وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ آج 6092ویں روز داخل، جبری لاپتہ محمود لانگو کی والدہ اور بچی کی احتجاج میں شرکت

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ آج بروز ہفتہ تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6092ویں روز جاری رہا

اس دوران جبری لاپتہ محمود علی لانگو کے والدہ اور چھوٹی بچی نے احتجاج میں شرکت کی، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا

محمود علی لانگو کے والدہ نے کہا کہ ان کے بیٹے کی کیس لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کردہ حکومتی کمیشن میں زیر سماعت ہے، آج کمیشن کے حکم پر ان کے بیٹے کے بارے میں قائم جی آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر التجا کی، کہ اگر ان کے بیٹے پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے، اگر بےقصور ہے تو ان کی رہائی کو فوری طور پر یقینی بنا کر انہیں ذہنی کرب و اذیت سے نجات دلائی جائے

اس موقع پر وی بی ایم پی کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، کہ ایک شخص کی جبری گمشدگی کی وجہ ان کا پورا خاندان ذہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہو جاتے، جس کی وجہ سے ان کے زندگی کے معمولات شدید متاثر ہوتے ہیں، اس سے ہم انسانی ہمدردی کے بنیاد پر حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محمود علی لانگو سمیت تمام لاپتہ کی بازیابی کو یقینی بنائیں، تاکہ لاپتہ کے لواحقین کو زندگی بھر کی اذیت سے نجات مل سکے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کچھی میں ریاستی حمایت یافتہ افراد کے ٹھکانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی

ہفتہ فروری 28 , 2026
بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ شب سرمچاروں نے کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں پاکستانی فورسز کی حمایت یافتہ سابق ڈی اس پی علی اکبر کے ٹھکانے کو بم حملے کا نشانہ بنایا۔ ترجمان نے کہا کہ ہم علی اکبر کو اور دوسرے ریاستی […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ