
پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گزشتہ سال 25 دسمبر کو جبری طور پر لاپتہ کی جانے والی ہانی بلوچ بازیاب ہوگئے۔ تاہم اسی خاندان کے تین افراد خاتون حائرنسا، مجاہد اور فرید اب بھی لاپتہ ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق ہانی بلوچ کو حب چوکی کے علاقے سے جبکہ حائرنسا، مجاہد اور فرید کو ضلع کیچ کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ ہانی بلوچ کی بازیابی کے بعد لواحقین نے جزوی اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم دیگر افراد کی عدم بازیابی پر شدید تشویش برقرار ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنان اور متاثرہ خاندان نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ باقی لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور ماورائے قانون اقدامات کا سلسلہ بند کیا جائے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں متعدد بلوچ خواتین اب بھی جبری گمشدگی کا شکار ہیں، جن کی تاحال بازیابی عمل میں نہیں آ سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ایک تشویشناک رجحان ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
