مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی: اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑے حملوں کا تبادلہ، خطہ جنگ کے دہانے پر

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست حملوں کے تبادلے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن میں دارالحکومت تہران میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کے قریب علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس دعوے کی تاحال باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد فوری طور پر فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی و مالی نقصان کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہو سکیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ان حساس سرکاری تنصیبات کے خلاف کیے گئے جن میں بعض وزارتیں بھی شامل ہیں۔ ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔

ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق متعدد میزائلوں کی نشاندہی کے بعد ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم نقصانات کے حوالے سے حتمی معلومات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں ریاض، ابوظبی، بحرین اور کویت شامل ہیں۔ تاہم ان حملوں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

عالمی برادری نے خطے میں تیزی سے بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع اور طویل جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مزید سرکاری مؤقف اور تصدیق شدہ معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ آج 6092ویں روز داخل، جبری لاپتہ محمود لانگو کی والدہ اور بچی کی احتجاج میں شرکت

ہفتہ فروری 28 , 2026
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ آج بروز ہفتہ تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6092ویں روز جاری رہا اس دوران جبری لاپتہ […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ