
کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف قائم احتجاجی کیمپ شدید سردی اور موسلا دھار بارش کے باوجود 6082ویں روز بھی جاری رہا۔ یہ کیمپ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم ہے۔
احتجاجی کیمپ کے دوران سماجی و سیاسی کارکن کامریڈ منظور احمد بلوچ نے دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
آج کے احتجاج میں 8 دسمبر 2016 سے جبری طور پر لاپتہ نعمت اللہ کی والدہ نے بھی شرکت کی اور اپنے بیٹے کی باحفاظت بازیابی کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹے کی جبری گمشدگی کمیشن کے سامنے ثابت ہو چکی ہے اور کمیشن کی جانب سے دو سال قبل نعمت اللہ کا پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پروڈکشن آرڈر کے باوجود نہ تو نعمت اللہ کو منظر عام پر لایا گیا ہے اور نہ ہی ان کی خیریت سے متعلق کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس سے انہیں شدید تشویش لاحق ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ ان کے بیٹے کی بحفاظت بازیابی کے لیے کردار ادا کریں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جب عدلیہ یا کمیشن کسی جبری لاپتہ فرد کا پروڈکشن آرڈر جاری کرے تو حکومت کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد کیسز میں پروڈکشن آرڈرز جاری ہونے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہو رہا، جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نعمت اللہ سمیت دیگر جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے جاری پروڈکشن آرڈرز پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور آئینی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔
