عمر لڑکے کا جذبہ، ہمت اور جرأت اسے بہت آگے تک لے جائے گی۔
ثناء بلوچ کو شاید اچھے اساتذہ کی رہنمائی میسر آ گئی تھی، اسی لیے وہ کم عمری میں ہی شعور کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ اس کے دل و دماغ میں بلوچ قوم کا غم تھا۔ وہ اپنی زبان اور ثقافت سے بے حد محبت کرتا تھا اور غلامی سے نفرت کرتا تھا۔ ہر وہ پروگرام اور سرگرمی جس کا مقصد بلوچ قوم کی فلاح ہو، اس میں وہ پیش پیش ہوتا تھا۔ چاہے لاپتہ افراد کے لیے ریلیاں ہوں، مادری زبان کے دن (Mother Language Day) کی تقریبات ہوں، ثقافتی پروگرام ہوں یا قومی آگاہی کے لیکچرز وہ ہمیشہ ہراول دستے میں شامل ہوتا تھا۔
وہ عمل پر یقین رکھنے والا، پُرامن سیاسی جدوجہد کرنے والا نوجوان تھا۔ اسی لیے وہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) کی مرکزی کمیٹی کا رکن تھا، جو بلوچ عوام کے حقوق کے لیے عملی اور پُرامن سیاسی جدوجہد کر رہی ہے۔
ثناء، جو اپنی قوم میں ایک استاد کی مانند شعور بانٹ رہا تھا، اسے پاکستانی فورسز نے 10 اگست 2024 کو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سرِعام اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔ تب سے اس کا کوئی پتہ نہیں ہے۔
آج پھر 2 مارچ کا دن ہے۔ اگر ثناء کو تاریخیں یاد رہتی تھیں تو یقیناً وہ 2014 کا وہ دن یاد کر کے مسکرا رہا ہوگا، جب وہ ہزاروں بلوچوں کے جلوس کے آگے آگے گراؤنڈ میں داخل ہو رہا تھا۔ وہ جذبہ، وہ وقار اور چہرے کی وہ مسکراہٹ آج بھی اس کے ساتھ ہوگی، کیونکہ ثناء باطنی طور پر باشعور تھا؛ وہ جانتا ہے کہ اس زندان میں وہ اکیلا نہیں۔ وہاں لاکھوں بلوچ بغیر کسی جرم کے ریاستی ظلم کا شکار ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ نہ وہ کل اکیلا تھا اور نہ آج اکیلا ہے۔ کل وہ ہزاروں کے ساتھ چل رہا تھا، آج لاکھوں کے ساتھ قید ہے۔ ثناء جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔
وہ تب پریشان ہوتا اگر وہ حفیظ جیسے کئی نوجوانوں کی طرح تنہا ہوتا، جو صرف اپنی ذات اور بیوی بچوں کے لیے بے نام ہو کر دنیا کے کسی کونے میں عید کے جوڑے کے لیے پیسے جمع کر رہے ہوتے۔ لیکن ثناء بلوچ کل بھی ہزاروں نوجوانوں کی امید تھا، ہر محفل کی جان تھا، اور آج بھی ہر ذہن اور زبان پر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
مجھے یقین ہے کہ وہ ثناء پھر واپس آئے گا۔ وہ دوبارہ اپنی قوم اور سیاسی سنگت کی رہنمائی کرے گا۔ پھر ہر محفل میں بلند آواز سے نعرہ لگائے گا:
“نعرۂ بلوچ، نعرۂ بلوچستان۔
