
بلوچستان کے نوشکی شہر میں پاکستانی فوج نے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب کے آبائی گھر سمیت دیگر دو گھروں کو بارودی مواد کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔
نوشکی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پاکستانی فورسز نے کئی روز بعد ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ شہر میں داخل ہو کر کرفیو نافذ کر دیا۔ شہر میں دکانیں بند رکھنے اور شہریوں کو گھروں میں محصور رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے نوشکی کے قاضی آباد اور احمد وال کے علاقوں میں دو گھروں کو دھماکوں کے ذریعے مسمار کیا۔ احمد وال میں بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کا آبائی گھر بھی تباہ کیا گیا، جبکہ قاضی آباد میں 2011 سے خالی مکان کو بھی بارودی مواد لگا کر تباہ کیا گیا۔ یہ مکان حاجی عبدالصمد کا تھا جو 2009 میں ہلاک ہوئے تھے، اور ان کا خاندان کئی سال سے خلیجی ملک میں مقیم ہے۔
واضح رہے کہ 31 جنوری کو بی ایل اے نے آپریشن “ہیروف” کے تحت نوشکی سمیت دیگر اضلاع پر کنٹرول حاصل کیا تھا اور چھ روز تک اپنی گرفت برقرار رکھی۔ بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ اس دوران انہوں نے پاکستانی فوج کے متعدد کیمپس اور آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، اور چھ روزہ جھڑپوں میں درجنوں پاکستانی فورسز اہلکار ہلاک ہوئے۔
نوشکی میں اب بھی کرفیو برقرار ہے اور فورسز کی بڑی تعداد شہر میں موجود ہے۔
