
کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم تنظیم Voice for Baloch Missing Persons کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6088ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپ کی قیادت تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے کی۔
احتجاجی کیمپ کے دوران کامریڈ منظور بلوچ نے شرکت کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے مطالبات کی حمایت کی۔
اس موقع پر جبری لاپتہ محمود علی لانگو کی والدہ اور کمسن بچی نے بھی احتجاج میں شرکت کی اور اپنے بیٹے کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل حکومتی اداروں اور انصاف فراہم کرنے والے محکموں سے رجوع کر رہے ہیں اور پرامن احتجاج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم انہیں تاحال انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود لانگو کی عدم بازیابی کے باعث اہلخانہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
دریں اثنا پنجگور کے علاقے خدابادان سے اویس ولد محمد یار، بختیار اور بلال ولد حاجی محمد حسن کے لواحقین نے بھی تنظیم سے رابطہ کرکے بتایا کہ انہیں سحری کے وقت مبینہ طور پر ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اہلکار گھروں سے تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر گئے ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق نہ تو کوئی سرچ وارنٹ دکھایا گیا اور نہ ہی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ اب تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
تنظیم کے رہنما نیاز محمد نے مطالبہ کیا کہ محمود علی لانگو سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظرعام پر لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے، کیونکہ کسی بھی شہری کو ماورائے قانون حراست میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
